لیجنڈ حمید اختر:جو اپنے درمیاں سے ہٹ گئے

لیجنڈ حمید اختر:جو اپنے درمیاں سے ہٹ گئے
لیجنڈ حمید اختر:جو اپنے درمیاں سے ہٹ گئے

  

(حمید اختر کی تیسری برسی کے موقع پر خصوصی تحریر)

یاد ش بخیر ! کوئی 7/8برس پہلے کی بات ہے ، عید الفطر کی صبح تھی، اس روز 10بجے سے 12بجے دوپہر تک مجھے بحیثیت ایگزیکٹو پروڈیوسر پاکستان ٹیلی ویژن پراپنے نیوز چینل کے لئے 2گھنٹے کا لائیو شو لاہور سے On Airدینا تھا۔میرے مدعو مہمانوں میں ممتاز صحافی ، دانشور، کالم نگار حمید اختر، منو بھائی ، اصغر ندیم سید، شاعر جان کاشمیری، شوبز جرنلسٹ طفیل اختر ماضی کی معروف اداکارہ صابرہ سلطانہ ، گلوکارجواد احمد اور کچھ دیگر دئیے ہوئے وقت کے مطابق یکے بعد دیگرے تشریف لا رہے تھے ۔ مَیں شو کے پینل پروڈیوسرعارف یونس کے ساتھ پی ٹی وی کی لابی میں کھڑا مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں میک اپ (پفنگ)کے مرحلے سے گزار کر سٹوڈیو زمیں ان کی نشستوں پر بٹھا رہا تھا، سب مہمان تشریف لا چکے تھے ، بس منو بھائی اور حمید اختر صاحب کا انتظار تھا، پھر یہ حسن اتفاق تھا کہ ایک ہی وقت میں دونوں کی گاڑیاں پی ٹی وی کی حدود میں داخل ہوئیں۔عارف نے ٹی وی کی لابی سے باہر نکل کر دونوں کو خوش آمدید کہا ، حمید اختر صاحب کے ہاتھ میں 4/5کتابیں تھیں، مَیںنے حمید اختر صاحب سے کتابوں کی بابت کوئی بات نہیں کی ،تاہم میرا خیال اور تاثر یہ تھا کہ وہ شاید یہ کتابیں ریفرنس اورکسی حوالے سے پروگرام میں دکھانے کے لئے لائے ہیں۔ بہر طور جب انہیں ان کی مخصوص نشست پر بٹھایا گیا تو ان کے سامنے موجود میز پر وہ کتابیں بھی رکھ دی گئیں۔

 شو اپنے مقررہ ووقت پر شروع ہو کر ختم ہو گیا، مگر میز پر موجودکتابوں کا کوئی تذکرہ نہ ہوا۔ شو کے اختتام پر مَیں اورمیرا ساتھی پروڈیو سر عارف کنٹرول روم سے نیچے سٹوڈیوزمیں آگئے تو مہمانوں سے شو اور دیگر موضوعات پر دلچسپ INFORMAL گپ شپ شروع ہوگئی، جس کا تذکرہ مَیں آئندہ کسی وقت کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔ بہر حال دوران گپ شپ چائے پیتے ہوئے حمید اختر ایک دم نشست سے کھڑے ہو گئے ، کتابیں اٹھائیں اورمجھے انتہائی پیار محبت اور شفقت سے تھماتے ہوئے کہا:”یہ تمہاری عید ہے“ ۔ ظاہر ہے کہ کتابوں کی صورت میں عیدی وصول کرکے میں بے حد مسرور ہوا۔ اس پر میرے ساتھی پروڈیوسر عارف یونس نے حمید اختر سے ایک عجیب و غریب بات چھیڑ دی، عارف نے کہا کہ ” سر ! کتاب دوست اور کتابوں سے محبت کرنے والے تو اپنے شیلف میں آئی ہوئی کتاب کسی کو پڑھنے کے لئے بھی نہیں دیتے، مگر آپ افتخار مجاز صاحب کو اکثر کتابیں دان کرتے رہتے ہیں، بڑا حوصلہ ہے آپ کا“....حمیداختر کہنے لگے:”میاں ! اس کی وجوہات اور اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ مجھے مصنفوں اور ناشروں کی طرف سے لا تعداد کتابیں موصول ہوتی ہیں ،جبکہ میرے پاس تو رہنے کو بھی اپنا گھر نہیں، اس لئے کتابیں رکھنے کے لئے میرے پاس زیادہ جگہ ہی نہیں یوں اگر مَیں یہ موصول ہونے والی تمام کتابیںموجود شیلفوں میں رکھنا شروع کر دوں تو پھر مجھے غالب، فیض، اقبال، میر ، مومن اور دیگر بڑوں کی کتابیں شیلفوں سے نکالنا پڑیں گی، جو کہ ظاہر ہے کسی بھی طرح ممکن نہیں۔

