پر’ امن پاک بھارت اورخطے کی سا لمیت

پر’ امن پاک بھارت اورخطے کی سا لمیت
پر’ امن پاک بھارت اورخطے کی سا لمیت

  


پاکستا ن نے ہمیشہ دنیا میں امن کے قیام کی کوششوں کو نہ صرف سراہا ،بلکہ امن کے قیام کے لئے ہر ممکن قربانی بھی دی،دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر پاک فوج کے جوانوں نے اندرونی و بیرونی دراندازی کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور دہشت گردوں کے نشانے پر ہونے کے باعث پاکستان کا دس سال سے زائد عرصہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار سے زائد سولین جانوں کا نذرانہ پیش کرنا بھی عالمی قوتوں کوشاید کبھی نہیں بھاسکا ،جبکہ تاحال پاک فوج کے جوان ضربِ عضب کی صورت میں اہم جنگ لڑ رہے ہیں ،یہ نہ صرف پاکستان کی سا لمیت کی جنگ ہے، بلکہ اس جنگ میں دنیا افغانستان میں بھارتی مکروہ کردار سے بھی آشنا ہوئی ہے جو در اندازی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں،لیکن پاکستان کا مقصد پر امن مقاصد کا حصول اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، تاکہ دنیا امن کا گہوارا بن سکے، پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کرتا رہتا ہے، کیونکہ بھارت نے گزشتہ اڑسٹھ سالوں سے کشمیریوں کے حقوق غصب کر کے انہیں غلامی کے طوق پہنا رکھے ہیں ،لیکن پاکستان کی جانب سے جاری امن کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب بھارتی ایئر چیف مارشل اروپ راہا نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے اپنی حکومت سے سبز جھنڈی دکھا نے کی ضد کر دی ،وہ کہتا ہے کہ پاکستانی کشمیر پر ایک منٹ میں میانمار طرز کا آپریشن کریں گے۔

اس عقل کے اندھے بھارتی ایئر چیف کو شاید اتنا نہیں پتا کہ میانمار اور پاکستان میں کیا فرق ہے،اس کے لئے صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ میانمار ایک غریب اور لاچار ملک ہے جہاں بھارت کی شہ پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، وہاں بھارت کچھ بھی کر لے تو ممکن ہے ،لیکن ائیر چیف اروپ راہا کو سمجھانے کے لئے کافی ہو گا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ، دنیا کی بہترین افواج اور شارٹ اور میڈیم رینج حتف ،غوری اور شاہین بیلسٹک میزائل ،جبکہ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل بکتر شکن اور کروز میزائل بابرکے ہدف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے، جبکہ ایئر فورس کے تناظر میں میانمار کے پاس روس، یوگوسلاویہ،پولینڈ اور برطانیہ سے حاصل کردہ ایف سیون ،اے فائیو سی اور مگ 29طیارے اور ایم آئی 2ہیلی کاپٹرز سمیت کل دو سو بیس تربیتی اور ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹرزکا سکوارڈن موجود ہیں ،جبکہ پاک افواج کے پاس رات کے اندھیرے میں دشمن کو نشانہ بنانے والے جدیدایف 16 طیاروں کا فلیٹ، جے ایف 17تھنڈر طیارے جو پاکستان کے اپنے تیار کردہ ہیں اور بھارت کے اندر گھس کر ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،پاکستان کی ایک ہزار سے زائد طیاروں کی حامل فضائیہ کی طاقت سے بھارت بخوبی واقف ہے،کیونکہ بھارت ابھی 1965ء کی جنگ کو بھول نہیں سکا اور پاک فضائیہ کے تین ہزار سے زائد پائلٹس کی دلیری اورمہارت سے بھی آشنا ہے۔

