وکیل کے ہاتھ میں کتاب اور قلم اچھے لگتے ہیں ، تالانہیں ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

وکیل کے ہاتھ میں کتاب اور قلم اچھے لگتے ہیں ، تالانہیں ، چیف جسٹس لاہور ...

 لاہور (نامہ نگار) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ وکیل کے ہاتھ میں کتاب اور قلم اچھے لگتے ہیں تالا نہیں اور منہ سے دلیل اچھی لگتی ہے گالی نہیں۔ جج بننا سب کی خواہش ہوتی ہے مگر جج بننا مشکل کام ہے۔ اس کے لئے انتھک محنت اور آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مسلسل پڑھائی اس راہ کو طے کرنے کا واحد راستہ ہے۔ جو کتاب اور لائبریری سے ناطہ جوڑ لیتا ہے اس کی منزل آسان ہو جاتی ہے ۔ خصوصا نوجوان وکلاء کو خوش ہونا چاہئے کہ لاہور بار ایسو سی ایشن نے ان کے لئے لائبریری قائم کر رکھی ہے ۔ اس لائبریری سے استفادہ کرنے والوں کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان عدل میں لائبریری کی تزئین و آرائش اور نئی نصب ہونے والی اے ٹی ایم کا افتتاح کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر عدالت عالیہ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن، مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ، رجسٹرار ہائی کورٹ طارق افتخار احمد اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہادر علی خان کے علاوہ ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران اور وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں عدالت میں بیٹھ کر بھی اپنے آپ کو وکیل ہی سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے اپنے سفر کا آغاز کالا کوٹ پہن کر کیا تھا۔ میں خود کو وکلاء سے الگ نہیں سمجھتا ۔ میرا اور وکلاء کا رشتہ مرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹے گا۔ میں وکلاء کا ہوں اور وکلاء میرے ہیں۔ میرے جنازے کو وکلاء نے ہی کندھا دیناہے ۔ مجھے نوجووان وکلاء میں اپنا چہرہ نظرآتا ہے اسی لئے میں انہیں سکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو بنانا میرا خواب تھا۔ میں نے چیف جسٹس کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے کام شروع کردیا اور آج میں اس میں سرخرو ہو کر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام آئیڈیل نہیں۔ بنچ اور بار میں خامیاں ہیں۔ ہم نے ان خامیوں کو ٹھیک کرنا ہے بگاڑنا نہیں۔ وکیل کے ہاتھ میں کتاب اور قلم اچھے لگتے ہیں تالا نہیں اور منہ سے دلیل اچھی لگتی ہے گالی نہیں۔ انسان کو عزت، احترام اور تعریف ملے تو خوش ہونا ایک فطری عمل ہے اور اگر یہ سب کچھ اپنے گھر سے ملے تو انسان بہت زیادہ پر اعتماد ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور بار ایسوسی ایشن میرے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے اور اس کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے میرے اقدامات اور کاوشوں کو سراہا جانامیرے لئے بے حد خوشی اور مسرت کا باعث ہے۔ میں اپنی تمام تر کامیابیوں پر خدا کا مشکور ہوں اور اس پاک ذات کے بعد میں لاہور بار ایسو سی ایشن کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا جس نے مجھے نام، شناخت ، رزق اور عہدہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پنجاب کے تمام وکلاء سے بے حد پیار ہے لیکن لاہور بار میں انکا قانونی جنم ہوا اور بطور وکیل یہاں پرورش پائی، انہوں نے اوائل میں یہاں بھوک بھی دیکھی، سختیاں بھی جھیلیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس بار پر توکل رکھا۔ میں نے بار کے لئے جو کچھ کیا وہ کوئی احسان نہیں یہ انکا اولین فریضہ تھا اور اپنے فرض کی ادائیگی پر وہ بہت خوش اور اللہ کے شکر گزار ہیں اور وہ خواہش رکھتے ہیں کہ اس بار کیلئے وہ مزید بہت کچھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر سمیت بار کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کے حوالے سے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے بھرپورکام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس سید منصور علی شاہ پنجاب کی عدلیہ کے لئے ایک اثاثہ ہیں جوہر وقت سسٹم اور وکلاء کی بہتری کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ میں کیس مینجمنٹ پلان کے قیام سے لے کر ضلعی عدلیہ میں لائی جانے والی تمام اصلاحات کا سہرا جسٹس منصورعلی شاہ کے سر ہے۔ بطور جونیئر وکیل میرا یہ خواب تھا کہ ا سپیشل کورٹس سنٹرل اور بنکنگ کورٹس کی تعداد میں اضافہ ہو اور تمام خصوصی عدالتیں ایک جگہ یکجا ہوں اور آج وہ اپنے خواب کی تکمیل پر بہت خوش ہیں۔فاضل چیف جسٹس نے جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر اور وکلاء چیمبرز کی منظوری پرانتظامیہ کو بھی سراہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چیف جسٹس کی رہنمائی میں پنجاب بھر کی عدلیہ نے کثیر تعداد میں مقدمات کے فیصلے کئے اور تمام پرانے مقدمات کو میرٹ کے مطابق نمٹایا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی کاوشوں کی بدولت جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو کی تعمیر، پارکنگ اور وکلاء چیمبرز کی تعمیر سے سائلین اور وکلاء کو سہولت ہوگی جس سے نظام عدل میں بہتری آئے گی۔صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری اشتیاق اے خان نے جوڈیشل کمپلیکس کی جلد تعمیر، تمام عدالتوں کو یکجا کرنے، وکلاء کے لئے چیمبرز کی تعمیر کے سنگ بنیاد اور وسیع پارکنگ کی تعمیر پر چیف جسٹس اور عدالت عالیہ کا شکریہ اداکیا۔تقریب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہادر علی خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، تقریب کے اختتام پر لاہور بار کی جانب سے چیف جسٹس منظور احمد ملک ، سینئر ترین جج مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن، مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ، رجسٹرار طارق افتخار احمد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہادر علی خان اور سینئر سول جج کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...