این اے 122 کے نتیجے نے 2013ء کے انتخابی نتائج کی سچائی پر مہر لگا دی: شہزاد بٹ

این اے 122 کے نتیجے نے 2013ء کے انتخابی نتائج کی سچائی پر مہر لگا دی: شہزاد بٹ
این اے 122 کے نتیجے نے 2013ء کے انتخابی نتائج کی سچائی پر مہر لگا دی: شہزاد بٹ

  


جوہانسبرگ (انٹرویو،ندیم شبیر سے) مسلم لیگ ن کیپ ٹاؤن کے نائب صدر شہزاد بٹ نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 122 کے نتیجہ نے 2013ء کے انتخابی نتائج کی سچائی پر مہر لگا دی اور پی ٹی آئی کے جعلی جمہوریت اور جعلی پارلیمنٹ کے الزامات کو غلط ثابت کردیا۔پی ٹی آئی کے سربراہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کیلئے جھوٹ‘ دشنام اور گالی کا سہارا لیتے ہیں۔ روزنامہ پاکستان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے شہزاد بٹ نے کہا کہ اڑھائی سال سے پی ٹی آئی جعلی جمہوریت، جعلی پارلیمنٹ کے الزامات لگا رہی تھی‘ این اے 122 کے انتخابی نتائج نے یہ الزامات غلط ثابت کردئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی طرح اوکاڑہ میں بھی پی ٹی آئی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی جہاں مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایک رہنما بھی انتخابی مہم میں نہیں گیا جبکہ عمران خان نے انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور جلسہ کیا۔ ان کے امیدوار کو 7 ہزار ووٹ اور ہمارے امیدوار کو 45 ہزار سے زائد ووٹ ملے۔ عمران خان اوکاڑہ کا نتیجہ دیکھ لیں تو انہیں یہ فرق واضح طور پر سمجھ آ جائے گا کہ 2013ء کے انتخابات میں پی ایم ایل (این) کے ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ پی ٹی آئی کو 70 لاکھ ووٹ کیسے پڑے۔ شہزاد بٹ نے کہا کہ عمران خان انتخابی عمل کو متنازعہ بنانے، جمہوری اداروں پر کیچڑ اچھالنے اور عوام کو ووٹ کے حق کے ذریعے حکومت بنانے سے محروم کرنے کی سیاست سے باز آجائیں ۔ انہوں نے کہا اڑھائی سال سے جو الزام تراشی کی جا رہی تھی کہ پارلیمنٹ جعلی ہے اور الیکشن چوری کر کے وجود میں آئی، سپیکر پر بھی الزام لگایا گیا کہ وہ 50 ہزار جعلی ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ یہ سب عمران خان کے الزامات تھے جو وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر لگاتے تھے۔ عمران خان جن چار حلقوں کی بات کرتے تھے ان میں سے ایک حلقہ سردار ایاز صادق کا تھا۔ جوڈیشل انکوائری کمیشن نے عمران خان کے الزامات کو غلط ثابت کیا۔ ان کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ عوام نے ثابت کیا کہ 50 ہزار ووٹ جعلی نہیں تھے۔ اگر 50 ہزار ووٹ جعلی ہوتے تو سردار ایاز صادق کو 20 ہزار ووٹ ملتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد ایاز صادق تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے سپیکر منتخب ہوئے تھے جنہوں نے اس عرصہ میں اپنے وقار کو قائم رکھا۔ انہیں برا بھلا کہا گیا جس کا جواب انہوں نے خندہ پیشانی سے مسکرا کر دیا۔ جنہوں نے اپنی ذات کو سپیکر کے عہدے پر حاوی نہیں ہونے دیا حالانکہ ان کی میز پر پی ٹی آئی کے ارکین کے استعفے بھی موجود تھے، انہوں نے جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہی کیا جو پاکستان کے آئین اور قانون میں ہے۔شہزاد بٹ نے کہا کہ گزشتہ روز کے انتخابات میں ہم کہیں جیتے اور کہیں نہیں لیکن ہم نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے تو 2013ء کے انتخابات کے بعد نہ صرف اپنے لب و لہجہ کو دھیما رکھا بلکہ دوستانہ رویہ بھی اپنایا ۔ ہم نے ماضی کی تلخیوں کو نہ صرف بھلایا بلکہ دفن کردیا جسے عمران خان نے دوبارہ زندہ کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹنگ مارجن کم ہوا ہے۔ 12 اکتوبر کے یوم سیاہ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی کی تلخ یادوں کے ساتھ زندہ رہ کر ہم اپنے بچوں کا مستقبل نہیں سنوار سکتے۔انہوں نے عمران خان کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں اورمل کر پاکستان کو توانائی کے بحران‘ دہشتگردی اور جہالت کے اندھیروں سے نکالیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...