میرا خیال ہے کہ شاید اروپ راہا نے کسی مدہوشی کے عالم میں ایسا بیان دے دیا ہو گا،اور سونے پر سوہاگابھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنے بیان میں سیاچن سے افواج کے انخلاء کو نامنظور کرنے اورمقبوضہ کشمیر میں حالات درست نہ کرنے بیان دے کردنیا پر واضح کر دیا ہے کہ بھارت دوستی نہیں دشمنی چاہتا ہے اور کبھی بھی امن کا خواہاں نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کااگست 1972کاشملہ معاہدہ بھی آج تک سوالیہ نشان ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار حل نکل آنا چاہیے ،معاہدے کی رو سے دونوں ممالک نے اس وقت یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، لیکن دونوں ممالک دنیا کو شامل کئے بغیراس مسئلے کا حل کریں گے، لیکن شملہ معاہدے کی رو سے اگردونوں ممالک ایسا نہ کر سکیں تو عالمی طاقتوں کی مدد حاصل کی جا سکے گی، ضیاء اوربھٹو ادوار گزر گئے، لیکن کوئی حل نہ نکلا، ضیاء دور میں پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوا،دونوں ممالک نے اسلحے کی دوڑ لگا دی اور پھر ایٹمی قوتیں بھی بن گئے، جبکہ معاہدہ کیا گیا کہ ایٹمی تنصیبات سے متعلق ہر سال یکم جنوری کو تبادلہ خیال کیا جائے گا،نواز شریف اور واجپائی نے لاہور ڈیکلیریشن اور آٹھ نکاتی ایجنڈا طے کیا۔

سر کریک کے مسئلے پر بھی وقتاً فوقتاً بات چیت کی ،جبکہ تجارت کے لئے بھارت کی خواہشات لا محدود ہیں اور اگر دیکھا جائے تو بھارت صرف تجارت کے لئے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، پاکستا ن کی جانب سے ہمیشہ تمام ایسے مسائل کو فوری حل کرنے پر زور دیا جاتا ہے جن کی وجہ سے جنگی صورتحال کا سامنا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خطرہ، ان میں کشمیر کا مسئلہ سر فہرست ، جبکہ سرکریک، سیاچن ،لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے پاکستانی معصوم شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ پاک بھارت کشیدگی کے اہم مسائل ہیں،اور خطے کا امن پاکستان بھارت کے روئیوں میں نرمی سے ہی ممکن ہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو پاکستان نے جب بھی امن کی بات کی اس کے جواب میں بھارت نے کشیدگی کو بڑھایا،کارگل جنگ میں بھی بھارت کو منہ کی کھانا پڑی اور وہ جنگ جو بھارت نے پاکستانی علاقوں میں جارحیت کر کے شروع کی تھی اسے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے عالمی قوتوں اور اقوامِ متحدہ کی درخواست پر بند کروانا پڑا ،کیونکہ بھارتی فوج اپنا جانی نقصان کروانے کے ساتھ ساتھ اپنے وسیع علاقے بھی کھو چکی تھی، اعلان واشنگٹن میں طے ہوا کہ لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل باونڈری تسلیم کیا گیا۔

1999ء میں پرویز مشرف کے حکومت سنبھالنے کے بعد جولائی 2001ء کے آگرہ مذاکرات میں جب مسئلہ کشمیر سمیت ایٹمی طاقتوں کو کنٹرول کرنا اور سرحدوں پر فائرنگ کے مسائل کے خاتمے کا ڈرافٹ تیار کر کے میز پر آ گیا تو بھارت اس دو روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے راہ فرار اختیار کر گیا، کیونکہ بھارت کے مقتدرحلقے بضد ہیں کہ پاکستان سے کسی صورت دوستی نہیں کرنا چاہیے ،اقوامِ متحدہ کے حالیہ اجلاس میں بھی وزیر اعظم پاکستان نے بھارت کو امن کے لئے چار نکاتی فارمولا پیش کیا ،جسے شاید تسلیم کرنا تو درکنار بھارت کو ایسی امن کے لئے کی جانے والی کوششوں سے بھی شدید چڑ ہے، کیونکہ بھارتی بالا دستی کا خواب تو درحقیقت ایک خواب ہی رہے گا، لیکن پاکستان خطے میں امن کے لئے بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپنے تئیں کوششیں کرتارہے گا، تاکہ امن کے لئے صرف بات نہ کی جائے، بلکہ کوئی پائیدار حل بھی سامنے لایا جا سکے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تحمل کی پالیسی شاید ایک خواب ہو، لیکن کیا پاکستان اور انڈیا نے جتنے بھی معاہدے کئے انہیں فراموش کر دیا؟کیا یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں ممالک اس قابل نہیں رہے کہ مسئلے حل کر سکیں؟ یا پھر عالمی برادری اس میں معاون اور ثالث کا کردار ادا کرکے ہی خطے میں امن قائم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے،یہ فیصلہ ایٹمی قوتوں کو کرنا ہے، پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن برابری کی سطح پر اور یہ بھارت کو ذہن نشین کرنا بھارت کے اپنے مفاد میں بہت ضروری ہے۔ *

مزید : کالم


loading...