ایسی صورت میںچونکہ کتابوں کا بہترین مصرف یہ ہوتا ہے کہ یہ کتابیں پڑھنے کے شوقین ، مطالعہ کے رسیا اور کتاب دوستوں کو دان اور پیش کر دی جائیں، اسی لئے مَیں گاہے گاہے افتخار مجاز کے ذوق مطالعہ کو ملحوظ رکھ کر اس کے لئے Selectedکتابیں لے آتا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران ہمارے ایک سینئر پروڈیوسر (جن کا نام میں بوجوہ یہاں نہیں لکھ رہا ) تشریف لا کر بات چیت میں شامل ہو چکے تھے، جونہی حمید اختر صاحب کی گفتگو ختم ہوئی، اپنی موجودگی اور حسن طلب کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے، جی میرے والد صاحب کو بھی مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور ہمارے گھر میں8/10توڑے(کتابوں کے)پڑے ہوئے ہیں۔ اس پر منو بھائی( جو ہنوز چپ تھے) کی رگ ظرافت پھڑ کی اور برجستہ کہنے لگے ،عید گزر جانے دو مَیں بھی آٹے کا توڑا لے دوں گا۔ اس پر ایک بھرپور قہقہہ بلند ہوا........ میرے ساتھی سینئر پروڈیوسر بھی کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے۔ ایسے میں حمید اختر صاحب کی جہاندیدہ نظروں نے میرے اس رفیق کار کی کیفیت بھانپ لی اور میرے ہاتھ میں سے ایک کتاب لے کر اس کی طرف بڑھا دی۔ اس پر منو بھائی نے دوبارہ فقرہ چست کیا کہ اب آٹے کا توڑا لینے میرے گھر نہ آجانا۔

بہر طور یہ تو تذکرہ تھاحمید اختر صاحب کا، ان کی شفقت و محبت اور کتاب دوستی کا،مگر مَیں یہاں کچھ باتیں ان کی کالم نگاری کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں۔ حمید صاحب کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ادبی، صحافتی اور سیاسی سفر کا آغاز تو اوائل عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ ان کے دوست ، احباب اور یاران محفل سب ممتاز اور جانے پہچانے ادیب، شاعر، دانشور اور سیاسی کارکن تھے، چنانچہ انہیں جو ماحول میسر آیا، اسی باعث وہ جلد ہی صاحب طرز ادیب، صحافی اور سیاسی کارکن کے طور پر پہچانے جانے لگے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے باقاعدہ کالم نگاری کاآغاز بہت بعد میں، بلکہ خاصی تاخیر سے کیا، تاہم پھر کالم نگاری کی Lateنکالتے ہوئے ایسے انمٹ نقوش مرتب کئے کہ ان کی پہچان کا بڑا حوالہ ان کی یہی منفرد کالم نگاری بن گئی ۔

