آئین کی بالادستی ۔۔۔مُلک کی سربلندی

آئین کی بالادستی ۔۔۔مُلک کی سربلندی

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کا فرض ہے کہ وہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں، کسی بھی ادارے کی جانب سے مقررہ حدود سے تجاوز نہ صرف جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے، بلکہ اس کے عوامی فلاح و بہبود پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے، آئین نے عدلیہ پر بنیادی حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ سے الگ رکھا گیا ہے، بلکہ آئین میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے، جسٹس سرمد جلال عثمانی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا معاشی ترقی، عوام کی خوشحالی اور جمہوریت کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف، امن اور قانون کی حکمرانی ہو،ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب ہر ادارہ اپنا اپنا کام آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل فرض شناسی کے ساتھ انجام دے رہا ہو، آئین میں مختلف اداروں میں تقسیم کار کا اصول وضع کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے آئین کی بالادستی اور اداروں کے اپنی اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کی جو بات کی ہے پاکستانی معاشرے میں اگر اس پر کما حقہ، عمل درآمد کر لیا جائے تو بہت سے مسائل تو فوری طور پر خود کار طریقے سے ہی حل ہو جائیں گے اور اگر وقت کے ساتھ ساتھ کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہو گا، تو اُسے آئین کی رہنمائی اور روشنی میں بروقت حل کر لیا جائے گا۔آئین نے مملکت کے تینوں بنیادی ستونوں کے لئے جو رہنما اصول اور فرائض کار متعین کئے ہیں اگر ادارے ان پر عمل پیرا ہوں، تو کوئی مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو گا،اور اگر ہو گا تو جس ادارے کے پاس جو اختیار ہے اس کے تحت اِسے حل کر لیا جائے گا، مثلاً آئینِ پاکستان ایک مختصر سی کتاب ہے، مگر اس کی تشریحات کا پھیلاؤ بہت ہے۔ اس کی مختلف شقوں کی وہی توضیح قابلِ قبول ہو گی، جو عدلیہ کرتی ہے اس لحاظ سے یہ حتمی اتھارٹی ہے۔ عدلیہ کے فاضل جج صاحبان کی رائے بھی مختلف امور میں مختلف ہوتی ہے اور ہو سکتی ہے، چنانچہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پانچ رکنی یا دس رکنی بنچ کے تمام ارکان اپنے فیصلوں میں کسی ایک نکتے پر ہمیشہ متفق نہیں ہوتے، فیصلے متفقہ بھی ہوتے ہیں اور اکثریتی ججوں کی رائے کے مطابق بھی، لیکن اُن کا نفاذ یکساں ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ متفقہ فیصلہ تو نافذ ہو جائے اور اکثریتی کا نفاذ اس بنا پر نہ ہو سکے کہ یہ متفقہ نہیں تھا،عدلیہ کے فیصلوں پر ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے ماہرین قانون کو اختلاف کی اجازت بھی ہوتی ہے، لیکن اختلاف کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہوتا کہ اس کا نفاذ نہ ہو سکے۔ مقننہ قانون بنانے میں آزاد ہے، لیکن قانون بنا چکنے کے بعد اِس کی تشریح کا کام بہرحال عدلیہ ہی کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے اور عدلیہ کے سامنے جو معاملہ اُٹھایا جائے اس کا وہ کئی پہلوؤں سے جائزہ لیتی ہے۔ اِسی طرح انتظامیہ کے فرائض بھی متعین ہیں، لیکن اگر حکومت کے اہلکار اپنے فرائض کی ادائیگی میں قوانین کو پیش نظر نہ رکھیں، یا قانون کا غلط استعمال کر کے کسی شہری کو زیادتی کا نشانہ بنائیں، تو ایسا ہر شہری انصاف کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنے میں آزاد ہے اور ہم شب و روز اس کا مشاہدہ کرتے ہیں، کہ انتظامیہ اور مقننہ دونوں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں جاتے ہیں اور عدالتیں اِن پر آئین و قانون کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں۔

