اوروں کا ہے پیام اور،میرا پیام اور ہے!

اوروں کا ہے پیام اور،میرا پیام اور ہے!
اوروں کا ہے پیام اور،میرا پیام اور ہے!

  


فوج سے1996ء میں ریٹائر ہو جانے کے بعد اب تقریباً20برس ہو رہے ہیں۔ ان طول طویل برسوں میں میرا مقصدِ حیات وہی رہا ہے جو میرے کالم کا عنوان (شمشیرو سناں اول) ہے۔اگرچہ پاکستانی معاشرے کو لاحق بہت سی دوسری علالتوں پر بھی کبھی کبھار قلم اٹھانے کی جسارت کر لیتا ہوں، لیکن اس فیلڈ میں، مجھ سے بہتر (اور بہت ہی بہتر) لکھنے والے موجود ہیں۔ اللہ کریم ان کو جزائے خیر دے۔ میرا مقصدِ وحید تو یہ رہا ہے کہ اُردو زبان کی تنگنائے میں ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی عسکری سمندروں کی وسعت، گہرائی اور پہنائی کی کچھ نہ کچھ خبریں اپنے پڑھنے والوں کو پہنچاتا رہوں۔ یہ پہلو ہمارے پاکستانی معاشرے کا ایک ایسا پہلو ہے جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک اُردو زبان کے قارئین کی نگاہوں سے بیشتر، اوجھل رہا ہے۔ مَیں اس نکتے پر انہی سطور میں کئی بار اس مقصد کی وضاحت ’’فرما‘‘ چکا ہوں اس لئے اس کی جگالی ’’ فرمانے‘‘ کو اگرچہ چنداں ضروری خیال نہیں کرتا، لیکن بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا سرزد ہو جاتا ہے کہ مجھے اپنے مشن کے اعادے کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ایک مدت سے فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک ماہنامہ، اُن ماہناموں اور ہفت روزوں میں شامل ہے جو مجھے میرے اکثر دوست احباب، جاننے والے اور نہ جاننے والے از راہ کرم، ہدیتہ ارسال کرتے رہتے ہیں۔ مَیں ان سب کا ممنون ہوں۔ یہ تمام تحریریں میرے علم و آگہی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔۔۔ البتہ وہ ’’آگہی‘‘ جو میرے مشن کا مقصود ہے،ان تحریروں کو پڑھ کر بھی اگر 100 فیصد نہیں، تو 95فیصد محروم رہتا ہوں۔ پاکستان کا کوئی رسالہ/ اخبار (میری مراد اُردو زبان کے رسالوں/ میگزینوں/ روزناموں وغیرہ) سے ہے ایسا نہیں جو ان موضوعات اور مطالب کو آگے بڑھائے جن کی ضرورت آج کے پاکستان کو زیادہ ہے۔۔۔

آج کے پاکستان کو کن کن چیزوں کی ’’آگہی‘‘ کی ضرورت ہے،اس پر میرے بہت سے سینئر کالم نگار حضرات قلم اٹھاتے رہتے ہیں ماسوائے، اس ایک چیز کے کہ جو ہمارے ہاں کمیاب اور دوسروں کے ہاں اتنی ارزاں اور عام ہے کہ ان سے مقابلے کرکر کے میرے سینے میں ایک ہوک سی اٹھتی رہتی ہے کہ کاش میرا پاکستان بھی ان چیزوں کی ’’آگہی‘‘ سے فیض یاب ہو سکتا!

وہ ماہنامہ جس کا ذکر مَیں نے سطورِ بالا میں کیا ہے اس کا نام ’’پیام آگہی‘‘ ہے۔ اس کا مرکزی دفتر سلیمی چوک، ہتیانہ روڈ فیصل آباد میں ہے۔ مدیرِ محترم کا نام حافظ محمد نعیم علوی ہے اور انتظامی امور کی ذمہ داری حضرت مولانا سجاد انور منصور کی ہے۔32صفحات پر مشتمل یہ رسالہ مذہبی ہم آہنگی کا داعی ہے۔ اس رسالے میں کسی خاص مسلکی عقیدے کی ترویج یا حمایت کا کوئی سامان نہیں ہوتا۔ تمام تحریریں بڑی متوازن ہوتی ہیں اور ان میں کوئی زیادہ فلسفیانہ امور و مسائل پر کسی مقالہ نما مضمون کی اشاعت سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسالے کی انتظامیہ کا فوکس ایک ایسے اوسط پڑھے لکھے پاکستانی قاری پر ہے، جو کسی اختلافی مذہبی مسئلے میں الجھنا نہیں چاہتا۔ سچ پوچھیں توآج کے پاکستانی معاشرے میں یہ طرزِ فکر اور روشِ نگارش کم کم نظر آتی ہے۔ ایسے میں ’’پیام آگہی‘‘ کا پیام صد غنیمت ہے۔ لیکن ایک بار پھر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ’’پیامِ آگہی‘‘ اور قسم کا ہے۔ اقبالؒ نے طلبائے علی گڑھ کے نام ایک چھوٹی سی نظم لکھی تھی، جس کے تین اشعار یہ ہیں:

اوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام ہے اور

عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے

طائر زیرِ دام کے نالے تو سُن چکے ہو تم

یہ بھی سنو کہ نالۂ طائرِ بام اور ہے

موت ہے عیشِ جادواں، ذوقِ طلب اگر نہ ہو

گردشِ آدمی ہے اور، گردشِ جام اور ہے

یاد رہے کہ سات اشعار کی یہ مختصر نظم اقبال نے اپنے قیام یورپ(1905ء تا1908ء) کے زمانے میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبا کے نام لکھ کر بھیجی تھی۔ طلباء نے شائد اقبال سے تقاضا کیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان، دینِ اسلام کی اساسیات کو فراموش کر چکے ہیں، ان کے لئے کچھ لکھئے اور بتایئے کہ وہ کیا کریں۔ نظم کے باقی چار اشعار چونکہ زیادہ بسیط موضوعات کو محیط ہیں، اس لئے ان کو درج کرنے سے اجتناب کرتا ہوں کہ ان کی تشریح کے لئے مسلم اُمہ کے اُس اولین دور کو یاد کرنے کی ضرورت ہو گی جس کے بارے میں حضرت اقبال ؒ نے بارہا اشارہ کیا ہے:

مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغ

میری تمام جستجو، کھوئے ہووں کی آرزو

اقبال ناسٹلجیا (ماضی پرستی) کے شدید شکار تھے لیکن اتنی ہی شدت سے مستقبل پرستی کا شکار بھی تھے۔ ان کو یقین تھا کہ ایک دور ایسا آئے گا: جب آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئنہ پوش۔۔۔ اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی۔۔۔ یعنی ان کے نزدیک ’’حال‘‘ گویا ظلمتِ شب تھی، ’’ماضی‘‘ ایک شمع فروزاں تھی اور ’’مستقبل‘‘ اک نوید روشن کا نام تھا!۔۔۔ ان کی تمام عمر اسی ماضی کی ترانہ خوانی اور مستقبل کی نغمہ طرازی میں گزری۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں ماہنامہ ’’پیام آگاہی‘‘ کے بارے میں کچھ اور عرض کروں، اقبال ہی کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو انہوں نے ’’بانگ درا‘‘ کی ایک نظم میں بیان فرمایا ہے۔ واقعہ یہ کہ حجاز سے ان کے پاس ایک عرب وفد آیا۔ وفد کو معلوم تھا کہ اقبال کی شہرت بطور ایک مسلم سکالر، ہندوستان سے باہر کے ممالک میں بھی پھیل چکی ہے۔ اس لئے وفد نے علامہ کے ہاں حاضر ہو کر کہا کہ جدہ میں ایک بڑا ہسپتال زیرِ تعمیر ہے، اس کے لئے ہم لوگ چندہ اکٹھا کرنے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ آپ چونکہ ایک مانے ہوئے عاشقِ رسول اور فداکارِ اسلام ہیں، اس لئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں کہ ازراہ مہربانی جدہ کے اس ہسپتال کی تعمیر و تشکیل کے لئے اپنی جیبِ خاص سے کچھ ’’زرِتعاون‘‘ مرحمت فرمایئے۔ اقبال نے جو جواب دیا وہ بڑا معنی خیز اور درد انگیز تھا، فرمایا:

