لاہور میں ن لیگ کی کامیابی ،اثرات سندھ پر بھی مرتب ہونگے

لاہور میں ن لیگ کی کامیابی ،اثرات سندھ پر بھی مرتب ہونگے

تجزیہ:نعیم الدین

قومی اسمبلی کے حلقہ 122 میں ن لیگ کی کامیابی کی ڈوریاں سندھ میں نواز لیگ کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہونگی۔ اس وقت ن لیگ کو سندھ میں اپنے آپ کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ 1999 تک نواز لیگ کی یہاں حکومت رہی اور اسکے بعد نواز شریف کے دوبارہ آنے سے سندھ پر پیپلز پارٹی کا تسلط برقرار ہے، نواز شریف کے سندھ کے دورے بھی ہوتے رہے ،لیکن اب تک کوئی مضبوط ٹیم سامنے نہ آسکی جبکہ ن لیگ نے سندھ کی اہم شخصیات جن میں ممتاز علی بھٹو اور ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ کو بھی وہ مقام نہیں دیا جو ان کے شایان شان ہونا چاہیے تھا۔ مسلم لیگ ن کے پاس ایک اچھا موقع ہے کیونکہ جلد ہی سندھ میں بلدیاتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ مسلم لیگ کے مختلف گروپس اپنے آپ کو یکجا کرنے میں مصروف ہیں، اور ان کی جدوجہد جاری ہے ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مشرف لیگ بھی اس اتحاد کا حصہ بننا چاہ رہی ہے، ایسی صورتحال میں نواز لیگ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، لیکن لاہور این اے 122 کا معرکہ نواز لیگ کیلئے سندھ میں بہتری کے آثار پیدا کرسکتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کو اب پنجاب کے علاوہ اگر سندھ میں خصوصی توجہ دینی ہے تو انہیں مہینے میں کم از کم دو تین دن اندرون سندھ کے دورے کرنے ہونگے اور زیادہ سے زیادہ سندھ کو وقت دینا ہوگا۔ پنجاب میں ن لیگ کو 122 کے الیکشن سے بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ کیونکہ اس ضمنی انتخاب میں سخت مقابلہ تھا اور پورے ملک کی نظریں تھیں۔ اس الیکشن میں وزیراعظم میاں نواز شریف کیلئے لمحہ فکریہ پیدا کیا ہے کیونکہ اُن کی جماعت اپنے روایتی گڑھ میں کامیاب ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی مخالف جماعت تحریک انصاف نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو اب اگر ملک کے تمام صوبوں میں اپنے آپ کو منوانا ہے تو بنیادی ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔ جن میں عوام کی اہم ضرورت ماتحت عدالتوں کا نظام، پولیس کا نظام ، ہسپتال اور تعلیم ان شعبوں پرپنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں بھی نظر رکھنا ہوگی ۔ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بیوروکریسی پرنظر رکھنی ہوگی ۔اخراجات کم کرنا ہونگے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کو بھی اس الیکشن کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کو مثالی صوبہ بنانے کی طرف خصوصی توجہ دینا ہوگی ، اسی طرح پیپلز پارٹی کے پاس بھی اس وقت اہم موقع ہے کہ جو وقت گذرگیا ، اُسے سامنے رکھتے ہوئے صوبے کے عوام کی غربت کے خاتمے کے لیے ایسی اصلاحات کرے کہ عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے اور عوام کو حکومتوں پر زیادہ سے زیادہ اعتماد ہوسکے۔

مزید : تجزیہ


loading...