این اے 122، لا ہور پھر بازی لے گیا

این اے 122، لا ہور پھر بازی لے گیا
این اے 122، لا ہور پھر بازی لے گیا

  


ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے مہنگا )این اے 122 (کا ضمنی الیکشن بخیرو عافیت انجام کو پہنچا۔اس الیکشن میں ووٹرز کا ٹرن آوٹ 35سے40فیصد رہا ، ایک طرف اس حلقے سے ووٹرز کی ایک معقول تعداد ووٹ ڈالنے باہر نکلی تو دوسری طرف ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے اس الیکشن سے لا تعلقی کا اظہار بھی کیا جس کو دونوں جماعتوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کہا جا سکتا ہےNA-122 سے مسلم لیگ (ن)کی جیت کا مارجن تقریباً 2500ووٹ رہا ۔حکمران جماعت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کیلئے جیت کا یہ مارجن انتہائی کم ہے ،حکمران جماعت کے ناقدین کی رائے اپنی جگہ لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تحریک انصاف کو اس حلقے میں ایک درجن کے قریب چھوٹی بڑی جماعتوں کی حمائت حاصل تھی،جماعت اسلامی کے سینئر رہنما فرید پراچہ نے ایک نیوز چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے یہ کہا بھی کہ اگر تحریک انصاف اس حلقے میں اتنے کم مارجن سے ہاری ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں ہماری جماعت (جماعت اسلامی) کا ووٹ بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان نے اس حلقے میں پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے،حکمران جماعت نے بھی پیسہ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر علیم حان نے اس الیکشن میں پیسہ لگانے کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

حکومت کی جیت کا مارجن کم ہونے کی ایک اور وجہ اس حلقے میں تین مقامات پر سرکاری ملازمین کی کالونیاں بھی ہیں اور سرکاری ملازمین ہمیشہ ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے نالاں رہتے ہیں ، اس کے علاواس حلقے میں بڑے بڑے کاروباری مراکز بھی ہیں اورود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے با عث تاجر برادری نے بھی حکمران جماعت کی کھل کر حمائت نہیں کی ۔ اس حلقے میں دو اپ سیٹ یہ ہوئے کہ زمان پارک جہاں عمران خان کی رہائش ہے وہاں سے تحریک انصاف ہار گئی اور گڑھی شاہو جہاں پر ایاز صادق کی رہائش ہے وہاں سے مسلم لیگ(ن) ہار گئی قارئین کرام!راقم کو بھی الیکشن سے پہلے اور الیکشن والے دن اس حلقے میں وزٹ کرنے کا مو قع ملا ،دونوں جماعتوں کا ووٹر کافی حد تک پرجوش اور متحرک تھا اور اپنی اپنی جماعت کی فتح کیلئے پر امید تھا،مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز سے بات کرنے کے بعد ایک اور بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ عمران خان کے لیگی قیادت کے خلاف جار حانہ رویے اور نا زیبا الفاظ کے استعمال نے مسلم لیگی ووٹرز کو مشتعل کر دیا تھا ، اور مسلم لیگی ووٹرز اس کا جواب الیکشن میں اپنے امیدوار کو جتوا کر دینا چاہتے تھے ۔ اس کے علاوہ مسلم لیگی ووٹرز کا ایک اور گلہ یہ تھا کہ اس حلقے سے MNA سردار ایاز صادق اور MPA محسن لطیف جیتنے کے بعد دوبارہ اس حلقے میں نہیں آئے، مسلم لیگی ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ صرف نواز شریف اور شہباز شریف کی وجہ سے ان میدواروں کی سپورٹ کر رہے ہیں ۔

الیکشن والے دن بعض جگہوں پر حکمران جماعت کے انتخابی کیمپوں میں انتظامات ناقص اور نا مکمل تھے اور وہاں مسلم لیگی سپورٹرز اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے تھے ۔قارئین ! اس بار الیکشن کمیشن کی جانب سے جو انتطامات کئے گئے تھے وہ قابل تعریف ہیں ،پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات تھی ، اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے، کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔اس کے علاوہ گنتی مکمل ہونے کے بعد بیلٹ باکس کو فوج کی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے آفس پہنچا یا گیا ۔ اس حلقے سے قومی سیٹ مسلم لیگ(ن) جبکہ صوبائی سیٹ تحریک انصاف نے جیتی (یار لوگوں ) کا کہنا ہے کہ اس الیکشن کے نتایج دونوں جماعتوں کیلئے لمحہ فکریا ہے دونوں جماعتوں کو ان نتایج کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی جماعت کے اندر پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنا چاہیے۔

قارئین کرام! این اے122 ،الیکشن کمیشن اور دونوں جماعتوں کیلئے ٹیسٹ کیس تو تھا ہی یہ الیکشن زندہ دلانِ لاہور کیلئے بھی کسی امتحان سے کم نہیں تھا میڈیا سمیت تمام پاکستان کی نظریں اس حلقے پر لگی ہوئی تھیں حالانکہ اوکاڑہ میں بھی ضمنی الیکشن ہو رہا تھا مگر میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو توجیسے اس الیکشن سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا سیاسی جماعتیں اپنا تمام زور لاہور کے حلقہ این اے 122 میں لگا رہی تھیں ،ہر کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ زندہ دلانِ لاہور کیا فیصلہ کرتے ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ زندہ دلان لاہور نے ایک بار پھر اپنی زندہ دلی کا ثبوت دیا ہے۔

زندہ دلانِ لاہور نے دونوں جماعتوں کو ناراض نہیں کیا، انہوں نے NA-122 میں مسلم لیگ(ن) کو جتوا کر اور PP-147سے تحریک انصاف کو جتوا کر دونوں جماعتوں کی لاج رکھ لی ہے ، زندہ دلانِ لاہور نےPP-147 سے تحریک انصاف کے امیدوار کو جتوا کر حکومت کی پالیسوں پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر دیا اور NA-122 سے مسلم لیگ (ن) کے میدوار کو جتوا کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ لاہور آج بھی مسلم لیگ(ن) کا قلعہ ہے ۔(یار لوگوں کا کہنا ہے کہ زندہ دلان لاہور اپنی زندہ دلی کے باعث ایک بار پھر بازی لے گئے ہیں ۔

مزید : کالم


loading...