کالاباغ ڈیم سمیت 7بڑے آبی ذخائر کی تعمیر پر غور شروع کر دیا

کالاباغ ڈیم سمیت 7بڑے آبی ذخائر کی تعمیر پر غور شروع کر دیا

اسلام آباد( اے این این ) وفاقی حکومت نے ایک بار پھر 2018تک ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کادعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں 10 ہزار 600 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر لی جائے گی، کالا باغ ڈیم سمیت 7 بڑے آبی ذخائر کے منصوبوں کی تعمیر بھی زیرغور ہے ، کالا باغ ڈیم کاتفصیلی ڈیزائن اور ٹینڈر دستاویزات 1988 سے مکمل ہیں، چین کی طرف سے چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے اڑتیس ارب روپے توانائی کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے،پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے ممالک کے درمیان رابطوں کا اہم منصوبہ ہے جس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے ، اس پر شکوک و شہبات کی وجہ حقائق سے لا علمی ہے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو چیئر مین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا جس میں بتایا گیا کہ کالا باغ ڈیم آج بھی حکومت کے جاری منصوبوں کا حصہ ہے اس پر عملدرآمد کے لئے حکومت کے فیصلے کا انتظار ہے ، کالا باغ ڈیم بنانے سمیت توانائی کے 7 منصوبے زیر غور ہیں۔نیلم جہلم ہائیڈل منصبوبہ نومبر 2016میں مکمل کیا جائے گا اس کی نظر ثانی لاگت 274ارب 88کروڑ روپے ہے جبکہ 414ارب روپے کا تیسرا پی سی ون منظری کا منظر ہے ۔ کالا باغ ڈیم کاتفصیلی ڈیزائن اورٹینڈردستاویزات 1988 سے مکمل ہیں۔تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس خریف سیزن کے دوران سمندر میں گرنے والے پانی کی مقدار 35.86 ملین ایکڑ فٹ تھی جبکہ 1976 سے2015 تک ملک میں دستیاب پانی اوسطا 144.57 ملین ایکڑ فٹ ہے۔اس موقع پر وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے بتایا کہ واپڈا نے موسم گرما کے دوران پانی کو ذخیرہ کرنیکاجامع منصوبہ تیارکیا ہے۔ پنجاب اور بلوچستان میں چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جارہے ہیں۔ دراور ڈیم ، نئی گج ڈیم ، کرم تنگی ڈیم نولانگ ڈیم ، دیامر بھاشا ڈیم سمیت کئی منصوبے زیر غور ہیں اور اسکے علاوہ کئی منصوبے عملدرآمد کیلئے تیار ہیں۔خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں اس سکیم کے تحت چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بارانی علاقوں میں بھی چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے متعدد منصوبے زیر غور ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ کالا باغ سمیت4منصوبوں پر عملدرآمد زیر غور ہے،موجودہ دور میں 10ہزار600میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر لی جائے گی اور 2018تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں سینٹ کی خصوصی کمیٹی کے فیصلے سے متعلق تاج حیدر اور دوسرے ارکان کی تحریک التوا پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس سال اٹھائیس مئی کو آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والے چین پاکستان اقتصادی راہداری روٹ پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جا رہاہے۔ انھوں نے کہا کہ راہداری کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے بارے میں شکوک وشبہات کی وجہ اسکے حقائق سے لاعلمی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک شاہراہ یا روٹ کا نام نہیں ۔ یہ جامع تصور اور ترقی کا لائحہ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ راہداری منصوبے کے تحت گوادر کی بندرگاہ کی ترقی ، توانائی کے منصوبوں ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتوں کی ترقی سمیت چار شعبوں میں کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کوئٹہ شاہراہ اگلے سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں سینٹ کی کمیٹی اگلے مہینے راہداری کے روٹ کا دورہ کرے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ چین کی طرف سے چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے اڑتیس ارب روپے توانائی کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ سینیٹ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2015 بھی منظور کر لیا۔بعد میں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

کالا باغ

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ منیٰ حادثے میں اب تک 99پاکستانی حجاج کرام شہید ہو چکے ہیں، جن میں 70کی شناخت ہو چکی ہے، ان کو دفنا دیا گیا ہے جبکہ 29کی شناخت ابھی نہیں ہوئی، 47پاکستانی حجاج زخمی ہوئے جن میں سے 45کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے اور 2زیر علاج ہیں جبکہ منیٰ حادثے میں ابھی بھی 18پاکستانی لاپتہ ہیں، لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے سعودی حکام سے مکمل رابطے میں ہیں۔ وہ سینیٹ اجلاس میں منیٰ حادثے پر پالیسی بیان دے رہے تھے۔ جبکہ اس موقع پر اپوزیشن ارکان وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کے بیان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو ارسال کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پاکستانی حکومت سعودی حکومت سے منیٰ حادثے کے حوالے سے معلومات لینے میں بے بس نظر آتی ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ منیٰ حادثہ مسلم امہ اور پوری دنیا کیلئے انتہائی افسوسناک تھا، یہ حادثہ 24ستمبر صبح 10بجے منیٰ204نمبر روڈ پر پیش آیا، جس دن حادثہ پیش آیا پاکستانی حج مشن سمیت وزارت سیکرٹری اور میں خود بھی وہاں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد ہم نے ہیلپ لائن مقرر کی اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی، جس کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ حاجیوں کی رہائش گاہوں میں جائے اور لاپتہ افراد کے کوائف جمع کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب میں میتیں حاصل کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر ہم نے سعودی حج وزیر سے ملاقات کی اور ان کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا، جس کے بعد سعودی حج وزیر نے ہماری مشکلات دور کرنے کیلئے ایک فوکل پرسنبھی تعینات کیا۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ابھی تک منیٰ حادثے میں 99 پاکستانی حجاج شہید ہو چکے ہیں ، جن میں سے 70کی شناخت کرکے ان کو دفن کر دیا گیا ہے اور 29کی شناخت ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں ٹوٹل 47پاکستانی حجاج زخمی ہوئے جن میں سے 45کا علاج مکمل کر کے ان کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ 2حجاج ابھی بھی زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک 18پاکستانی لاپتہ ہیں جن میں سے 8پرائیویٹ حج سکیم کے تحت ،3گورنمنٹ سکیم کے تحت اور 7اقامہ ہولڈر پاکستانی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی شناخت کیلئے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...