انتخابی اصلاحات کے ذریعے یقینی بنایا جائے کوئی فریق الیکشن کمیشن کو متنازعہ نہ بناسکیں !

انتخابی اصلاحات کے ذریعے یقینی بنایا جائے کوئی فریق الیکشن کمیشن کو متنازعہ ...

کراچی سے نصیر احمد سلیمی

سندھ میں بلدیاتی انتخاب کے پہلے مرحلے اور دوسرے مرحلے کی پولنگ 31اکتوبر اور 19نومبر کو جبکہ تیسرے مرحلے کی پولنگ کراچی میں 3 دسمبر کو ہو گی۔ اندرون سندھ کے بالائی علاقوں میں جن میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع شامل ہیں۔ انتخابی مہم بھی جاری ہے اور جوڑ توڑ بھی، اندرون سندھ حکمران جماعت کی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی خوش قسمتی یہ ہے کہ قومی سیاست کی دعوے دار جماعتیں زبانی جمع خرچ سے آگے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تو نتائج بھی وہی ہوں گے جو ایسے حالات میں ہونے چاہئیں دوسرے مرحلے کی پولنگ جس میں حیدر آباد، میر پور خاص اور نواب شاہ (اب بے نظیر آباد) ہیں۔ ایم کیو ایم نے بھی رابطہ عوام کی مہم کی تیاریاں تو کر لی ہیں۔ مگر شروع نہیں کی، جبکہ کراچی میں تو کاغذات نامزدگی کی منظوری کا مرحلہ ختم ہونے میں ابھی ایک روز باقی ہے کراچی میں ایم کیو ایم اور کس کس جماعت کے درمیان کس حلقہ میں کِس جماعت کے امیدوار کے ساتھ معرکہ ہوگا۔ اس کا اندازہ تو سات نومبر کو ہی ہو سکے گا۔جب الیکشن کمیشن تیسرے مرحلے کے امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان کرے گا۔ ایم کیو ایم نے اپنے استعفے واپس لینے کا اعلان کر کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے امکانات کو زیادہ روشن بنا لیا ہے۔ اب اہم اور بنیادی سوال جو ایم کیو ایم کے لئے بھی ہے اور خود حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے لئے بھی کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو متنازعہ نہ ہونے دیں۔ سندھ میں 2005ء کے ڈے آف پولنگ اور پولنگ سے پہلے کے مراحل میں جو کچھ ہوا۔ اس کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ اس کی تفصیل سے ہر شہری با خبر ہے۔ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے حلقوں میں اس وقت بلدیاتی انتخابات سے بھی زیادہ زیر بحث موضوع یہ ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے رینجرز کے ’’نامعلوم اہلکاروں‘‘ پر شہریوں کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ملوث ہونے کے اشتہارات شائع کرانے والے اصل کردار کون ہیں؟ سلیم کوثر کے مصرعہ کے مصداق

’’سر آئینہ تو میں ہوں پس آئینہ کوئی اور ہے’’

اشتہارات پر اب جتنی بھی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا اہتمام کر لیا جائے۔ اشتہارات کے شائع کرانے والے کراچی کے امن کی بحالی میں مصروف رینجرز کو متنازعہ بنانے کے مشن میں کامیاب ہوئے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اس کردار کے تعین کے بعد ہی ہو پائے گا جس کے لئے وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے۔ آئی۔ ٹی) تشکیل دی ہے۔ یہاں بھی بنیادی سوال یہ ہے۔ جس سے سندھ کا سینئر وزیر جو وزیر اطلاعات بھی ہے اور جس کے محکمے نے سندھ پولیس کے یہ اشتہارات اخبارات میں شائع کرائے ہیں۔ جہاں یہ اشتہارات پندرہ روز شائع ہونے سے پہلے سے موجود تھے۔ اگر متعلقہ وزیر کو بھی اس سے بے خبر رکھا گیا تھا تو اصل کردار کی حیثیت اور طاقت کی شناخت میں دشواری کسی کو نہیں ہونی چاہئے۔ پولیس کی جانب سے شائع کرائے جانے والے اشتہارات نے دہشت گردوں اور شہر کا امن برباد کرنے والے دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے طاقتور سرپرستوں کے خلاف جنگ میں مصروف فورس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، اب سکریٹری اطلاعات کی معطلی سے عسکری قیادت کو مطمئن کرنا مشکل ہے اس کا قابل غور ایک پہلو اس کی ٹائمنگ (وقت) ہے کیا اشتہارات کے اصل کردار کے تعین کے بغیر سندھ میں رینجرز اور فوج بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کو صاف شفاف اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کر پائے گی؟ کیا اس اشتہار کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ رینجرز ڈے آف پولنگ، پولنگ بوتھوں پر نہ ہو؟

