10 سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کا زخمی حالت میں عدالت میں بیان

10 سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کا زخمی حالت میں عدالت میں بیان

لاہور(نامہ نگار)مغل پورہ سے 14سال کی عمر میں اغوا ہونے والی خاتون 10سال کے بعد اوکاڑہ سے بھاگ کر والدین کے گھر مغل پورہ پہنچ گئی، جسے کٹے بالوں اور پاؤں میں زنجیروں کے زخموں کے ساتھ سیشن عدالت پیش کیا گیا۔ایڈیشنل سیشن جج اعجاز بوسال کی عدالت میں مغل پورہ کی چوبیس سالہ ملکہ بی بی پیش ہوئی جسے چودہ سال کی عمر میں مغل پورہ سے چھ افراد، احسن، سکندر، احسان، مینہ بی بی ، یاور اور علی شیخ نے اغوا کیا تھا۔ملکہ بی بی کو کٹے بالوں اور زخمی پاؤں کے ساتھ ان کے وکیل میاں عباس شہزاد نے عدالت میں پیش کیا۔ملکہ بی بی نے عدالت کوبتایا کہ وہ محنت مزدوری کرتی ہے، اس کا باپ فوت ہو چکا ہے، دس سال قبل وہ گھر کے باہرکھڑی تھی کہ اس کو6 افراد اغوا کرکے اوکاڑہ لے گئے جہاں اس کو ایک کمرے میں زنجیر ڈال کربند کر دیا گیا۔ اس نے بتا یا کہ اس پر جسمانی تشدد کیا جاتا ، اس کو فروخت کرنے کے لئے لوگوں کو بلایا جاتا، اس کو نامناسب کھانا دیا جاتا ، ملزمان کا تشدد برداشت کرتے 10سال ہو گئے۔ علاقے کے ایک شخص کو اس پر ترس آیا اور اس کو والدین کے پاس پہنچا دیا، وہ انصاف کے لئے عدالت آئی ہے ، استدعا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کو سزا دی جائے۔عدالت نے ملکہ بی بی کے بیان کے بعد ایس ایچ او مغل پورہ سے 21اکتوبر تک رپورٹ طلب کی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...