اراضی فراڈ منظر عام پر آنیکے بعد رجسٹری برانچ کے اہلکار آپس میں لڑ پڑے

اراضی فراڈ منظر عام پر آنیکے بعد رجسٹری برانچ کے اہلکار آپس میں لڑ پڑے

ملتان (نمائندہ خصوصی) پنجاب لینڈ کمشن اراضی فراڈ کے بارے میں حقائق سامنے آنے پر رجسٹری برانچ ملتان کے اہلکار آپس میں لڑ پڑے اور ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ معلوم ہوا ہے گذشتہ روز رجسٹری برانچ ملتان میں تعینات ایک کلرک شفقت حسین نے دوسرے کلرک چوہدری منیر پر الزام عائد کیا کہ لینڈ کمشن اراضی کے بارے میں تمام حقائق میڈیا پہنچائے ہیں۔ جس کیوجہ سے سب رجسٹرار سٹی محمد طلحہ سعید سمیت برانچ کے تمام اہلکاروں کو سبیٰ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر مذکورہ کلرک نے ساتھی اہلکار کو کہا کہ وہ بھی تیار رہے اور مناسب وقت پر جواب کا انتظار کرے۔ دوسری جانب رجسٹری کلرک چوہدری منیر نے برانچ کے تمام اہل کاروں کے سامنے حلف دیا کہ اسے پنجاب لینڈ کمشن اراضی کیس کے بارے میں اخباری خبروں کے ذریعہ پتہ چلا۔ اس کا میڈیا کے کسی نمائندہ سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی اس نے کسی اس کیس کے بارے میں کوئی راز لیک کیا۔ چوہدری منیر کی جانب سے حلف دینے کے باوجود رجسٹری کرلک شفقت حسین کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور اس کے تیوریاں چڑھالیں۔ اس صورتحٓل میں برانچ کے دیگر اہلکاروں نے مداخلت کی اور صورتحال کو کشیدہ ہونیس ے بچالیا۔ تاہم دن بھر رجسٹری برانچ کے اہلکاروں میں تناؤ کی کیفیت برقرار رہی۔ دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا ہے۔ پنجاب لینڈ کمشن کی اراضی فراڈ میں دیگر اہلکاروں کیطرح طارق بلوچ نامی اہلکار بھی اہم کردار ہے ۔ لیکن سب رجسٹرار سٹی محمد طلحہ سعید نے اپنے عملہ کے دیگر کرداروں کے علاوہ محمد طارق بلوچ بھی بچالیا ہے اور جس کیوجہ سے رجسٹری برانچ ملتان سٹی کے اہلکاروں کی خوشی دیدنی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...