معلومات تک رسائی کے قوانین میں پاکستان کا 83 واں نمبر

معلومات تک رسائی کے قوانین میں پاکستان کا 83 واں نمبر
معلومات تک رسائی کے قوانین میں پاکستان کا 83 واں نمبر

  


اس حدتک تو بات درست ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں کی بنیادی سوچ عوام سے معلومات کو چھپانا ہے۔ا س ضمن میں قوانین بھی موجود ہیں ۔ جو سرکاری اداروں کو عوام کو معلومات فراہم نہ کرنے کا قانونی جواز فراہم کرتے ہیں۔ سارا زور ہی اس بات پر ہے کہ عوام تک سچ نہ پہنچ جائے۔ عام اور معمولی نوعیت کی معلومات کو بھی اہم قرار دیکر عوام سے دور کر دیا جاتا ہے۔ ایک حد تک یہ حکمت عملی ٹھیک بھی ہے کہ کہ اگر سچ عوام تک پہنچ جائے گا تو انہیں گمراہ نہیں کیا جا سکے گا۔ ان سے جھوٹ نہیں بو لا جا سکے گا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ گڈ گورننس کے مطلوبہ معیار عوام سے سچ چھپا کر نہیں حاصل کئے جا سکتے۔ بلکہ اس کے لئے عوام کو سرکار کی ہر معلومات تک رسائی دینی ہو گی۔ جب تک سرکاری افسران اور سیاستدانوں کو یقین نہیں ہو گا کہ ان کے غلط کام کے ثبوت فوراً عوام تک پہنچ جائیں گے۔ تب تک غلط کام رک نہیں سکیں گے۔ یہ سوچ کہ میرے غلط کام کا کسی کو پتہ نہیں لگے گا۔ فائل غائب ہو جائے گی۔ کسی کو اس کی کاپی نہیں ملے گی۔ غلط کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

پلڈاٹ نے گزشتہ روز پنجاب اور کے پی کے میں معلومات تک رسائی کے بننے والے نئے قوانین پر ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں پنجاب انفارمیشن کمیشن کے مختار احمد علی اور کے پی کے رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے عبدالمتین خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔پاکستان کے ان دو صوبوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے عوام کی معلومات تک رسائی کے نئے قوانین بنائے ہیں۔ یہ کہا جا تا ہے کہ یہ قوانین بنیادی طور پر ایک ہی ہیں۔ صرف چند معمولی نوعیت کے فرق ہیں۔

عجیب بات ہے کہ وفاق میں معلومات تک رسائی کا جو قانون ہے اسے سب فرسودہ اور غیر معیاری قرار دے رہے ہیں۔ اور یہ قانون معلومات تک رسائی دینے کی بجائے معلومات کو عوام تک پہنچنے سے روکنے لگتا ہے۔ اس قانون کی سب سے بری بات یہ ہے کہ کسی بھی کاغذ اور معلومات کو یہ کہ کر دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ یہ آفیشل سیکرٹ ہے۔ اور وفاقی اداروں میں اس وقت یہ رحجان زور پکڑ رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات اور کاغذات کو سیکرٹ قرار دے دیا جائے۔ یہ اختیار بیوروکریسی کے پاس ہے اور وہ اسے حسب عادت غلط استعمال کر رہی ہے۔

سندھ اور بلوچستان نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مرکز کا قانون حکومت اور بیوروکریسی کے حق میں ہے۔ عوام کے خلاف ہے ۔ انہوں نے فوری طور پر اس کو کاپی کر لیا ہے۔ ایک لفظ بھی تبدیل نہیں کیا گیا ۔ عجیب بات ہے کہ یہ دونوں صوبے ویسے تو ہر بات پر مرکز سے نالاں رہتے ہیں ۔ لیکن صرف یہ ایک قانون ہے جس پر سندھ اور بلوچستان مرکز کے حمائتی نظر آئے ہیں۔ اس طرح سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں بھی مرکزی حکومت کے شانہ بشانہ عوام تک معلومات کی رسائی کے قانون کی آڑ میں عوام سے معلومات چھپانے کا کام کر رہے ہیں۔

چلیں یہ صورتحال تو اپنی جگہ لیکن اس سے بھی بری صورتحال موجود ہے۔ گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور فاٹا میں تو معلومات تک رسائی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اس لئے یہ حکومتیں عوام سے سچ چھپانے کے لئے پاکستان کی باقی حکومتوں کی نسبت زیادہ آزاد اور خود مختار ہیں۔

کے پی کے سے آنے والے عبدالمتین خان نے بتا یا کہ انہوں نے اس بات کی بہت کوشش کی ہے کہ کے پی کے کے قانون کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا جائے۔ اس ضمن میں پہلے گورنر کے پی کے تیار نہیں تھے۔ مگر جب وہ مان گئے تو اب وفاقی حکومت نہیں مان رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کہا ہے کہ ٹھیک ہے فوج۔ ایف سی۔ لیویز۔ اور پولیس کو فاٹا میں ا س قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ لیکن تعلیم صحت زراعت اور عوامی اہمیت کے دیگر محکوں کی معلومات تک تو عوام کو رسائی دی جائے۔ لیکن وفاقی حکومت نہیں مان رہی۔

عجیب بات یہ ہے کہ سرکاری افسر تو اپنی جگہ منتخب عوامی نمائندے بھی اس قانون کے حق میں نہیں ہیں۔ اس ضمن میں پلڈاٹ کے احمد بلال محبوب نے ایک واقعہ بتا یا کہ جب قومی اسمبلی سے ارکان قومی اسمبلی کی اجلاسوں میں حاضری کی تفصیلات مانگی گئیں۔ تو سپیکر قومی اسمبلی نے اس کو سیکرٹ انفارمیشن قرار دے دیا۔ ایک بھر پور قانونی جنگ کے بعد یہ تفصیلات حاصل کی گئیں۔ان کا موقف تھا کہ اگر کمزور قانون کا بھی پوری طاقت سے پیچھا کیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے لوگوں کے پاس پلڈاٹ جتنے وسائل اور طاقت ہے کہ وہ سرکاری مشینری سے لڑ سکیں۔ اسی طرح کے پی کے سپیکر بھی اس قانون سے خوش نہ تھے۔ اور انہوں نے ایک پرائیوٹ ممبر کے ذریعے ایک بل منظور کروا کر معلومات کی رسائی کے قانون سے کے پی کے کی صوبائی اسمبلی کو استثنیٰ حا صل کروا دیا۔ وہ تو اس کے بعد اتنی تنقید ہوئی کہ سپیکر کو اس ترمیم کو واپس کروانا پڑا۔ اور منہ کی کھانی پڑی۔

دنیا میں ایک ادارہ CLD GLOBAL RTI RATING دنیا بھر کے ممالک میں معلومات کی رسائی کے جو قوانین موجود ہیں۔ ان کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اس وقت دنیاکے 102 ممالک میں پاکستان کا 83 واں نمبر ہے۔ بھارت تیسرے نمبر ہے۔ وفاقی حکومت نے معلومات تک رسائی کے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا ہوا ہے۔ جو کابینہ کی منظوری کا متلاشی ہے۔ اور یہ منظوری حاصل نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ لیکن اگر یہ قانون منظور ہو جائے تو پاکستان اس ضمن میں پہلے نمبروں میں آجائے گا۔

مزید : کالم


loading...