اوروں کو دیں حضور، یہ پیغامِ زندگی

میں موت ڈھونڈتا ہوں، زمینِ حجاز میں

آئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیا؟

رکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا؟

اقبالؒ کے اس جواب میں بے شک شاعرانہ شوخی اور بے باکی جھلکتی ہے لیکن ان کا استدلال ایسی برہانِ قاطع تھا کہ اس کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اب مَیں ماہنامہ ’’پیامِ آگہی‘‘ کی طرف آتا ہوں۔۔۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا کہ پرچے میں ایک منی آرڈر فارم بھی رکھا ملتا تھا جس پر وصول کنندہ کا نام چھپا ہوتا تھا۔ آپ کو صرف ’’رقم چندہ‘‘ اور اپنا ایڈریس درج کرنے کی زحمت دی جاتی تھی۔ اس عیدالاضحی پر بھی ایسا ہی منی آرڈر فارم رسالے کے اندر رکھا ہوا ملا تھا۔

سچی بات ہے کہ مَیں اس منی آرڈر فارم اور دستِ طلب کی مانعِ خود داری اس تحریر کو دیکھ کر ایک کراہت آمیز شرمندگی میں ڈوب جاتا تھا کہ اگر اسلام کی توسیع و تشہیر اور اسلامی اقدار کی ترویج و اشاعت کے لئے ہاتھ پھیلانے کا یہی انداز باربار استعمال کرنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اس ’’کارِ خیر‘‘سے ہاتھ اٹھا لیاجائے۔

کل، ماہِ اکتوبر 2015ء کے شمارے میں بھی ایک ایسا ہی خط از جانب انتظامیہ، شامل تھا۔اس کے مندرجات ذرا ملاحظہ فرمایئے:

مکرمی و محترمی۔۔۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ماہنامہ پیام آگہی کا تازہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔گزارش ہے کہ ماہنامہ پیام آگہی کے سالانہ زر تعاون کی طرف بارہا توجہ دلانے کے باوجود آپ کی طرف سے کوئی مالی تعاون موصول نہیں ہوا۔ ایک ایسے علمی تحفہ کے لئے سالانہ 500 روپے جو ماہانہ 42اور روزانہ 1.40روپے بنتے ہیں، بالکل معمولی زرتعاون ہے۔آپ کا یہ تعاون ہمارے لئے آسانی کا باعث بن سکتا ہے۔ آخر ہم اپنی دیگر ضروریات پر بھی تو خرچ کرتے ہیں۔ فرق صرف ترجیحات کا ہے۔ کیا ہم علم کی روشنی پانے کے لئے روزانہ 1.40 بھی خرچ نہیں کر سکتے؟ سالانہ زرتعاون کی مد میں کوئی مالی تعاون یا کوئی رابطہ نہ کرنے کی صورت میں ادارہ کے لئے آئندہ آپ کو ماہنامہ ’’پیام آگہی‘‘ ارسال کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔

ماہنامہ ’’پیام آگہی‘‘ کی یقینی ترسیل کے لئے اپنے حوالہ نمبر کے ساتھ ڈاک خانہ کے پوسٹ کوڈ سے مطلع کریں، شکریہ۔۔۔خلق خدا پر مہربان ہو جایئے۔۔۔ غم اور پریشانی اپنا راستہ بدل لیں گے۔ماہنامہ ’’پیام آگہی‘‘ صرف ایک رسالہ نہیں بلکہ خدمت خلق کے رواں دواں چشموں کا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ آپ کا معمولی سا تعاون اَن گنت دعاؤں کا باعث ہوگا۔ آپ اپنا تعاون منی آرڈر کریں یا ایزی پیسہ بھیج کر کوڈ سے آگاہ کریں۔

CNIC۔۔۔33100-8139547-

7

والسلام سجاد انور منصور

0300/0336-6692592

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے اس ’’طرزِ طلب‘‘ پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر انتظامیہ / ادارتی ٹیم نے اسی ’’رقمِ چندہ‘‘ ہی سے اسلام اور دین کی تشہیر کرنی ہے تو میری گزارش ہے کہ اس خجالت آمیز دستِ طلب کی جگہ کوئی ایسی ادائے تقاضا اختیار فرمایئے جس میں خودی اور خود داری کی موت کا اتنا عریاں مظاہرہ نہ ہو!۔۔۔اقبالؒ تو خدا سے بھی مخاطب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں:

غیرتِ فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول

جب کہا اس نے ’’یہ ہے میری خدائی کی زکوٰۃ‘‘

مزید : کالم


loading...