فیصل آباد، بلدیاتی چودھراہٹ کیلئے رانا ثناء اللہ اور شیر علی گروپ کی ’’جنگ‘‘ گلی کوچوں میں پہنچ گئی

فیصل آباد، بلدیاتی چودھراہٹ کیلئے رانا ثناء اللہ اور شیر علی گروپ کی ...

فیصل آباد سے تجزیہ:منیر عمران

ن لیگ کی مرکزی قیادت کی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجودبھی فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے دو بڑے دھڑوں میں کوئی مستقل مفاہمت نہیں کرا سکی‘ ان میں سے ایک دھڑے کو رانا ثناء اللہ گروپ اور دوسرے کو چوہدری شیر علی گروپ کا نام دیا جاتا ہے. ن لیگ کے مقامی ایم این ایز‘ایم پی ایز اور دیگر رہنما کسی نہ کسی سیاسی مصلحت‘ ذاتی رنجشوں یا گلے شکووں یا سیاسی و ذاتی مفادات کی بناء پر ایک گروپ سے دوسرے گروپ میں آتے جاتے رہتے ہیں. ان رہنماؤں میں چند ایک تو ایسے بھی ہیں جو زیادہ جوش کے ساتھ کسی کی مخالفت کرنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو جوش میں ہوش بھی گنوابیٹھتے ہیں اور پھر جو اچھا برا ذہن میں آتا ہے بلاجھجک زبان سے کہہ دیتے ہیں بلکہ کسی جلسہ عام کے اسٹیج پر بھی وہ غیر مہذبانہ الفاظ کہنے میں کوئی شرم ‘جھجک محسوس نہیں کرتے ایک دور تھا جب میاں عبدالمنان پیپلزپارٹی کے جیالے اور چوہدری شیر علی مسلم لیگ کے متوالے ہوتے تھے‘الیکشن کے دنوں میں جب جلسے یا کارنر میٹنگز ہوتی تھیں تو وہ ایک دوسرے کے خلاف وہاں ایسی ایسی غیر مہذبانہ زبان درازیاں کرتے تھے کہ وہ سیاسی جلسے کم اور لچر پروگرام زیادہ لگتے تھے اور وہاں موجود خواتین رہنماؤں یا ورکروں کی موجودگی کا بھی انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا تھا‘ کئی لوگ تو ان کی وہ زبان درازیاں سننے اور ان کی ’’حرکات‘‘ اور فحش اشارے کنائے ہی دیکھنے جاتے تھے۔پھر اس کے بعدایک ایسا دور آیا جب میاں عبدالمنان مسلم لیگی بن گئے اور پھر دونوں کے درمیان صلح ہو گئی اس طرح ایک دوسرے کے خلاف ان جلسوں اور میٹنگز میں استعمال ہونے والی غیر مہذبانہ زبان درازیاں‘ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے فحش الزامات اس صلح تلے دب گئے مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ وہ پھر ایک ہی جماعت میں رہ کر ایک دوسرے کے پہلے کی طرح حریف بن گئے اور بند زبانیں پھر کھل گئیں‘ اس طرح کا عمل دو تین بار ہوا مگر بالآخر میاں عبدالمنان ‘رانا ثناء اللہ گروپ میں شامل ہو گئے بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سابق ایم پی اے خواجہ محمد اسلام جو چوہدری شیر علی کے سب سے زیادہ معتبر ساتھی سمجھے جاتے تھے اورجن کو چوہدری شیر علی نے کارپوریشن لیگ کا صدر بنوا کر مخالفین کے سامنے کھڑا کردیاتھامگر چوہدری شیر علی کی یہ ’’ادا‘‘ موجودہ ایم پی اے اور چیئرمین ایف ڈی اے شیخ اعجاز احمد کو پسند نہ آئی اور بالآخر وہ سیاسی سفر طے کرتے کرتے رانا ثناء اللہ گروپ میں شامل ہو گئے پھر نہ جانے کون سے مفاد ٹکرائے کہ چوہدری شیر علی اور خواجہ محمد اسلام کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے اور پھر خواجہ محمد اسلام نے بھی رانا ثناء اللہ گروپ کو اپنی پناہ گاہ سمجھ لیا ان کے وہاں جانے سے چوہدری شیر علی کی سیاسی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی یہی کچھ سابق میئر فیصل آباد ملک محمد اشرف کے ساتھ بھی ہوا جو اپنے پہلے سیاسی نوجوانی کے دور میں چوہدری شیر علی کو اپنے باپ کا درجہ دیا کرتے تھے جب میئر شپ کے مفادات ٹکرائے تو وہ دونوں بھی ایک دوسرے کے نہ صرف سیاسی حریف بلکہ ذاتی حریف بھی بن گئے‘ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو خوب آئینہ دکھایا‘ لیکن مختلف سیاسی قلابازیوں کے بعداب ایک بار پھر خواجہ محمد اسلام اور ملک اشرف کو چوہدری شیر علی گروپ میں ہی سیاسی سکون محسوس ہوا اور وہ دونوں اب چوہدری شیر علی گروپ کے اہم ارکان کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں 31اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے ’’سیاسی شطرنج‘‘ کی نئی چالیں چلی جا رہی ہیں‘جو حالات لاہور کے حلقہ این اے 122میں پی ٹی آئی کے بظاہر جیتے ہوئے امیدوار علیم خاں کی شکست کا باعث بنے اس سے بھی کہیں زیادہ برے سیاسی حالات کی جھلک سوموار اور منگل کی درمیانی شب غلام محمد آباد میں دکھائی