لینڈ کمشن کی ڈیڑ ھ ارب مالیتی اراضی ہتھیانے کیلئے جعلی فرد ملکیت کے استعمال کا انکشاف

لینڈ کمشن کی ڈیڑ ھ ارب مالیتی اراضی ہتھیانے کیلئے جعلی فرد ملکیت کے استعمال ...

 ملتان (نمائندہ خصوصی) پنجاب لینڈ کمشن کی ڈیڑھ ارب روپے مالیت کی اراضی پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے جو فرد ملکیت استعمال کی گئی۔ جو جعلی ثابت ہوئی۔ جعلی فرد ملکیت پر ہی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملتان سے 12لاکھ سے زائد مالیتی اسٹام پیپرز حاصل کئے اور جعلی فرد ملکیت پر رجسٹری دستاویزات تیار کر کے تاؤن ٹیکس ادا کر دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے رجسٹری پرانچ ملتان کا عملہ صرف اپنا مال کھڑا کرنے کیلئے اس حد تک آگے جا چکا ہے کہ وہ رجسٹری دستاویزات کے ساتھ منسلک فرد ملکیت کا باریک بینی سے جائزہ ہی نہیں لیا۔ اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اگلے مرحلہ کیلئے دستاویزات اوکے کر دیتا ہے اسی طرح کی صورتحال پنجاب لینڈ کمشن کی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی کی منتقلی کے دوران پیش آئی۔ رجسٹری عملہ نے فرد ملکیت و دیگر دستاویزات کا سر سری جائزہ لیا اورتمام معاملات کلیئر کر کے سب رجسٹرار سٹی کے سامنے پیش کر دی۔ جس پر سب رجسٹرار سٹی نے پارٹیوں کے بیانات لئے اور اراضی کی منتقلی کی منظوری دیدی، اسی طرح لینڈ مافیا نے باقاعدہ طور پر ٹاؤن ٹیکس بھی ادا کر دیا۔ لیکن سی وی ٹی کی عدم ادائیگی نے تمام لینڈ مافیا کے منصوبہ کو تلپٹ کر دیا۔ جس پر حلقہ پٹواری محمد اعظم خان سے خسرہ نمبر جات کی تصدیق کرائی گئی ہو۔ اس موقع پر پٹواری محمد اعظم خان نے سب رجسٹرار سٹی کے عملہ کی نااہلی کا پول کھول کر رکھ دیا اور انکشاف کیا کہ فرد ملکیت سکین شدہ ہے اور جعلی ہے۔ جس پر سب رجسٹرار سٹی اور اس کے عملہ نے سر پکڑ لیا۔ معلوم ہوا ہے ساری صورتحال واضح ہونے کے باوجود لینڈ مافیا کو فرار ہونے کا راستہ فراہم کیا اور تھانہ چہلیک میں بھی صرف لینڈ مافیا کے خلاف مقدمہ درج کروا کر اپنے اہلکاروں کو بچالیا گیا۔ معلوم ہوا ہے جعلی فرد ملکیت کا استعمال گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ اگر اندر خانہ معاملات درست ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ مفاد کندگان کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کروکر اپنے اہلکاروں کو بچالیا جاتا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...