لاہور کے حلقہ این اے 122 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ایاز صادق نے 2013ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں بہت کم مارجن سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس پر ایاز صادق مبارک باد ضرور وصول کریں۔ یہ ان کا حق ہے کہ انہوں نے عمران خان اور برطانیہ میں انتخابی مہم چلانے کا کامیاب تجربہ رکھنے والے برطانوی پارلیمینٹ کے سابق رکن اور پنجاب کے سابق گورنرچودھری محمد سرور کی ڈور ٹو ڈور کمپین کے بعد علیم خان جیسے دولت مند کی دولت کے باوجود عمران کو شکست تو دے دی ہے۔

جنابِ عمران خان نے خود یہ اعلان کیا تھا کہ ’’یہ مقابلہ ایاز صادق اور علیم خان کے درمیان نہیں عمران اور نوازشریف کے درمیان ہے۔‘‘ اب عمران خان کو اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کر کے اس حلقے میں اپنی شکست اور نوازشریف کی کامیابی تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔ اور بے وقت کی اس راگنی کی تکرار سے احتراز کرنا چاہئے کہ ’’ثبوت مل گئے تو حکومت کو چلنے نہیں دونگا‘‘ اگر جناب عمران خان اور جناب نوازشریف اور سیاسی عمل کے ذریعہ سیاست کرنے کی دعوے دار دوسری سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے اس دعوے میں مخلص ہیں کہ قوم کی بقا، سلامتی ا ور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کا واحد راستہ آئین کی بالا دستی کو ہر صورت میں مقدم رکھنے میں ہے تو پھر آنے والے انتخابات کو غیر متنازعہ بنانے کے لئے پارلیمینٹ سے جلد از جلد انتخابی اصلاحاتی پیکیج کی منظوری اور اس کا عملی نفاذ کرائیں بصورت دیگر سب کے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کچھ باقی نہیں بچے گا۔ جناب میاں نوازشریف اور جناب عمران خان کو خود احتسابی کے ساتھ حلقہ این اے 122 میں بیلٹ بکس کے تقدس کو ’’زر‘‘ کے زور پر پامال کرنے کے نتائج پر غور کرنا چاہئے۔ اب ناگزیر ہو گیا ہے کہ ہم انتخابی اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے چیف الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے ارکان کو اتنا با اختیار اور طاقت ور بنائیں کہ وہ انتخابی مہم کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب جماعت اور امیدوار کو ’’زر‘‘ کا ہتھیار استعمال کرنے کے جرم میں کھیل سے آؤٹ کر کے دوسروں کے لئے عبرت بنا دیں پڑوسی مُلک بھارت میں الیکشن مہم کے دوران حکمران جماعت یا اپوزیشن جماعت کا بڑے سے بڑا لیڈر جناب عمران خان اور جناب نوازشریف کے زیان درازوں کی طرح الیکشن کمیشن یا اس کے کسی عملے کے خلاف زبان درازی کا مرتکب ہو جاتا تو وہ اپنے امیدوار کی انتخابی مہم چلانے کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند اپنی اپنی زبان درازی کے نتائج بھگت رہا ہوتا جناب عمران خان جو سیاست میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کو اپنا رول ماڈل قرار دینے کی تکرار کرتے نہیں تھکتے ہیں وہ زبان کھولنے سے پہلے ذرا قائد اعظمؒ کی اپنے سیاسی مخالفوں کے بارے میں انداز تخاطب پر غور کر لیں تو کیا حرج ہے۔ جناب عمران خان کو کرکٹ کے کھلاڑی کی طرح نہیں ایک مدبر سیاست دان کا انداز تخاطب اختیار کرنا پڑے گا تب ہی وہ نواز شریف کا متبادل اپنے آپ کو بنائیں گے۔ حلقہ این اے 122 میں پیسے کے کھیل کو کھلی آنکھوں سے برداشت کرنے والے عمران خان نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ میرے پاس بھی وسائل سے محروم با صلاحیت نوجوانوں کے لئے ٹکٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ملک میں آزادانہ ،غیر جانبدارانہ صاف شفاف انتخابات کے لئے ہمیں بھارت کی طرح الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کو با اختیار اور خود مختار بنانا پڑے گا جو بھارتی الیکشن کمشنر کی طرح انتخابی بے قاعدگیوں پر طاقتور سے طاقتور جماعت اور امیدوار کو موقع پر ہی سزا دے کر کھیل سے باہر کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔ اس کے لئے اور انتخابی عمل میں حصہ لینے والی جماعتوں سے کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے قبل ہی تحریری حلف کا اہتمام کرنا پڑے گا کہ اس کی جماعت اس کی بے قاعدگیوں پر اس کی سزا کو الیکشن کمیشن کے خلاف دشنام طرازی کرنے کا جواز نہیں بنائے گی۔ اگر الیکشن کمیشن کسی زیادتی کا مرتکب ہو تو وہ اس کی داد رسی کے لئے صرف عدالت میں جائے گا۔ اب ہمیں بھارت کی طرح مرحلہ وار انتخابی عمل اپنا کر پورے ملک کے نتائج ایک ساتھ کرنے کا عمل اختیار اپنانا چاہئے۔ بھارت میں پولنگ تو الگ الگ مرحلہ وار ہوتی ہے۔ مگر سارے ملک کے انتخابی پولنگ کی گنتی ایک ہی دن اور ایک ہی جگہ ہوتی ہے اور کوئی جماعت انتخابی نتائج کو متنازعہ نہیں بناتی۔ البتہ انتخابی بے قاعدگیوں کے خلاف ہر امیدوار کو الیکشن پٹیشن کے ذریعہ داد رسی کا حق حاصل ہے۔ بھارت کی طرح صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو بھی قومی اسمبلی کے انتخابات سے الگ کرنا چاہئے۔ اب ملک میں مرکز اور صوبوں میں الگ الگ جماعتوں کی حکومتوں کا تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ سب سے اہم انتخابی اصلاح کی ضرورت یہ ہے کہ بعض مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ووٹروں کو یہ آئینی حق دیا جائے کہ اگر کسی حلقے کے11 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے الیکشن کمیشن کو یہ تحریری درخواست دے دیں کہ ہم اپنے حلقہ کے رکن پارلیمینٹ کی کارکردگی سے ناخوش اور غیر مطمئن ہیں تو الیکشن کمیشن پابند ہوتا ہے کہ فوری طور پر اس حلقہ کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کا اعلان کرے۔ ہمیں اپنے ملک کے معروضی حالات کے تحت مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ انتخابی اصلاحاتی پیکج میں شامل کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرنا چاہئے اگر ووٹروں کو یہ حق مل گیا تو پارلیمینٹ کا امیدوار تواتر کے ساتھ اپنے حلقے کے لوگوں کی داد رسی کے لئے متحرک دیکھا جائے گا۔ ایک اطلاع کے مطابق اس تجویز پر برطانیہ میں بھی بڑی سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض ہوتا رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ’’زر‘‘ کے ذریعہ انتخابی عمل کو خراب کرنے والوں کا راستہ الیکشن کمیشن کو روکنے کے لئے حلقہ این اے 122 میں دونوں امیدواروں کے انتخابی اخراجات کا پوری بے رحمی کے ساتھ آڈٹ کا اہتمام کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔

سندھ میں حلقہ این اے 122 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کو اس حلقہ سے جہاں 1970ء میں بھٹو مرحوم کامیاب ہوئے تھے اور 1988ء میں بے نظیر بھٹو (شہید) کامیاب ہوئی تھیں صرف 819 ووٹ ملنا ہر جگہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی کے جیالے اس کا ذمہ دار پارٹی کی ٹاپ قیادت کو قرار دے رہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...