غزل کی نیم نگاہی کا قائل.... مصطفی زیدی (1)

غزل کی نیم نگاہی کا قائل.... مصطفی زیدی (1)
غزل کی نیم نگاہی کا قائل.... مصطفی زیدی (1)

  



مصطفی زیدی بیسویں صدی کی اردو شاعری کے معروف و مقبول شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ سید مصطفےٰ حسنین زیدی نے1942ءسے شعر کہنا شروع کیا۔ اس عہد کی زندہ روایت جوش اور مجاز کی رومانوی باغیانہ خطابتی شاعری کی فضا تھی۔ دوسری طرف جگر مراد آبادی، حفیظ جالندھری اور احسان دانش بھی بہت مقبول ہوئے۔ اختر شیرانی کی نظمیں بھی نوجوان نسل کے لئے بہت دلکش تھیں، لیکن مصطفی زیدی کو باغیانہ خطابت اور رومانوی فضا زیادہ پسند آئی۔ دراصل یہ ایک ایسا عہد تھا، جس میں داخلی و خارجی دونوں اعتبار سے پورا معاشرہ مختلف جبریتوں اور بندھنوں کا شکار تھا۔ ایسے میں بغاوت اور عشق جیسے تخلیقی عوامل سیاسی، معاشرتی اور جذباتی گھٹن کو توڑ کر نئی راہ اختیار کر گئے۔ اسی بغاوت، معاشرتی شعور اور عشق کا نتیجہ تیغ (مصطفی زیدی) کی ابتدائی نظمیں ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”زنجیریں“ اس کی مثال ہے۔ زنجیریں سنگم پبلشنگ ہاﺅس الٰہ آباد (بھارت) سے جولائی1947ءمیں شائع ہوا۔ اس کا دیباچہ پروفیسر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے تحریر کیا۔

مصطفی زیدی کے دوسرے مجموعہ کلام ”روشنی“ کا ایک ایڈیشن جو راقمہ کو محترمہ فرحت زیدی نے عنایت کیا ہے، جو مکتبہ ¿ حیات نوالٰہ آباد3سے شائع ہوا۔ یہ کل 100صفحات پر مشتمل ہے۔ مصطفی زیدی کا تیسرا شعری مجموعہ ”شہر آزر“ جنوری1985ءمیں لاہور اکیڈمی لاہور سے شائع ہوا، اس کے بعد ماورا پبلشرز راولپنڈی نے اس کے دو ایڈیشن شائع کئے۔ ” شہر آزر“ بار اول (لاہور اکیڈمی) کے صفحات کی تعداد150 ہے۔ مصطفی زیدی کا چوتھا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ ہے۔ یہ مجموعہ 1960ءمیں لاہور اکیڈمی لاہور نے شائع کیا۔ دیباچہ مصطفی زیدی نے خود لکھا۔ مصطفی زیدی کا پانچواں شعری مجموعہ ”گریبان“ ہے۔ یہ مجموعہ بھی پہلی بار لاہور اکیڈمی لاہور نے1964ءمیں شائع کیا، ابتدا لوئی میک نیس کی ایک نظم سے ہوتی ہے۔ ”قبائے ساز“ مصطفی زیدی کا چھٹا شعری مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ آدم جی ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا، مگر انعام کی حق دار ادا جعفری کی کتاب ٹھہری۔ مصطفی زیدی کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ ساتواں اور آخری مجموعہ ” کوہِ ندا“ مصطفی زیدی کی وفات کے بعد1971ءمیں کتب پرنٹر و پبلشرز لمیٹڈ کراچی سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کی کتابت سید تہذیب حسین نقوی نے کی۔

مصطفی زیدی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں، مگر ان کی غزل بھی کم از کم نظر انداز کی جانے والی نہیں ہے، بلکہ غزل میں بھی وہ ایک صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کی غزل کی لذت اور انفرادیت انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اس مضمون میں ان کے مجموعہ ¿ کلام ” شہر آزر“ کی غزلوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ”شہر آزر“ کی غزلوں میں شاعر کا اپنے قلم پر اختیار کا احساس دکھائی دیتا ہے۔ اس مجموعے کا شاعر اپنی چند غزلوں میں بھی اپنی نظموں کی طرح فنی مہارت اور شعور کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ان غزلوں میں تفاصیل کی جگہ تفاصیل ہیں اور ایجاز واختصار کے تقاضوں کے مطابق ایجاز و اختصار سے پختہ کاری کا ثبوت دیا گیا ہے۔ ”شہر آزر“ کی غزلوں میں نئے پن کی تلاش نہیں ہے، مگر تازگی کا احساس ہے، اس لئے کہ مصطفی زیدی اپنے حال میں زندہ رہتے ہوئے سچ بولتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فن کی بنیاد حقیقت صداقت اور دیانت پر رکھی اور اس کے باوجود فن کے جمالیاتی مطالبات کو نہ صرف پورا کیا، بلکہ انہیں اور نکھارا، احمد ندیم قاسمی اس سلسلے میں یوں ر قم طراز ہیں:

