بجلی ے بلوں میں جی آئی ڈی سی سے حاصل 11ارب روپے کی تفصیلی رپورٹ طلب

بجلی ے بلوں میں جی آئی ڈی سی سے حاصل 11ارب روپے کی تفصیلی رپورٹ طلب

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں جی آئی ڈی سی سرچارج عائد کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر نیپرا کو صارفین سے اس مد میں وصول کئے گئے 11ارب روپے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے 6 پیداواری کمپنیوں کو بھی درخواستوں میں فریق بننے کی اجازت دے دی ۔ جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزارنے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت اور نیپرا نے بجلی کے بلوں میں جی آئی ڈی سی سرچارج لگا کر عوام سے گیارہ ارب روپے اکٹھے کر لئے ہیں، یہ 11ارب روپے نیپرا نے بجلی کی پیدواری اور تقسیم کار کمپنیوں سے حاصل کرنے تھے مگر سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت اور نیپرا نے آپس میں گٹھ جوڑ کر رکھا ہے، بجلی کے بلوں میں 50فیصد سے زائد سرچارجز اور ٹیکسز لگائے گئے ہیں، حکومت نے بجلی کے بلوں کو پیسہ کمانے والی مشین سمجھ لیا ہے، انہوں نے بنچ سے استدعا کی کہ بجلی کے بلوں میں عائد گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کالعدم کیا جائے، بنچ کے روبرو بجلی کی چھ پیدواری کمپنیوں نے بھی فریق بننے کی استدعا کی، عدالت نے کمپنیوں کو فریق بننے کی اجازت دیتے ہوئے نیپرا کو ہدایت کی کہ بجلی صارفین سے وصول کردہ 11ارب روپے کی تفصیلی رپورٹ 21اکتوبر تک پیش کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...