اگر مملکت کے تینوں ستونوں میں سے کوئی ادارہ آئینی حدود سے تجاوز کرے اور اس تجاوز کے بعد اپنی رائے اور فیصلے پر اصرار کرے تو مسائل اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، آئین کی جو تشریح عدالتیں کرتی ہیں وہی حتمی مانی جائے گی اگر ایسا نہ ہو تو خرابی پیدا ہوتی ہے اور ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ حالات اُسی وقت خراب ہوئے جب اداروں نے من مانی تشریحات میں اُلجھ کر ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ عدالتوں کے فیصلوں سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اِدھر کچھ عرصے سے بعض برخود غلط قسم کے عناصر سوشل میڈیا کی آڑ میں عدلیہ کے ججوں پر جس قسم کے ناروا حملے کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کو بند کرنے کی ضرورت ہے، پھر بعض سیاسی جماعتوں نے اِس کلچر کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے کو جو فیصلہ پسند آ گیا اس کی تعریف کر دی، جو مرضی کے خلاف ہوا اُس کو نہ صرف ہدفِ تنقید ، بلکہ ہدف ملامت بنا دیا اور حد سے گزر کر فاضل ججوں پر ذاتی حملوں پر اُتر آئے، کچھ عرصے سے بار کے ارکان بھی اسی طرح کا طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں کہ اُنہیں جو فیصلہ پسند نہیں آتا وہ فوری منفی ردعمل پراُتر آتے ہیں،ججوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، ان کے کمروں کو تالے لگا دیتے ہیں اور طرح طرح کی نارواحرکتیں کرتے ہیں، حالانکہ فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا حق اعلیٰ عدالتوں میں موجود ہوتا ہے اور قانونی اور جائز طریقہ اختیار کرنا ہی قرینِ انصاف بات ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسے مواقع آئے جب مملکت کے ستون بعض امور پر مدمقابل آ گئے، لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا، حکومت کو اگر عدلیہ کے بعض فیصلے پسند نہیں آئے، تو انہوں نے انہیں طوعاً و کرہاً وقتی طورپر مان تو لیا لیکن بعد میں فاضل ججوں کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی، اور ایسے اقدامات کئے، جو اُن کے آزادانہ کام کرنے کی راہ میں حائل ہو گئے، مارشل لاؤں کے زمانے میں ججوں کے فیصلے پسند نہ آنے پر اُن کو مارشل لائی احکامات کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ایسے جج ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ جب تک اور جہاں تک انہیں آئین و قانون نے اجازت دی وہ اپنے اختیارات اس کے مطابق استعمال کرتے اور انصاف فراہم کرتے رہے، ایسے جرأت مند ججوں کا نام عدلیہ کی تاریخ کے صفحات پر روشن الفاظ میں چمک رہا ہے۔ البتہ ایسے جج بھی گزرے ہیں، جنہوں نے وقت کی حکومت کے ساتھ بعض امور میں مصالحانہ رویہ اختیار کرلیا اور آئین سے صرفِ نظر بھی کیا۔

فاضل چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں جن امور کی نشاندہی کی اگر ہم اپنی قومی زندگی میں ان کو مشعلِ راہ بنائیں اور ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو نہ صرف مملکت کے شہری عالمی برادری میں سربلند ہو کر چلیں گے، بلکہ بطور ریاست پاکستان کا وقار بھی دُنیا میں بلند ہو گا، اور اسے آئین و قانون پسند عالمی برادری میں اعلیٰ مقام حاصل ہو گا۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ترقی و جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف، امن اور قانون کی حکمرانی ہو، ایسا اُسی صورت میں ممکن ہے جب ہر ادارہ اپنا کام آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل فرض شناسی سے ادا کرے۔ اداروں کے سربراہ اگر اپنی اناؤں کی تسکین کو پیش نظر رکھیں گے تو نہ صرف ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگی، بلکہ اس کے معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے، اِس لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ادارہ آئین کے تقدس کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور اس کے سامنے سرجھکا دے۔ماضی میں ایسا ہوا کہ بعض حکمران آئین کی اہمیت کو کم تر کرنے کی کوشش کرتے رہے، اُن کا یہ طرزِ عمل اس لحاظ سے عجیب و غریب تھا کہ وہ فرماتے تھے کہ مُلک مقدم ہے، آئین اس کے تابع ہے، مُلک اور اس کی سلامتی کے متعلق اُن کے خیالات بھی خود ساختہ نظریات کے تابع رہے، مُلک اور معاشرے آئین و قانون پر عمل کر کے ہی سر بلند ہوتے ہیں اور انصاف کا بول بالا ہی اُن کے احترام میں معاون بنتا ہے۔ آئین کے بغیر مُلک نہ ترقی کر سکتے ہیں نہ مہذب کہلا سکتے ہیں۔ آئین پر عمل کر کے ہی مُلک کو مضبوط و مستحکم بنایا جا سکتا ہے، جو حکمران آئین کو اپنے آمرانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں وہ دراصل یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اور مُلک ناگزیراور ہم معنی ہیں، حالانکہ کوئی حکمران چاہے وہ کتنا ہی عظیم ہو، کسی مُلک کے لئے ناگزیر نہیں ہوتا، مُلک چلتے رہتے ہیں، آگے بڑھتے رہتے ہیں اور حکمران اپنا اپنا وقت پورا کر کے چلے جاتے ہیں، جن حکمرانوں نے آئینی حکمرانی کی، لوگوں نے انہیں احترام دیا اور جو آئین کو فراموش کر کے من مانی کرتے رہے وہ جب محروم اقتدار ہوئے تو خود فراموش شدہ داستان بن گئے۔ ایسے عبرتناک باب آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، کیا وہ عبرت کی مثال نہیں ہیں؟

مزید : اداریہ


loading...