”مصطفی زیدی شعرا کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے شاعری کو سچ بولنا سکھایا۔ سچ بولنا ہر صورت میں مشکل ہے۔ جب معاشرے کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو۔ سچ بولنا، شیش محل پر پتھر مارنے کے مترادف ہے اور ظاہر ہے کہ ہر معاشرے میں اس کی ایک سزا مقرر ہے، جس شخص کو یہ سزا قبول ہو، وہی سچ بولنے کا حوصلہ کر سکے گا، پھر اپنے بارے میں سچ بولنا تو اس سے بھی زیادہ دشوار مرحلہ ہے، یقینا تہذیب کے بعض مثبت پہلو بھی ہیں، مگر اسی تہذیب نے ہمیں اپنے چہروں اور شخصیتوں پر خول چڑھائے رکھنا بھی سکھایا ہے۔ اس طرح جب ہم اپنے بارے میں سچ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی راز فاش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی صدیوں پرانے معاشرتی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور معاشرتی ضابطوں کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے، چنانچہ معاشرے کے حوالے سے اپنے بارے میں سچ بولنا سر کو ہتھیلی پر رکھ لینا ہے۔ اسی لئے جب مَیں یہ کہتا ہوں کہ مصطفی زیدی شاعروں کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جس نے اُردو شاعری کو سچ بولنا سکھایا تو اس سے میرا مطلب یہ ہے، کہ انہوں نے اردو شاعری کو حوصلہ مندی اور جرا¿ت، حقیقت اور صداقت، انصاف اور دیانت کی قدروں سے روشناس کیا“۔

اس حقیقت پسندی اور سچائی کی مثالیں ”شہر آزر“ کی غزلوں میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں:

فرقت کے شب و روز میں کیا کچھ نہیں ہوتا

قدرت پہ ملامت بھی، دُعائے سحری بھی

اک فرد کی الفت تو بڑی کم نظری ہے

ہے کس میں مگر اہلیتِ کم نظری بھی

....................

دل کے رشتے عجیب رشتے ہیں

سانس لینے سے ٹوٹ جاتے ہیں

....................

آج شہر لندن میں معرکے کی صورت ہے

اک طرف تمہاری یاد ایک طرف صنم خانے

یہ سچ ہے کہ ان آنسوﺅں کی چمک میں وہ راتیں وہ صبحیں ابھرتی رہی ہیں:

شب و روز کا یہ چراغاں مگر اک تری یاد پر منحصر بھی نہیں تھا

زمانہ بہ دستور ہنستا رہے گا زمیں حسب ِ معمول جلتی رہے گی

اکیلے سفر کا اکیلا مسافر اس انجام سے بے خبر بھی نہیں تھا

مصطفی زیدی بنیادی طور پر اردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے پیدا ہونے والے شعرا میں سے ہیں۔ اُردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے تعلق رکھنے والے شاعر کا خمیر غزل سے اٹھتا ہے۔ چاہے ان کی شاعری میں غزلوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ انہیں غزل کا مشہور اور اہم شاعر مانا جائے یا نہ مانا جائے۔ مصطفی زیدی کا شمار ایسے ہی شاعروں میں ہوتا ہے، لیکن ان کی غزلوں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ غزل کے ایک اچھے شاعر ہیں۔ چند مثالیں ”شہر آزر“ کے حوالے سے یہ ہیں:

یہاں ہم اپنی تمنا کے زخم کیا بیچیں

یہاں تو کوئی ستاروں کا جوہری بھی نہیں

....................

کچھ مَیں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی

دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں

میرا تو جرم تذکرہ¿ عام ہے، مگر

کچھ دھجیاں ہیں میری زلیخا کے ہات میں

....................

یوں تو تم سے اپنی انا میں ہم نے کہا کیا کچھ لیکن

تم جاتے تو کیا رہ جاتا، ہم جاتے تو جاتا کیا

....................

انھی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آﺅ

میرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

....................

اک پیشہ عشق تھا سو عوض مانگ مانگ کر

رسوا اسے بھی کر گئی سوداگروں کی ذات

ڈرتا ہوں یوں کہ سچ ہی نکلتے ہیں بیشتر

اس کاروبارِ شوق میں دل کے توہمات

 مصطفی زیدی کی غزلوں میں فنی شعور اساتذہ کے عظیم تجربوں کے مطالعے سے آیا ہے۔ وہ ماضی و حال دونوں سے واقف ہیں اور اپنی بھرپور تخلیقی قوت پر فنی تنظیم کی مہر ثبت کرتے ہیں، روانی ان غزلوں میں بھی موجود ہے۔ بقول پروفیسر سجاد باقر رضوی

”.... ان کی اس عہد کی شاعری میں کاوش کم معلوم ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے گویا شعر خودبخود ان پر وارد ہوتے ہیں“۔

(جاری ہے)  ٭

اس سلسلے میں انھوں نے جن اشعار کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

راتوں کو کلی بن کے چٹکتا تھا ترا جسم

دھوکے میں چلی آئی نسیم سحری بھی

....................

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے

اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے

ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے

....................

تھوڑی سی دیر صبر کہ اس عرصہ گاہ میں

اے سوزِ عشق ہم کو ابھی کام بہت ہیں

شہر آزر میں رنگ ِ میر اور اثرات ِ میر کے آئینہ داربھی چند اشعار ملتے ہیں:

کچھ میر کے حالات پڑھو، خوف کرو تیغ

لے دے کے بس اک عزتِ سادات رہی ہے

اور رنگ ِ میر میں یہ پوری غزل مثال بن سکتی ہے:

ہم نے تو کتنا سمجھایا، پی لو، سمجھو بھول ہوئی

شیخوں کی اس دور میں حالت جو بھی ہوئی معقول ہوئی

اس غزل میںیہ شعر میر کی لفظیات لئے ہوئے ہے:

لو بھائی ہم نے بھی آخر قشقہ کھینچا بیٹھ رہے

دیر نہیں تو خیر سے اس کے دروازے کی چول ہوئی

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کلامِ میر کی ایک خوبی یہ بتائے ہیں:

”.... میر کی زبان میں اسمائے صفات کی طومار نہیں“۔

اسمائے صفات کی طومار بعض اوقات ابلاغ کو مشکل بنا دیتی ہے۔    (جاری ہے)

مزید : کالم