قربانی کا ارادہ: صفائی کے وعدے کے ساتھ

قربانی کا ارادہ: صفائی کے وعدے کے ساتھ

  



پاکستان میں ہر سال عید الاضحی کے موقع پر تقریباً 10 ملین جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے، جن کی قیمت کا تخمینہ 3 بلین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ عید کے تینوں دن جانوروں کی قربانی کے نتیجے میں آلائشوں اور فضلے کی صورت میں اتنی گندگی پیدا ہوتی ہے جسے ٹھکانے لگانے کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لوگ جانوروں کے چارے اور فضلے کو تو پہلے ہی ٹھکانے نہیں لگاتے، قربانی کے بعد آلائشوں کو بھی کھلے عام گلی کی نکڑ، خالی پلاٹ یا نالے میں پھینک دیتے ہیں، جو تب تک وہیں پڑا گلتا سڑتا رہتا ہے، جب تک کہ آوارہ جانوراور پرندے انہیں نوچ نہیں کھاتے۔ ان کی بدبو اور سڑاند سے جینا دُوبھر ہو کر رہ جاتا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر قربانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے اداروں کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، وہ تو بھلا ہو جانوروں اور پرندوں کا جو ان آلائشوں کو اپنی خوراک بنالیتے ہیں یا پھر جھگیوں کے مکینوں کا ، جو آنتوں سے”تندی“ بناتے ہیں، ورنہ ہمارا کوئی پُرسانِ حال نہ ہو۔ شہری حکومتیں بھی اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ انتظامات کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ چھوٹے شہروں میں تو صورت حال سنگین تر ہے، جس طرح معمول میں شہر کے کوڑے کو اکٹھا کر کے شہر سے باہر کسی گہری جگہ پھینک دیا جاتا ہے ، جانوروں کی آلائشوں کے ساتھ بھی یہی کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے قدرتی ماحول اور انسانی صحت پر دورس اثرات کیا ہوتے ہیں، یہ الگ روداد ہے۔ عید قربان پر زیادہ سے زیادہ ثواب سمیٹنے کی فکر تو سب کو رہتی ہے، لیکن اس مسئلے پر کسی سطح پر بھی کان دھرنا گوارہ نہیں کیا جاتا۔

گزشتہ برس اس ضمن میں لاہور میں تبدیلی کی لہر آئی۔ ترک کمپنیوں کی معاونت سے صفائی کے شعبے کو چلانے والی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے شہریوں کو خوشگوار و اطمینان بخش احساس دیا۔ عید قربان کے تینوں دن شہر بھر کی گلیوں سے آلائشوں اور گندگی کو اس قدر جلد اور پیشہ ورانہ انداز میں ٹھکانے لگایا گیاکہ شہر میں بڑی عید کا تو سماءنظر آیا، لیکن کہیں گندگی ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکی۔کمپنی انتظامیہ کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے ایک حکمت عملی کار فرما ہے، مثلاً جانوروں کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے 4 لاکھ خصوصی پلاسٹک بیگ تیار کروا کرشہریوں میں تقسیم کئے گئے ۔ کمپنی کی طرف سے عید سے قبل شہر کی اہم مارکیٹوں ،گلیوں، بازاروںاور تعلیمی اداروں میں صفائی آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں شہریوں کو مناسب طریقے سے ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے رہنمائی دی گئی اور ان سے صفائی کے عمل میں تعاون کی اپیل کی گئی ۔ عید کے تینوں دن ادارے کے 11ہزار ملازمین ڈیوٹی پر موجود رہے، جنہوں نے دن رات محنت و لگن سے کام کیا اور بڑی عید پر صفائی کے چیلنج سے کامیابی سے نبرد آزما ہونے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ایل ڈبلیو ایم سی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم اجمل چودھری، جو کمپنی کے 2010ءمیں قیام سے انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ کمپنی نے اس عید قربان پر بھی شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لئے بے حد تیاریاں کی ہیں۔ ہمارا مقصد شہر میں پیدا ہونے والے زیادہ سے زیادہ ویسٹ کوبر وقت اور احسن انداز میں اکٹھا کرنا اور اسے ڈمپ سائٹ تک منتقل کرنا ہے۔ اس عمل میں ہمار ی ذمہ داری کے علاوہ شہریوں کے کردار کا بھی بہت عمل دخل ہے ۔شہری اپنے ویسٹ کو جگہ جگہ پھیلانے سے گریز کر کے ورکر کا کام آدھا کر سکتے ہیں اور نتیجے میں صاف ستھرے ماحول سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کے لئے پلاسٹک کے خصوصی لفافے متعارف کرائے ہیں۔ عیدکے دنوں میں ہمارے 11ہزار ورکر 1500 گاڑیوں اور مشینری کے ساتھ شہر کی 150 یونین کونسلوں کی ہر گلی میں ہوں گے اور اہل لاہور کو ناگواریت کے احساس سے بچانے کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہےںگے۔

وسیم اجمل چودھری مزید کہتے ہیں کہ صاف ستھرے شہر کا خواب کمیونٹی کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، اسی لئے ہم نے قربانی کے جانوروں کی خریداری سے ہی لوگوں کو صفائی سے متعلق آگاہی دینے کا کام شروع کیا ہے۔ شہر کی 7بکر منڈیوں میں صفائی کے عملے کے ساتھ آگاہی ٹیمیں بھی سرگرمِ عمل کر دی گئی ہیں جو قربانی کا جانور خریدنے والوں کو صفائی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ بکر منڈیوں میں موجود ٹیمیں قربانی کا جانور خریدنے والوں کا ڈیٹا بھی تیار کرتی ہیں تا کہ عید پر قربانی کا ممکنہ اندازہ رکھا جا سکے۔ہم نے صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف فکر کے حامل دینی علمائے کرام کو بھی اکٹھا کیا ہے کہ وہ بھی شہریوں کو صفائی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے متحرک کریں۔ علاوہ ازیں ماہرین ماحولیات،علمی و تعلیمی شخصیات، صحافیوں واخبار نویسوں، غرض ہر طبقہ فکر تک رسائی حاصل کی گئی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لاہور میں صفائی کے شعبے میں بہتری ایک حوصلہ افزا امر ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر شہر اس نظام سے محروم ہیں۔ان شہروں میں صفائی کے شعبے کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق لاہور کی طرز پر پنجاب کے دیگر 7 بڑے شہروں میں بھی جدید صفائی کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جو ترک کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس سال کے اختتام تک کام کا آغاز کر دیں گی۔اس سے پنجاب میں تو تبدیلی کی لہر آگے بڑھنے کی امید پیدا ہوئی ہے، مگر پاکستان کے دور دراز شہروں کا کیا ہوگا، جہاں ٹاﺅن یا شہری انتظامیہ ارباب اختیار کی توجہ کی طالب ہیں، بالخصوص پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں کراچی، کوئٹہ، خیبر پختون خوا اور دیگر بڑے شہروں کو بھی صفائی کا بہتر نظام دینے کی اشد ضرورت ہے، تا کہ عید الاضحی جیسے بڑے دنوں پرہمیں گندگی جگہ جگہ پھینکنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور تمام اہل ِ پاکستان بلا تفریق صاف ستھرے ماحول میں عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوسکیں۔     ٭

مزید : کالم