پنجاب میں 16.5ملین ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت کا ہدف مقرر

پنجاب میں 16.5ملین ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت کا ہدف مقرر

لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب میں 16.5ملین ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت سے 19.5ملین ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ پنجاب کے بارانی علاقوں کے کاشتکار گندم کی کاشت 15اکتوبر سے 15نومبر تک مکمل کر لیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق چکوال ۔50بارانی علاقوں کے لیے گندم کی منظور شدہ قسم ہے جس کا وقت کاشت15اکتوبر تا15نومبر تک ہے ۔ یہ قسم کُنگی کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے اور زیادہ شگوفے بنانے کے ساتھ نا موافق حالات کو برداشت کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے ۔خادم پنجاب کی ہدایت پر شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کاشتکاروں کو گندم کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے ترقی دادہ قسم چکوال ۔50کے کُنگی سے محفوظ بیج کے 10ہزار تھیلوں کی مفت فراہمی شروع ہے ۔یہ کاشتکار چکوال ۔50کی فصل سے حاصل شدہ پیداوار کو غلہ کی صورت میں گاؤں کے دوسرے ساتھی کاشتکاروں کو فروخت کر کے پورے گاؤں میں اچھی فصل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔بارانی علاقوں کے لیے گندم کی دیگر منظور شدہ اقسام میں این اے آر سی 2009، بارس2009، دھرابی 2011اور پاکستان 2013شامل ہیں جن کا وقت کاشت 20اکتوبر تا 15نومبر ہے ۔ ترجمان کے مطابق گندم کے کاشتکار15نومبر تک کاشت کے لیے 50کلو گرام بیج فی ایکڑ رکھیں اور گندم کی کاشت کے لیے ڈرل کا استعمال کریں۔ڈرل استعمال کرنے کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ڈرل کی کوئی پور بند نہ ہو۔بارانی اضلاع کے کاشتکار بارشوں کے بعد زمین میں راجہ ہل چلائیں اور سہاگہ دیں تاکہ زمین گہرائی تک بھر بھری ہوجائے اور زیادہ پانی جذب کرسکے۔بعدازاں گندم کی کاشت سے قبل ہر بارش کے بعد عام ہل چلائیں تاکہ اُگنے والی جڑی بوٹیاں تلف ہو سکیں۔

ترجمان نے بتایا کہ بارانی اضلاع کے کاشتکار کم بارش والے علاقوں میں ایک بوری ڈی اے پی،تین چوتھائی بوری یوریا اور آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ درمیانی اور زیادہ بارش والے علاقوں کے لیے دو بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کریں۔

مزید : کامرس


loading...