تجارت کے شعبہ سے وابستہ خواتین کی پذیرائی کیلئے تمام تر سہولیات مہیا کی جائیں گی ٗ ناصرہ لغمانی

تجارت کے شعبہ سے وابستہ خواتین کی پذیرائی کیلئے تمام تر سہولیات مہیا کی ...

  



پشاور(اے پی پی )وومن چیمبر آف کامرس خیبر پختونخوا کی نومنتخب صدر ناصرہ لغمانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تجارت کے شعبے سے وابستہ خواتین کی پذیرائی کے لئے تمام تر سہولیات مہیا کی جائیں گی اور کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں خواتین کا کردار بڑھانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی ۔ منگل کو’’اے پی پی‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت تین سو خواتین ڈبلیو سی سی آئی کی ممبر ہیں اور میری کوشش ہو گی کہ میرے دور صدارت میں یہ تعداد پانچ سو تک پہنچ جائے ۔ انہوں نے کہاکہ باعزت کمائی کے ذریعے خواتین میں اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو خاندان کی طرف سے تعاون اور محفوظ خوشگوار ماحول میسر ہو۔ انہوں نے کہاکہ مناسب رہنمائی اور تعاون ملے تو خواتین دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قدرتی آفات سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کی معیشت مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔

ناصرہ لغمانی نے کہا کہ مناسب رہنمائی اور فنانس کی عدم دستیابی کاروباری خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈبلیو سی سی آئی کاروبار کرنے کی خواہشمند خواتین کو کاروبار شروع کرنے ٗ نچلی سطح سے اوپر تک لے جانے اور ای بزنس میں بھی مناسب رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک مالی مسائل کا تعلق ہے تو ڈبلیو سی سی آئی وقتاً فوقتاً حکومت سے آسان شرائط پر خواتین کے لئے چھوٹے قرضوں کی درخواست کرتا رہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے ملک یا صوبے میں چھوٹے قرضوں کی سکیم کا اجراء کیا تو اس سے کاروباری خواتین بھی مستفید ہوں گی اور وہ ملکی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ ڈبلیو سی سی آئی قرضے فراہم نہیں کر سکتی لیکن مسائل کے حل اور کاروبار کی ترقی کے لئے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے ۔ ای بزنس کے حوالے سے ناصرہ لغمانی نے کہا کہ یہ کمائی کا سب سے آسان طریقہ ہے اور ای بزنس کے ذریعے خواتین گھر بیٹھے تجارت کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہزاروں خواتین چھوٹے پیمانے پر اپنے کاروبار چلا رہی ہیں اوران کے لئے ڈبلیو سی سی آئی کی ممبر شپ کی راہ میں رکاوٹ نیشنل ٹیکس نمبر ہے کیونکہ صرف این ٹی این رکھنے والی خواتین ہی ڈبلیو سی سی آئی کی ممبر بن سکتی ہیں اور اسی لئے اس کی ممبر شپ محدود ہے ۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ڈبلیو سی سی آئی کی ممبر شپ کے لئے این ٹی این کی شرط ختم کردی جائے تاکہ ہزاروں خواتین ڈبلیو سی سی آئی سے استفادہ کر سکیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بہت سی خواتین نے ڈبلیو سی سی آئی سے رابطہ کرنے اور رہنمائی حاصل کرنے کے بعد کامیابی کی منزلیں طے کی ہیں اور اب بڑے بڑے کاروبار چلا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بینکوں کو کاروباری خواتین کے لئے فنانشل لٹریسی پروگرامز شروع کرنے چاہئیں تاکہ وہ بزنس کے طریقہ کار اور مالیاتی امور کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔ انہوں نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کاروباری خواتین کے لئے کوٹہ مختص کرے تاکہ بین الاقوامی نمائشوں میں خواتین سٹالوں کے ذریعے اپنی مصنوعات پیش کر سکیں ۔ انہوں نے سمیڈا اور آہن کے کردار کو سراہا جو خواتین کو کاروباری امورمیں تربیتی ورکشاپوں اور سیمیناروں کا انعقاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ پشاور میں اعلیٰ معیاری نمائش سنٹر کے قیام کے لئے کوشش کریں گی جس میں کاروباری خواتین کی مصنوعات نمائش کے لئے رکھی جائیں گی ٗ بین الاقوامی برانڈ کی کمپنیوں کو اجازت ہو گی کہ وہ آئیں اور نمائش سنٹر میں نمونے منتخب کریں ۔ انہوں نے کہاکہ نئی نسل بالخصوص یونیورسٹیوں اور ہوم اکنامکس کی طالبات بہت باصلاحیت ہیں اور ان کے پاس کاروبار شروع کرنے کے نئے نئے آئیڈیاز ہوتے ہیں کمی صرف ایک پلیٹ فارم کی ہوتی ہے جہاں سے انہیں بس کاروبار شروع کرنے کا ایک موقع چاہئے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈبلیو سی سی آئی نے اسی مقصد کے لئے یوتھ ونگ قائم کیا ہے تاکہ ایسی باصلاحیت خواتین کی رہنمائی کر کے ان کو منزل کی جانب گامزن کیا جائے۔

(ps/mhn/zah 1712 :15)

مزید : کامرس