دیئے کہ چوہدری شیر علی گروپ کے حامیوں نے رانا ثناء اللہ گروپ کے حامی ایم پی اے نواز ملک اور ان کے فیملی ممبران و ساتھیوں کے خلاف تھانہ غلام محمد آباد میں ایک فوجداری مقدمہ درج کروا دیا ہے جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں ایسا ہی ایک مقدمہ نواز ملک کے حامیوں کی طرف سے بھی درج کروایا جا چکا ہے جس میں پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے اور چوہدری شیر علی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی حمایت کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی کو نواز ملک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں. دراصل بلدیاتی چودھراہٹ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں اور غیر سیاسی گروپوں کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے کچھ عرصہ پہلے چوہدری شیر علی نے جو اپنے آپ کوبلدیاتی سیاست کے بابا کہلوانا پسند کرتے ہیں سیاسی جوڑ توڑ شروع کر دیئے. وہ رانا ثناء اللہ گروپ سے بعض ناراض لیگی رہنماؤں کو اپنا ساتھی بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے. نواز ملک ایم پی اے کو بھی مسلم لیگ یوتھ ونگ پنجاب کے متنازعہ صدرمیاں غلام حسین شاہد کی سفارش پر چوہدری شیر علی ہی میدان سیاست میں لے کر آئے تھے‘پہلے پہل تو نواز ملک ان دونوں کے مشکور بھی نظر آتے رہے مگر کچھ عرصہ بعد وہ صرف میاں غلام حسین شاہد کے ہی مشکور ہو کر رہ گئے اور چوہدری شیر علی کو سیاست میں اپنا محسن تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے اور پھررانا ثناء اللہ گروپ کے حامی دکھائی دیئے. خواجہ اسلام تو اب چوہدری شیر علی گروپ کے صف اول کے رہنما ہیں. خواجہ محمد اسلام کی اب چوہدری شیر علی کی حمایت کے جذبات میں جتنا جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ چوہدری شیر علی نے ان کے کان میں کوئی ایسی پھونک ماری ہے کہ ان کے پاؤں زمین پر ٹک نہیں رہے۔کسی بڑی خوش گمانی کا شکار محسوس ہو رہے ہیں یا پھرچوہدری شیر علی پر اندھے اعتماد کا اظہار کر کے کوئی ’’سرداری‘‘ حاصل کرنے کے تمنائی ہیں لیکن ایسا محسوس ہور ہا ہے کہ چوہدری شیر علی نے ماضی میں ملک اشرف جیسے قابل اعتماد منہ بولے فرزند کی وفا کو بدلتے دیکھ کر کافی سبق سیکھ لیا ہے اور اب وہ ’’اپنے خون‘‘ کے سوا کسی اور کے سرپر فیصل آباد کی چودھراہٹ کا سہرا دیکھنا پسند نہیں کرتے اور امکان ہے کہ وہ ’’تاش‘‘ کے اس کھیل کے آخر میں اپنا آخری پتا شو کریں گے یہی وہ الزام ہے جو نواز ملک اور دوسرے ن لیگی رہنماؤں نے اپنی گذشتہ روز کی پریس کانفرنس میں لگایا ہے. اس ساری سیاسی گیم کا آغاز چوہدری شیر علی نے دو تین ماہ قبل اس وقت کیا تھا جب حسب روایت انہوں نے ایک جلسہ عام میں رانا ثناء اللہ خاں کو کئی انسانی زندگیوں کا قاتل قرار دیا تھا اور ان کے خلاف اتنا زہر اگلا تھا کہ ن لیگ کی مرکزی قیادت بھی فکر مند ہو گئی اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری شیر علی کو مرکزی قیادت کے سربراہوں نے چند روز کیلئے اپنے پاس مہمان کے طور پر رکھا اور ان کے ’’ذاتی تقاضوں اور سیاسی مطالبات پر‘ ہمدردانہ غور کرنے کا یقین دلا کر انہیں کم از کم رانا ثناء اللہ کی ذات کی حد تک خاموشی اختیار کرنے پر کافی حد تک رام کر لیا اور پھر اس کے بعد ’’تو پوں‘‘ کا رخ رانا ثناء اللہ گروپ کے دیگر رہنماؤں کی طرف مڑ گیا جنہوں نے اب چوہدری شیر علی اور ان کے صاحبزادے وفاقی وزیر مملکت چوہدری عابد شیر علی پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی اندر کھاتے حمایت کا الزام عائد کیا ہے‘ ان کا خیال ہے کہ چوہدری شیر علی فیصل آباد کی بلدیاتی چودھراہٹ کے حصول کیلئے کسی کی بھی حمایت بھی کر سکتے ہیں خواہ وہ پی ٹی آئی ہی کیوں نہ ہومگر چوہدری شیر علی کے قریبی حلقے نواز ملک اور ان کے حامیوں کے اس الزام کو یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ چوہدری شیر علی مسلم لیگ ن کو کسی بھی صورت میں نقصان نہیں پہنچا سکتے‘ چوہدری شیر علی نے سیاست میں آ کر میاں فاروق اور قاسم فاروق کو کھویا ہے تو خواجہ اسلام کو پھر پا بھی لیا ہے اور وہ ہمیشہ ’’بیلنس‘‘ کو مدنظر رکھتے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...