انتخاب ہو گیا، گرم ماحول کو ٹھنڈا کریں!

انتخاب ہو گیا، گرم ماحول کو ٹھنڈا کریں!

لاہور سے چودھری خادم حسین

لاہور کے حلقہ این اے 122 اور پی پی 147 کے ضمنی انتخاب نے انتخابی مہم کے دوران ماحول کو اس قدر گرم (CHARGE) کر دیا گیا تھا کہ کسی بڑے فساد کا شدید خطرہ اور خدشہ لاحق تھا۔ اللہ نے کرم کیا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ماسوا بستی سیدن شاہ کے جہاں آپس میں مکے بازی ہوئی اور کرسیاں چلیں۔ پولیس نے بروقت مداخلت سے معاملہ سنبھال لیا۔ اس کے علاوہ یہاں نعرہ بازی ہوتی رہی۔ آمنے سامنے مقابلے پر بڑھکیں لگیں تاہم کوئی تصادم نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ مسلم لیگیوں نے قومی اسمبلی اور تحریک انصاف والوں نے صوبائی نشست کی فتح کا جشن منایا پھر بھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی ساری توجہ لاہور پر مرکوز کی جبکہ تحریک انصاف نے بھی اسے ہی معرکہ جانا کہ یہ تھا بھی، اسے الیکشن ٹربیونل اور اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سیاسی میدان والے فیصلے نے ایسا بنا دیا تھا، چنانچہ اوکاڑہ کی نشست کو امیدواروں پر چھوڑ دیا گیا۔ معذرت کے ساتھ اگر یہ بتایا جائے کہ اوکاڑہ کی نشست 144 این اے پر عارف چوہدری کو جماعتی حمائت ویسے حاصل نہیں ہوئی جیسے لاہور میں سردار ایاز صادق کو تھی۔ چنانچہ وہاں ایک ہی برادری کے امیدواروں کے درمیاں آپس کا مقابلہ تھا جس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے عارف چوہدری کو آزاد امیدوار ریاض الحق کا سامنا تھا، اور ریاض الحق نے یہ معرکہ بڑے فرق سے جیت لیا، اغلباً وہ جلد ہی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔

لاہور میں فتح مشکل سے ہوتی ہوئی نظر آتی ہے کہ فرق قریباً تین ہزار کا ہے اور یہ فرق 147 پی پی میں دوسری طرف تھا البتہ دوسری دونوں صوبائی نشستوں کے حلقوں سے مجموعی طور پر سردار ایاز صادق کو اتنی برتری مل گئی کہ وہ پی پی 147 کا فرق پورا کر کے بھی جیت گئے۔ ان کے کم فرق سے جیتنے ہی کی وجہ سے تحریک انصاف کے مرکزی راہنما جہانگیر ترین کو یہ کہنے کا حوصلہ ہوا کہ مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا اب اگلا الیکشن تحریک انصاف کا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کی طرف سے شکست تسلیم کرنے کا اعلان کرنے کے بعد بھی بعض توجیحات اور اعتراضات کچھ اچھے نہیں لگے کہ ہار تو ہار ہے۔ شکست تو شکست ہے چاہے ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے، بہر حال عبدالعلیم خان نے مقابلہ کر کے مسلم لیگ (ن) والوں کے سارے اندازے غلط ثابت کر دیئے اور ان کے دعوے بھی پورے نہیں ہوئے کہ فتح بہت بھاری اکثریت سے ہو گی ۔

خواجہ سعد رفیق سیانے اور پرانے کارکن ہیں۔ وہ نتائج کے دوران کہہ رہے تھے کہ رجحان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ فتح بہت زیادہ اکثریت سے ہوگی۔ ان کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا۔ اب مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے معاملات پر غور کرے کہ اس حلقہ میں تناسب کے اعتبار سے تحریک انصاف کی پوزیشن بہتر ہوئی اور مسلم لیگ (ن) کو خسارہ ہوا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ان کی جیت والے حصے کون سے ہیں۔ جن عوام کے غم میں یہ حضرات دبلے ہو رہے ہیں۔ اس حلقہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ان کی طرف سے اعتماد نہیں کیا گیا۔ اور تحریک کو پذیرائی زیادہ تر پوش علاقوں سے ملی ہے۔ نچلے اور نچلے درمیانہ طبقہ کے عوام تک ان کی پہنچ تھوڑے لوگوں تک ہے جو سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سرکاری پالیسیوں سے نالاں ہوتے ہیں، بہر حال اس معرکہ کے بعد اب حالات کو معمول پر لانا دونوں جماعتوں کے لئے ضروری ہے۔

اس سلسلے میں یہ گزارش ضروری ہے کہ تحریک انصاف خط لکھنے میں تیز ہے اور الزام تو بہر حال لگائے ہی جاتے ہیں، اس کی طرف سے چوہدری سرور نے شکست تسلیم کی تاہم عمران خان اور جہانگیر ترین کے علاوہ خود عبدالعلیم خان کا بیان مختلف ہے جہاں تک عمران خان کے اس بیان کا تعلق ہے کہ تحریک جاری رہے گی تو یہ ان کا حق ہے۔ غالباً ان کی تحریک سے مراد جدوجہد ہے۔ بہتر ہوتا وہ انگریزی کا لفظ Struggle استعمال کر لیتے۔ جدوجہد ان کا حق ہے کہ وہ سیاسی جماعت اور جماعت کے قائدین ہیں لیکن اب جدوجہد کچھ سکون والی ہونا چاہئے یہ نہیں کہ پھر سے افراتفری کا سماں ہو وہ غور کریں کہ اوکاڑہ میں ان کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے کہ وہ ماضی میں منتخب اور وزیر بھی رہ چکے ہیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر،انتخابی مہم کے دوران ایک امر بہت واضح ہوا وہ یہ کہ میڈیا سمیت سب نے دل کھول کر انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کی۔ خود رٹ کرنے اور الیکشن کمیشن کو خط لکھنے والے تحریک انصاف والوں کا یہ حال تھا کہ عبدالعلیم خان کی انتخابی مہم کے اخراجات کروڑوں سے نکل کر اگلی سرحد کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ جلسے جلوسوں کے لئے سڑکیں بند کرنا دونوں کا معمول تھا، اور اس سے لاہور کے شہریوں کو بہت پریشانی ہوتی یہ کسی ایک فریق نے نہیں دونوں اطراف سے کیا گیا اب بہتر عمل یہ ہے کہ دونوں نتائج کو تسلیم کریں اور حالات کو معمول پر لا کر قومی اسمبلی کی طرف توجہ دیں، کارروائی میں حصہ لیں۔ حزب اختلاف والے دیانت داری سے اپنا کام کریں اور عوامی مفاد اور مستقبل کے بہتر نظام کے لئے قوانین منظور کرائیں۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طے ہو چکیں۔ کاغذات امزدگی داخل ہوئے یہ بھی جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ ایک تو ان میں ایڈجسٹمنٹ کے لئے جوڑ توڑ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم جاری ہے۔ یہ گلی محلے کے انتخابات ہیں ان پر قومی اثرات تو مرتب ہوں گے تاہم سب پر یہ لازم ہے کہ انتخابی ماحول محلے داری والا ہی رکھیں یہاں گرما گرمی سے پرہیز کیا جائے اور مسائل کے حوالے سے بات کی جائے تاکہ کوئی تنازعہ نہ ہو۔ اللہ سے دعا اور فریقین (جو بھی حصہ لے رہے ہیں) سے استدعا ہے کہ امن، بھائی چارہ اور پیار و محبت اول ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...