جمہوریت میں خودسوزیاں

جمہوریت میں خودسوزیاں
جمہوریت میں خودسوزیاں

  


ایک ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد جمہوریت کا جشن منانے والوں کے منہ پر ملتان میں شہباز اور مظفر گڑھ کی سونیا نے خودسوزی کر کے جو کالک ملی ہے، ایک نظر اس پر بھی ڈالنی چاہئے۔ بھارت میں جنونی ہندوؤں کی تنظیم شیوسینا نے خورشید محمود قصوری کی کتاب کا فنکشن کرانے والے میزبان کے منہ پر جو کالک ملی، اُس نے اس کا چہرہ مزید روشن کر دیا، لیکن پاکستان میں حکمرانوں کے چہرے پر شہباز اور سونیا نے اپنے جسموں کو جلا کر جو کالک ملی ہے، اُس نے اُن کا چہرہ مزید بد نما کر دیا ہے۔ دونوں جگہوں پر دو انسانوں نے خود کو صرف اس لئے جلا دیا کہ انہیں موجودہ استحصالی و کرپٹ ترین نظام سے انصاف نہیں ملا تھا۔ دونوں کیسوں میں پولیس ملوث تھی اور اس نے ان بے کسوں کو اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہو گئے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی لوگ بہت تعریفیں کرتے ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ پولیس کو سیدھا نہیں کر سکے بلکہ ان پر سیاسی مخالفین کی طرف سے یہ الزام لگتا ہے کہ انہوں نے پولیس کو گلو بٹ فورس بنا دیا ہے اور اس کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں پنجاب میں پولیس مظالم کی کیسی کیسی داستانیں سامنے نہیں آئیں۔ مگر مجال ہے کسی ایک پولیس والے کو بھی سزا ہوئی ہو، چند دنوں کی معطلی اور اس کے بعد پھر وہی وردی پھر وہی ظلم۔

میں نے ابھی کل ہی اپنے کالم میں لکھا تھا کہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی معمولی برتری سے جیت اس کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ اپنے ہی گھر میں اسے اب بے پناہ مزاحمت کا سامنا ہے۔ میں نے اس کے اسباب گنواتے ہوئے کہا تھا کہ میٹرو بس بنا دینے سے عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے دل جتینے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں ایک اچھا نظام دیا جائے، ان کی داد رسی کی جائے اور انہیں طاقتوروں کے مظالم سے بچایا جائے۔ یہاں تو خود حکومتی ادارے عوام کے لئے سوہانِ روح بن چکے ہیں اور وہ ان کے مظالم سے تنگ آ کر خود سوزیاں کر رہے ہیں ملتان میں شہباز نے پریس کلب کے سامنے خود کو اس لئے آگ لگائی کہ پٹواری نے پولیس کی ملی بھگت سے پہلے اسے اپنے گھر اور زمین سے محروم کیا اور پھر جھوٹے مقدمات درج کر لئے۔ ایک غریب آدمی کی زندگی جب اس طرح اجیرن کی جائے گی تو اس کے پاس خودکشی یا خود سوزی کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ مظفر گڑھ میں بیس سالہ لڑکی سونیا کو پولیس نے بے آبرو کیا۔ وہ تھانے سے باہر انصاف کے لئے دہائی دیتی رہی کسی نے نہ سنی تو کپڑوں پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ شہباز شریف نے نجانے کیا سوچ کے اپنا لقب خادم پنجاب رکھا تھا۔ تاثر تو یہ بنتاجا رہا ہے کہ وہ مغلیہ حکمران ہیں۔ جن کا جی چاہتا ہے تو کسی مظلوم کو انصاف دینے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں، وگرنہ سب کچھ ظالمانہ نظام اور پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں انہوں نے نظام کو سیدھا کرنے کی بجائے سڑکیں سیدھی کرنے پر توجہ دے رکھی ہے ایسے میں اُن کی مقبولیت کا گراف بڑی تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔

آج ہی میں کالج سے واپس آ رہا تھا تو میری گاڑی کے پیچھے ایک پولیس افسر کی سرکاری گاڑی بھی آ رہی تھی۔ جس کے ساتھ ایلیٹ فورس کی دو گاڑیاں بھی تھیں۔ سرکاری گاڑی کا ڈرائیور مجھے پیچھے سے مسلسل ہیڈ لائٹس جلا کر راستہ مانگ رہا تھا۔ جبکہ رش کی وجہ سے میرے پاس یہ موقع ہی نہیں تھا کہ میں بائیں طرف ہو کر اُسے راستہ دے سکوں، وہ مسلسل ہارن بھی بجا رہا تھا اور میں عقبی شیشے سے دیکھ رہا تھا کہ افسر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ڈرائیور کو منع کرتا کہ خواہ مخواہ اضطرابی صورتِ حال پیدا نہ کرے اور ٹریفک جس بہاؤ سے چل رہی ہے اُسے چلنے دے مگر وہ اندر سے ایک پولیس افسر تھا بھلا اپنے ماتحت کو کیسے روکتا؟ میں سوچنے لگا کہ پولیس والے گاڑیاں تو اتنی تیزی سے بھگاتے ہیں کہ جیسے اُنہوں نے کوئی میدان فتح کرنا ہو، حالانکہ انہوں نے جلد از جلد اپنے ٹھنڈے دفاتر میں پہنچ کر چائے پینی ہوتی ہے یا پھر سیاسی لوگوں کی سفارشوں پر تبادلے کرنے ہوتے ہیں، ان کے دفاتر تک کسی مظلوم کی رسائی تو ہو نہیں سکتی ہم بھی جانتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسا خود کار نظام نہیں کہ جس کے ذریعے وہ کسی کی داد رسی کر سکیں وہ پھر تفتیش در تفتیش کا حکم جاری کر دیتے ہیں، تاوقتیکہ مظلوم تنگ آ کر خودسوزی نہ کر لے۔ یہ دنیا کی عجیب و غریب جمہوریت ہے کہ جہاں جمہور کو انصاف ملتا ہے نہ روز گار، سب کچھ سفارشوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کسی مہذب ملک میں اگر تھانے یا پریس کلب کے سامنے کوئی اس لئے خودکشی کر لے کہ اسے انصاف نہیں ملا تو میں نہیں سمجھتا کہ وہاں کے عوام اُس حکومت کو دو دن بھی اقتدار میں رہنے دیں لیکن یہاں بڑے سے بڑا واقعہ بھی وزیر اعلیٰ کے نوٹس پر ختم ہو جاتا ہے، اُس کے بعد مظلوم قبر میں جا سوتا ہے اور ظالم مزید خونخواری کے ساتھ عوام کے جسموں اور روحوں کو نوچنے لگتا ہے۔

ہم جمہوریت کی مضبوطی کا رونا روتے ہیں، فوج کی مداخلت سے ڈرتے بھی رہتے ہیں، آمریت کو بُرا بھلا بھی کہتے ہیں، سب کچھ کرتے ہیں مگر نظام کو درست کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ لا محالہ یہ شک اُبھرتا ہے کہ اصل میں اس ظالمانہ نظام کا تحفظ یہی جمہوریت کر رہی ہے، اس جمہوریت کو جن لوگوں نے کھیل کی طرح اوڑھ رکھا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ جمہوریت کی وہ شکل پاکستان میں آئے جو ایک مہذب نظامِ حکومت کی شکل ہے جس کے تحت لوگوں کو احساس تحفظ بھی ملتا ہے اور انصاف بھی، جس میں ریاستی ادارے بے لگام گھوڑے نہیں بنتے بلکہ عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں جس میں کوئی شہباز یا سونیا موت کو زندگی سے بہتر سمجھ کر اسے گلے نہیں لگاتی بلکہ زندگی اس کے لئے اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسے واقعات کے بعد کسی سی پی او یا ایس پی او کو اپنے عہدے پر رہنے کا حق ہے۔ انہیں نکال باہر کرنا چاہئے، صرف نچلی سطح کے چند اہلکاروں کو سزا دے کر معاملہ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ سب کچھ افسروں کی نا اہلی اور جھوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کے ماتحت درندے بن جاتے ہیں۔ ملتان میں شہباز نے پریس کلب کے سامنے خود سوزی کی تو سی پی او ملتان کو ہوش آ گیا اور انہوں نے ایس ایچ او تھانہ صدر کو معطل کر دیا۔ واہ واہ کیا نظامِ عدل ہے اور کیا مظلوموں کی شنوائی کا بہترین طریقہ ہے۔ یعنی پہلے خود کو آگ لگاؤ، جل کر راکھ ہو جاؤ پھر تمہاری سنی جائے گی۔ اس قدر مکروہ اور کریہہ صورتِ حال ہے کہ جس پر سوچ کر ہی گھن آنے لگتی ہے مگر جو بالا دست ہیں انہیں ایسے واقعات کی کوئی پروا نہیں ہوتی، وہ انہیں معمول کی کارروائی سمجھتے ہیں وزیر اعلیٰ نوٹس لیتے ہیں، آئی جی رپورٹ طلب کرتے ہیں، آر پی او رپورٹ بھیجتے ہیں اور اس وقت تک آگ لگانے والا اگلے جہان پہنچ کر اللہ کے حضور داد رسی کی درخواست کر رہا ہوتا ہے۔

کوئی اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرے یا نہ کرے ہم سب بحیثیت مجموعی اس ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں، ہار مان چکے ہیں۔ خود موجودہ حکمران جن میں وزیر اعظم محمد نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی شامل ہیں، بار ہا یہ کہہ چکے ہیں کہ پولیس کو بے پناہ مراعات اور سہولتیں دینے کے باوجود اس کا قبلہ درست نہیں کر سکے۔ نظام کی اصلاح کے لئے تو کوئی قدم اُٹھانے کو تیار ہی نہیں سب اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ احسن اقبال نے کل ہی یہ بیان دیا ہے کہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ تبدیلی نہیں چاہتے۔ عوام تبدیلی کیسے چاہ سکتے ہیں کہ جہاں مقتدر اشرافیہ تبدیلی چاہنے والوں کو ملک دشمن اور جمہوریت دشمن قرار دیتی ہے، ارے بھائی آپ اس جمہوری نظام کو چاہے نہ تبدیل کریں لیکن کم از کم اس نظام کو تو تبدیل کر دیں جس میں مظلوموں کے پاس سوائے خود سوزی کے اور کوئی راستہ نہیں رہ گیا۔ *

مزید : کالم


loading...