حمید اختر صاحب کے حوالے سے مَیں اپنی گزشتہ کئی تحریروں اورکالموں میں ان کے مزاج کی شگفتگی ، کھلے ڈلہے پن ، برجستگی اوربے ساختگی کے حوالے سے کئی دلچسپ واقعات کا تذکرہ کر چکا ہوں، اس لئے ان سطور میں،مَیں ان کی کالم نگاری کو موضوع بنانے کا خواہشمند ہوں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے فن ، خواہ افسانے ہوں، خاکے ہوں،ان کی جیل کی یادیں ہوںیا کالم نگاری،ان کے درمیان حد فاصل نہیں کھینچی جا سکتی ۔ ان کی تحریریں واقعتا ان کی زندگی اور شب و روز کی مکمل طور پر عکاس ہیں۔ جیل جانے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے رہائی کے بعد اپنی جیل یا تراکی کہانی لکھتے ہیں تو خود کو تیس مار خاں، پھنے خاں اور ٹیپو سلطان بنا کر پیش کرتے ہوئے بہادری کے جھوٹے قصے لکھ کر شاید اپنی انا کو تسکین دیتے ہیں ،مگر حمید اختر نے جب اپنی جیل کی یادیں ”کال کوٹھڑی“ کے نام سے لکھیں تو یادوں کو فِکش نہیں بنایا، بلکہ بیتے لمحوں کی عکسی تصویرقارئین کے سامنے رکھ دی۔

اب آپ ان کی تحریر کا یہی ٹکڑا دیکھئے.... ”ایک روز مَیں تنہائی سے تنگ آکر بوکھلا گیا، شام کو ڈپٹی صاحب آئے تو مَیں نے ان سے کہا ،”جناب عالی!مَیں اس تنہائی سے پاگل ہو جاﺅں گا ۔مَیں نے کوئی سنگین جرم نہیں کیا، میرے وارنٹ پر قید تنہائی کی سزا نہیں لکھی۔ مجھے سیفٹی ایکٹ میں نظر بندکرنے کا وارنٹ ہے، قید تنہائی میں ڈالنے کے لئے نہیں لکھا ہوا ، اگر مجھے مارنا ہی ہے تو ایک ہی دن مار کر قصہ ختم کر دیجیے۔ڈپٹی صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد بظاہر ہمدردانہ لہجے میں کہا: ” تمہارے وارنٹ پر تنہائی کی قید نہیں لکھی ہوئی، مگر تمہاری تنہائی آٹو میٹک قسم کی ہے، کیونکہ نظر بندوں کے قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہیں دوسرے قیدیوں سے نہ ملنے دیا جائے ، اب کوئی اور سیاسی قیدی آجائے تو اسے تمہارے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تو اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ مَیں نے کہا: ” خدا کے لئے کسی اورکو گرفتار کرائیے یہ اہالیان ملتان اس قدر مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں؟ کوئی صاحب دل اس شہر میں ایسا نہیں ہے کہ جو ایک تقریر کرکے گرفتار ہو جائے ۔ مولوی مودودی کے کسی چیلے کو ہی پکڑ لائیے، کوئی انسان تو ہو جس سے بات کر سکوں، مگر افسوس کہ نہ ڈپٹی صاحب میری بات مانے اور نہ ملتان شہر نے کوئی ایسا صاحب دل پیدا کیا، پھر مَیں نے علامہ اقبال ؒ کے اس مصرع کا ورد کرنا شروع کر دیا:

” یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری“

متذکرہ بالا اقتباس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا کہ فیض احمد فیض کے اس دوست حمید اختر نے فیض ہی کی طرح جو بیتی ویسی ہی رقم کر دی ، مولا جٹ بننے کی سعی نہیں کی۔ اب ان کے کالم کا ایک اور ٹکڑا ملا حظہ کیجیے.... ”پچیس تیس برس قبل مرحوم دوست عبداللہ ملک کی حج سے واپسی کا زمانہ یا د آرہا ہے، وہ اپنی بیگم عائشہ کے ساتھ حج سے لوٹے تھے ، ہم اورآئی اے رحمن انہیں مبارکباد دینے گئے۔ چند ابتدائی کلمات کے بعد رحمن صاحب نے عائشہ سے پوچھا : ”بھابھی آپ نے شیطان کو کنکریاں بھی ماریں“؟ اس پر بیگم عبداللہ ملک نے بڑے فخر سے کہا: ہاں شیطان کو کنکریاں بھی ماریں....رحمن صاحب نے فوراً کہا:“اس کے لئے آپ کو اتنی دور جانے کی کیا ضرورت تھی ، یہ کام تو آپ گھرپر بھی کر سکتی تھیں“....دوستوں کے درمیان فقرے بازی کے بیان پر آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا، جس کا اظہار مندرجہ بالا اقتباس سے بھی ہو رہا ہے۔ اسی طرح کردار نگاری کی ثقافت، رہن سہن کے حوالے سے لکھے ہوئے ان کے کالم بھی اپنی مثال آپ ہیں، ملاحظہ کیجیے: ”کیسے کیسے لوگ “ کے زیر عنوان لاہور کے ایک مشہور کردار کا بیان اور واقعہ نگاری کتنی عمدگی سے کرتے ہیں۔

”خودغرض دنیا اور نفسانفسی کے اس زمانے میں ایسے لوگوں کا وجود غنیمت ہے اوردکھوں اور مصائب و مشکلات میں گھرے ہوئے اس زمانے میں دست گیری کرنا ہمارا فرض بنتا ہے، ایسے ہی اور بہت سے لوگ ہیں جو اپنی شخصی خوبیوں کی وجہ سے اپنے آس پاس رہنے والوں کو جینے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غربت، بے روزگاری اور دنیاوی مشکلات کے باوجود جن کی حس مزاح قائم رہتی ہے، ان میں ایک کردار ہمیں یاد آرہاہے جو امرتسری تھا مگر قیام پاکستان کے بعد لاہور میں رہائش پذیر ہو گیا تھا، اس کا نام کسی کومعلوم نہیں تھا، کیونکہ وہ اپنا تعارف اس طرح کرایا کرتا تھا!”خاکسارکو حاجی حرام دا“ کہتے ہیں وہ گوالمنڈی میں شام کو سری پائے کی ریڑھی لگاتا اور دن کو پاک ٹی ہاﺅس اور لاہور کے دوسرے ادبی اڈوں پر شعر، فلسفے اور تاریخ پر بحث کرتا۔ ایک مرتبہ اس کے کسی دوست نے اپنے جاننے والے کو اس کے نام خط دے کر بھیجا،یہ شخص بڑی تلاش کے بعد اس کے پاس پہنچا اور پوچھا: ”حاجی حرام زادہ آپ ہی ہیں“ تو وہ بہت بگڑا،پھرآنے والے سے کہا کہ تمہیں میرے دوست نے نہ بھیجا ہوتا تو تمہیں مَیںاپنا نام بدلنے کی کوشش کا مزہ چکھادیتا“۔

اپنے اس کالم میں انہوں نے حاجی ”حرام دا“ کے اور بھی کئی دلچسپ واقعات لکھ کر ہمارا اس سے مکمل تعارف کرا دیا ہے جو حمید اختر صاحب کے طرز اظہار کا منفرد نمونہ ہے۔ میرا قلم ان کی محبتوں اور ان کی خدمات کو خراج پیش کرنے سے عاجز ہے مَیں تو صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک لیجنڈ (Legend)ہیں۔ حرف آخرکے طور پر معروف شاعر دوست جناب سرفراز سید کے لفظوں میں، مَیں صرف یہ کہوں گا:

کیسے کیسے فاصلے چشم زدن میں کٹ گئے

کیسے کیسے لوگ اپنے درمیاں سے ہٹ گئے

مختصر اتنی سی ہے بس رابطوں کی داستاں

گھر سے تو مل کے چلے تھے راستے میں بٹ گئے

(خط و کتابت کے لئے رابطہ: 515Eنظام بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور)۔

مزید :

کالم -