پاک سرحد کے ساتھ بھارتی جنگی مشقیں

پاک سرحد کے ساتھ بھارتی جنگی مشقیں
پاک سرحد کے ساتھ بھارتی جنگی مشقیں

  


بھارت نے راجستھان میں پاکستانی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کی تیاری شروع کردی ہے جس کا آغازرواں ماہ میں ہوگا۔بھارت پاکستانی سرحد کے ساتھ کی جانے والی جنگی مشقوں کے دوران جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بھاری اسلحہ اور ڈرون کا بھی استعمال کرے گا جب کہ ان مشقوں میں 30 ہزار فوجی حصہ لیں گے۔ ان جنگی مشقوں کے دوران پہلی بارسیٹلائٹ اور ڈرون کے ذریعے دوسری جانب کے علاقوں کی لی گئی تصاویر کے مطابق بھارتی فوج مشقیں کرے گی جب کہ پیرا شوٹر کو حریف کی سرحد میں اتارنے کی بھی مشق کی جائے گی۔بھارت نے اس سال پاکستان کیخلاف مختلف جنگی مشقوں کے ذریعے بہت تیاری کی ہے۔بھارت کے پاس تین سٹرائیک کورز ہیں اور یہ مشق 21ویں کور کررہی ہے جو بھارت کی سب سے زیادہ مؤ ثرسٹرائیک کور شمار ہوتی ہے۔کور کے علاوہ جنوبی ہند کے تمام ٹروپس بھی مشق میں شامل ہیں۔ اس میں 30ہزار ٹروپس اور سینکڑوں کے حساب سے T.72,اورT.9 ٹینک حصہ لے رہے ہیں۔اسکے علاوہ آرٹلری گنز، ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم بھی شامل ہیں۔جنگ اور وقت کی کمی کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے ان تمام ہتھیاروں کے استعمال کی افیشنسی چیک کرنے کے لئے سٹیلائیٹ ، ڈرونز ، گراؤنڈ اور ائیر بورن راڈار کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی جنگی مشق ہے اور اسکی خصوصی بات یہ ہے کہ اس میں ایک فرضی جنگی لائن کھینچ کر اس سے آگے دشمن کا علاقہ تصور کیا گیا ہے اور اس فرضی دشمن کے علاقے میں چھاتہ برادر فوج کے جوان گرائے جائینگے جو دشمن کے پلوں یا دیگرٹارگٹس کو نقصان پہنچائیں گے۔

پینتیس سال قبل بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت اس امر پہ متفق تھی کہ چین کی طرف سے حملوں کا خطرہ بہت کم ہے تاہم وہ مستقبل میں چیلنج بن سکتا ہے۔ لہٰذا بھارتی قیادت نے فیصلہ کیاکہ چین کے خطرہ بننے تک پاکستان کو سیاسی ، معاشی، عسکری اور سفارتی معنی میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے تاکہ وہ کمزور ہو کر بھارت کا مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ کام را کے ایجنٹوں اور پاکستانی غداروں کی مدد سے انجام دینے کا فیصلہ ہوا۔اس زمانے میں بھارتی عسکری قیادت کا خیال تھا کہ جب بھی پاکستانیوں سے جنگ چھڑی، ان کے قلب میں تیزی سے پہنچ کر پاکستان کو دو حصّوں میں چیر دیا جائے گا۔ یوں پاک افواج مقابلے کی سکت نہ پا کر شکست تسلیم کر یں گی، مگر 1985ء تک بھارتی حکمرانوں پر منکشف ہو گیا کہ پاکستان ایٹم بم بنا چکا۔ اس انکشاف نے درج بالا حکمت عملی کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ وجہ یہی کہ ایٹم بم ہونے کے باعث اب پاکستان منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں آ گیا تھا۔

لہٰذا بھارتی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک پندرہ سالہ توسیعی منصوبہ تشکیل دیا۔ اس منصوبے کا مقصد بھارتی افواج کی تعداد بڑھانا اور اسے جدیدجنگی سازو سامان سے لیس کرنا ہے۔ اس منصوبہ کو انجام دینے کے لئے ہی 2012ء اور 2013ء میں بھارت کے دفاعی بجٹ میں یک دم اربوں روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ 2014ء میں ، بی جے پی برسراقتدار آئی تو اس نے نئی عسکری حکمت عملی کی بنیاد رکھی۔ یہ ’’جارحانہ دفاع‘‘ کہلاتی ہے جس کا دوسرا نام ’’مودی دوال ڈاکٹرائن ‘‘ بھی ہے۔بھارتی حکمران اس حکمت عملی کی مدد سے مملکتِ پاکستان کے خلاف خفیہ و عیاں حملے کر کے اسے زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا چاہتے ہیں۔دوسری سمت وہ اپنی افواج کو نہایت طاقت ور بنا رہے ہیں۔ آج بھارت عالمی مارکیٹوں سے اسلحہ خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا۔اسی باعث اس کا جنگی بجٹ ’’40کھرب روپے‘‘ تک پہنچ چکا جبکہ پاکستان کا ’’7 کھرب 81 ارب روپے‘‘ والا بجٹ اس کے سامنے معمولی نظر آتا ہے۔

موجودہ بھارتی حکمران تمام تر جنگی تیاریاں اسی لئے کر رہے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کو نیچا د کھایا جا سکے، لیکن بھارتی حکمران بھول جاتے ہیں کہ جنگ میں جدید ترین اور وافر اسلحہ کام نہیں آتا۔ سب سے زیادہ ضروری فوج کا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ یا ذہنی ساخت ہے۔پاک افواج نہ استعماری قوت ہیں اور نہ ہی دوسروں پر دھونس جمانا چاہتی ہیں۔ ان کی ذہنی ساخت یہ ہے کہ ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع کیا جائے۔ گویا وہ مثبت جذبہ رکھتے ہیں۔ جبکہ بھارتی حکمران استعماری عزائم رکھتے اور خصوصاً جنوبی ایشیا کے آقا بننا چاہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی افواج اپنے حکمرانوں کی اس شرانگیز اور منفی ذہنی ساخت پر ڈھل سکیں گی یا نہیں!بھارت ویسے بھی اپنے آپ کو علاقے کا چوہدری سمجھتا ہے اور اپنے تمام پڑوسیوں کو انگوٹھے کے نیچے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے متعلق تو بھارت کی روز اول سے ہی یہ خواہش ہے کہ خدانخواستہ پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کیا جائے۔بھارتی لیڈرز بھی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ موجودہ بھارتی وزیر اعظم نر یندرامودی تو منتخب ہی پاکستان دشمنی پر ہوا ہے۔ *

مزید : کالم


loading...