بلدیاتی انتخابات: موروثی سیاست اور نئے سیاسی گروپ

بلدیاتی انتخابات: موروثی سیاست اور نئے سیاسی گروپ

شوکت اشفاق

مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں آخرکار بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہو ہی گیا۔ حالانکہ پیپلز پارٹی نے اپنے تاریخی 5 سال بلدیات کا نام لئے بغیر ہی گزار دئیے تھے اور جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو توقع تھی کہ یہ بلدیاتی انتخابات کے لئے کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہوں گے، جس کے لئے عدالتوں کا سہارا بھی لیا گیا اور پھر آخر کار مردم شماری کے نام پر بھی بھاگنے کی کوشش کی گئی، لیکن اعلان کرنے پر ہی تان ٹوٹی جس پر حکومت پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا کہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے۔ اس لئے ایک ہی دن میں بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہ ہے۔ اِس لئے یہ تین مرحلوں میں ممکن ہوں گے، جس کے لئے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا گیا اور سیاسی لوگ تمام مصروفیت چھوڑ کر اپنے اپنے امیدوار کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہو گئے ہیں اور ایک گہما گہمی کا سماں ہے، لیکن سیاست کے پرانے کھلاڑی اپنی اپنی سیاسی ’’ریاست‘‘ یعنی حلقوں میں کچھ سیاسی اور باقی تمام برادریوں پر فیصلے ہو رہے ہیں۔ پرانے سیاسی کھلاڑی اپنی آئندہ نسل کو متعارف کروا رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں میں بڑے سیاسی نام جن میں قریشی ، گیلانی ، سید، کھر، لغاری، مزاری ،دریشک ، کھوسہ، گجر سمیت دوسرے بڑے خاندان اپنے اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور بچوں کو ایک مرتبہ پھر آگے لا رہے ہیں، یعنی موروثی سیاست کی ایک بدترین صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے اور قومی سیاست یا سیاسی وفاداریوں کو بھلا کر مقامی سطح پر نئی سیاسی گروپ بندیاں کی جا رہی ہیں۔ خصوصاً پیپلز پارٹی کا انتخابات میں کوئی پُرسان حال نہیں ہے اور بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ان کی مقامی لیڈر شپ نہ صرف کنفیوژن کا شکار ہے، بلکہ انہیں امیدواروں کے لئے بھی ایک بڑا مسئلہ درپیش ہو چکا ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود نے اپنے بیٹے اور ایک سیاسی حلیف کو اپنے حلقے سے بلامقابلہ منتخب کروا کر پارٹی کا نام کچھ نہ کچھ رکھنے کی کوشش کی ہے ورنہ اس وقت جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی آمنے سامنے نظر آ رہی ہیں اور اس میں بھی تحریک انصاف کا پلڑا کچھ نہ کچھ بھاری لگ رہا ہے، جس کی وجہ (ن) لیگی عہدیداروں اور ارکان اسمبلی کی اپنی سیاسی گروپنگ ہے، کیونکہ اس سطح پر ووٹ سیاسی جماعتوں کو نہیں،بلکہ شخصیت اور برادری کو زیادہ پڑتے ہیں تاہم پارٹی کا کچھ تھوڑا اثر ضرور ہوتا ہے اور جو پارٹی یہ اثر کیش کروائے گی وہ کامیاب ہو گی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے ان انتخابات میں عدلیہ کو کردار نہ دینے اور انتظامیہ کے ذریعے کروانے کو بڑی اہمیت ہو گی، کیونکہ انتظامیہ حکومت کے کہنے میں ہے جو ان انتخابات میں ایک موثر کردار ادا کرے گی۔

الیکشن کمیشن نے ابھی تک بلدیاتی انتخابات کے لئے کسی قسم کے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے، جس سے ایک مرتبہ پھر ان انتخابات کے حوالے سے شکوک و شبہات نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ اس کا کیا بنے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن امیدواروں نے نہ صرف انتخابی مہم شروع کر دی ہے، بلکہ زر ضمانت کی مد میں بھی کروڑوں روپے جمع کروا چکے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت پورے مُلک خصوصاً جنوبی پنجاب میں کسان بری طرح پس رہا ہے۔ گنے کی فصل ہو یا پھر مکئی ہو ‘ گندم کی فروخت کرنی ہو یا پھر نقد آور کہلانے والی کپاس ہو، ہمارے کسان کو اس کا معاوضہ نہ تو پورا ملتا ہے اور نہ ہی وقت پر ملتا ہے۔ اس وقت بھی شوگر ملوں نے کسانوں کے اربوں روپے دبا رکھے ہیں۔ اس طرح کپاس کی مد میں بھی اربوں کے واجبات ہیں، لیکن چونکہ انڈسٹریل نہ صرف خود بلکہ ان کے نمائندے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے بقایا جات کی ریکوری کے لئے حکومت کوئی موثر پالیسی دینے میں بالکل ناکام ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے کسانوں کے لئے ایک ایسے پیکیج کا اعلان کیا ہے ،جس کی رقم ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے، لیکن اس میں کوئی واضح بات سمجھ نہیں آ رہی ،یہ ٹھیک بالکل اِسی طرح ہے جیسا کہ یوتھ قرضہ سکیم کے ساتھ ہوا تھا اور اس پر واقعہ یہ ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ پیکیج بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے معطل کر دیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ کسان برے طریقے سے پس رہا ہے۔ بجلی سے لے کر پانی اور پھر کھاد، یعنی کاشت سے برداشت تک مسائل ہی مسائل ہیں، لیکن حکومت ان کے حقیقی مسائل تک توجہ دینے پر ناکام ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کے لئے اپنے ذیلی ونگ پاکستان کسان بورڈ کے زیر اہتمام کسان راج تحریک کا آغاز کیا ہے، جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق خود کر رہے ہیں اور خصوصاً زرعی علاقوں میں جا کر کسانوں کی ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں، جس میں ان کے مسائل کو اُ جاگر کر رہے ہیں اور حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کروا رہے ہیں کہ کسان اس مُلک کی معیشت میں نہ صرف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بلکہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہیں جس کی وجہ سے یہ مُلک ایک اچھا زرمبادلہ کمانے کے قابل ہوتا ہے،اور اس کی وجہ سے مُلک کی ایک بڑی آبادی کا تناسب اپنا روزگار حاصل کرتا ہے، جس کی طرف حکومت نہ صرف توجہ نہیں کر رہی،بلکہ دوسرے شعبوں کی طرف اس کا رجحان زیادہ ہے جو کسانوں کے لئے مستقبل میں بربادی کر سکتا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں کے حقیقی مسائل پر توجہ کرے۔ اب حکومت جماعت اسلامی کسان راج تحریک کی بات کو سمجھتی ہے کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو اس مسئلے پر توجہ ضروری کرا دی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...