ناظمین کی بھاری تنخواہوں اور اختیارات پر اعتراضات!

ناظمین کی بھاری تنخواہوں اور اختیارات پر اعتراضات!

  



بابا گل سے

محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے ہزاروں ناظمین اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کے لئے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ بھاری بھرکم تنخواہوں پر سنجیدہ اعتراضات اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ ناظمین کی تنخواہوں میں کمی کی جائے صوبائی حکومت نے ضلع ناظمین کے لئے 60 ہزار روپے ماہوار تنخواہ اور گریڈ18 کے لئے 40 ہزار اور نیبر ہوڈ ناظمین کے لئے 20 ہزار ماہوار تنخواہ مقرر کرتے ہوئے بالترتیب گریڈ 17 اور16 کے مساوی مراعات دینے کااعلان کیا تھا محکمہ خزانہ نے ان تنخواہوں پر اعتراضات لگاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہزاروں ناظمین نائب ناظمین تحصیل وٹاؤن ناظمین اور نیبر ہوڈ ناظمین کو بھاری تنخواہیں اور مراعات دی جاسکیں ایسا کرنے کی صورت میں صوبائی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا، تنخواہوں کے اجراء کے لئے محکمہ بلدیات نے محکمہ خزانہ کو سمری ارسال کی تھی جسے محکمہ خزانہ نے اعتراضات لگا کر مسترد کردیا اور تنخواہوں میں کمی کے لئے الگ سمری بنا کر وزیراعلیٰ کو ارسال کر دی گئی ہے جس پر حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک خودکریں گے۔

اس سے قبل صوبائی حکومت نے ناظمین کے اختیارات میں کمی کرتے ہوئے ان سے صوابدیدی اختیارات اور بھرتی کے اختیارات واپس لئے تھے ناظمین کو ملنے والے وسیع اختیارات پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں نہ صرف حزب اختلاف کو شدید اعتراضات تھے بلکہ خود حکمران جماعت اور مخلوط حکومت کے اعتمادی ارکان بھی اس سے ناخوش تھے ناظمین کو ملنے والے وسیع اختیارات کے بعد اراکین اسمبلی خود کو بے اختیار سمجھنے لگے تھے یہاں تک کہ تقرریوں اور تبادلوں میں بھی اراکین اسمبلی بے بس ہوگئے تھے جس پر اسمبلی اجلاس میں شدید احتجاج کیا گیا۔اراکین اسمبلی کے احتجاج کے بعد صوبائی حکومت نے ناظمین کے اختیارات محدود کرنے کااقدام اٹھایا اس فیصلے کے ساتھ ہی محکمہ خزانہ نے ناظمین کی تنخواہوں اور مراعات کو قومی خزانے کے لئے ناقابل برداشت قرار دے دیا ۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنی پارٹی کے ناراض ارکان کو منانے کی حکمت عملی بنا کر ان سے اپنے وزراء کی ملاقاتیں شروع کرادیں کرپشن کے الزام میں احتساب کمیشن کے زیر حراست معزول صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی سے ہسپتال میں بعض وزراء کی ملاقاتوں کے کئی دور ہوئے جس کے بعد ہر وقت وزیراعلیٰ کے خلاف بولنے والے ضیاء اللہ آفریدی پُراسرار طور پر خاموش ہوگئے اسی دوران وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور غانی ایم پی اے جاوید نسیم کے درمیان بھی طویل بات چیت کے بعد راضی نامہ کرا لیا گیا جاوید نسیم تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے بعد میں وزیراعلیٰ کے ساتھ اختلافات کے باعث انہوں نے پرویز خٹک پر سنگین الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے۔ پارٹی کے چیئر مین عمران خان نے جاوید نسیم کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے بھی نکال دیا تھا مگر اب عمران خان ہی کی منظوری سے دوبارہ راضی نامہ کر لیا گیا اور راضی نامہ کے بعد جاوید نسیم کو صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری مقرر کردیا گیا تاہم محکمے کی الاٹمنٹ بھی جلد ہی کردی جائے گی۔

پارٹی کی مرکزی قیادت کی سخت گیر پالیسی کے باعث تحریک انصاف کے متعدد ارکان ا سمبلی کو پارٹی سے نکال دیاگیایا وہ ناراض ہو کر صوبائی حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوگئے جس کی وجہ سے حکومت قائم رکھتے ہوئے اراکین اسمبلی کے اعداد وشمار کمزور پوزیشن کی طرف سے نکل گئے جیسے سنبھالا دینے کے لئے قومی وطن پارٹی کی حکومت میں دوبارہ شمولیت یقینی بنا دی گئی تو دوسری طرف ناراض اراکین کو واپس حکومتی کیمپ میں لانے کی سنجیدہ کوششیں شروع کردی گئیں قومی وطن پارٹی کی حکومت میں شمولیت کے لئے تحریک انصاف کے کسی ایک وزیر کو فارغ کرناناگزیر ہوچکا ہے، چنانچہ اس مقصد کے لئے وزیراطلاعات مشتاق غنی اور قلندر لودھی میں سے کسی ایک کے جانے پر اتفاق ہوا ہے تاہم مشتاق غنی اور قلندر لودھی دونوں میں سے بظاہر کوئی جانے کے لئے تیار نہیں ہے، دونوں ایک دوسرے کو منانے کے لئے مسلسل ملاقاتیں کر کے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں آخری اطلاعات تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد ٹاس کے ذریعے فیصلہ کرنے کا آپشن بھی زیر غور آیا امکان ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کسی کی ناراضگی سے بچنے کے لئے براہ راست کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کرتے نظر آ رہے ہیں شنید ہے کہ دونوں وزراء میں اگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو بالآخر وزیراعلیٰ پرویز خٹک اپنا فیصلہ سنا دیں گے جس کے بعد قومی وطن پارٹی کے وزراء کی تقریب حلف برداری ممکن ہو سکے گی اور صوبائی حکومت کو مزید 10 ارکان کی حمایت مل جائے گی جس سے صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف اپنے کم ترین اراکین کے ساتھ انتہائی کمزور پوزیشن پر آ جائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...