ملک بھر میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ

ملک بھر میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ

لا ہور(رپورٹ: یونس باٹھ)پنجا ب سمیت ملک بھر میں اغواء برا ئے تا وا ن کی وا ردا تو ں میں تشو یشنا ک حد تک ا ضا فہ ہو گیا ہے ۔ مختلف ادا رو ں کی جا نب سے حکو مت کو پیش کی جا نیوا لی رپو رٹس کے مطا بق پاکستان بھر میں سالانہ اغوا برائے تاوان کی950سے زائد بڑ ی وارداتوں میں کروڑ و ں رو پے کی رقو م تا وان کی مد میں لی جاتی ہیں اور اغوا برائے تاوان کی بڑی وارداتوں میں مڈل مین کا کردار بھی سامنے آیا ہے جس کا کمشن الگ سے وصول کیاجاتا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں اغوا برائے تاوان کی تقریباً11ہزار سے زائد سالانہ وارداتیں ہوتی ہیں جن میں98کروڑ ڈالر سے زائد کی آمدنی و صو لی کی جا تی ہے شہر ی اغوا برا ئے تا وا ن کر نے وا لے مجر مو ں سے اپنے پیا رو ں کو بچا نے کیلئے یہ مکا مک قا نون نا فذ کر نے وا لے ادا رو ں سے با لا با لا کر تے ہیں۔گزشتہ4سال کے دوران سا بق وز یر اعظم یوسف رضا گیلا نی کے بیٹے علی گیلا نی سمیت لا ہور میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا سمیت امریکی شہری ڈاکٹر وارن وائن‘ملتان میں2جرمن باشندوں جیوانی سپاٹو اور مسٹر برڈ‘ لا ہور سے سابق چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) طارق مجید کے داماد اور معروف تاجر ملک عامر کے اغوا اور کینیڈین نژاد بھارتی بینکا رخاتون را جوندر کور گل کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارون کیلئے چیلنج بنے رہے۔پنجاب‘ سندھ‘ اور سرحد سمیت بلوچستان میں بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا الزام کالعدم تنظیموں کے چند گروپوں پر لگایا گیا ہے تا ہم ان کے علاوہ اس ’’پر کشش گھناؤنے کاروبار‘‘ میں سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری گروپ بھی شامل رہے ہیں۔ ایک رپو رٹ کے مطا بق اغوا برائے تاوان کی وارداتیں صرف لا ہور‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ہی نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک عالمگیر طریقہ واردات اور انتہائی پر کشش کاروبار بن گیا ہے۔یہ جرم بھی زیادہ تر لاطینی‘ امریکی ممالک تک رہا لیکن اب یہ تشویشناک حد تک پوری دنیا میں پھیل رہا ہے جن میں پاکستان اور بھارت سر فہرست ہیں۔اس وقت پنجاب میں اغوا برائے تاوان کی سالانہ260سے زائد جبکہ سندھ اور بلوچستان میں سالانہ490سے زائد وارداتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں ا مریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ جو دنیا میں جرائم کی رجحان کا ریکارڈ رکھتی ہے اس نے گزشتہ سال وینزویلا میں اغوا برائے تاوان کی تشویشناک حد تک بڑھتی ہوئی وارداتوں اور پاکستان میں لوگوں کو جبری طور پر اٹھا لے جانے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔2011میں میکسیکو کی حکومت نے رپورٹ دی تھی کہ2005سے ملک میں اس جرم کے ارتکاب میں300فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔اکثر وارداتوں کا ریکارڈ نہ آنے کی وجہ سے حقیقی اعدادو شمار نہیں دئے جا سکتے۔اکثر یرغمالی رہائی کے بعد رپورٹ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان ایک منافع بخش انشورنس بزنس ہے۔ایک امریکی اخبار کے مطابق اغوا برائے تاوان انشورنس میں بعض امریکی فرموں نے اپنے قدم جما رکھے ہیں۔برازیل میں بھی یہ مسئلہ تشویشناک حد تک موجود ہے۔افریقہ میں ہونے والی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اوسط5سے7کروڑ ڈالر تک ناجائز آمدنی ہوتی ہے۔ایک وقت یہ آمدنی9کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی جبکہ دنیا میں اسکا اوسط20لاکھ ڈالر ہے۔برطانوی خارجہ پالیسی سینٹر کے مطابق اقتصادی اغوا دنیا میں تیزی سے فروغ پانے والی صنعت ہے۔ایک تخمینے میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اغوا کار سالانہ98کروڑ ڈالر سے زائدکماتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سالانہ تقریباً11ہزار اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہوتی ہیں جس میں کولمبیا سر فہرست ہے۔ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ کراچی میں قتل کئے جانے والے امریکی صحافی ڈینئیل پرل کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ حکومتوں اور کمپنیوں سے تاوان کی وصولی کیلئے اغوا نہایت موثر ہتھیار ہے۔گزشتہ3سال کے دوران سا بق وز یر اعظم یوسف رضا گیلا نی کے بیٹے علی گیلا نی سمیت لا ہور میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا سمیت امریکی شہری ڈاکٹر وارن وائن‘ملتان میں2جرمن باشندوں جیوانی سپاٹو اور مسٹر برڈ‘ لا ہور سے سابق چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) طارق مجید کے داماد اور معروف تاجر ملک عامر کے اغوا اور کینیڈین نژاد بھارتی بینکا رخاتون را جوندر کور گل کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج بنے رہے۔

اغواء برا ئے تا وا ن

مزید : صفحہ آخر


loading...