تحریک انصاف نے صوبے میں رائج فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا ،مشتاق احمد غنی

تحریک انصاف نے صوبے میں رائج فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا ،مشتاق احمد غنی

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخو ا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ اور اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ اتحادی صوبائی حکومت نے بہترین طرز حکمرانی کو جنم دے کر صوبے میں رائج پرانے فرسودہ 60سالہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں شفاف نظام کی بنیاد رکھ دی ہے اور پورے ملک کو دکھادیا ہے کہ خیبر پختونخوا ایک کرپش اور رشوت فری صوبہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور کے تین روزہ دورہ پر آئے ہوئے صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کے سینئر صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، لاہور کے سینئر صحافیوں پر مشتمل وفد کی قیادت نعیم مصطفی کر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے وفد کو صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی، اصلاحاتی ایجنڈا، خصوصی اقدامات اور صوبہ میں جاری میگا پراجیکٹس سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ اس سے قبل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان نے صحافیوں کے وفد کو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے امور، کارکردگی اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں سے متعلق تفصیلات فراہم کیں جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ محمد شعیب الدین نے وفد کو مذکورہ محکمے کی مجموعی کارکردگی، صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات، جدید ٹیکنالوجی سے قائم کیا جانے والا میڈیا سیل سمیت دیگر محکمانہ امور سے متعلق بریفنگ دی۔ اپنے افتتاحی کلمات میں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ مشتاق احمد غنی نے سینئر صحافیوں کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے نظام کی تبدیلی کا عزم کیا کیوں کہ ایک کرپٹ نظام کی بنیاد پر تبدیلی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ حکومت نے تمام محکموں سے کام لینا شروع کر دیا ہے اور عوام کا اب سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ مشتا ق احمد غنی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سالانہ مالی بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ شعبہ تعلیم کیلئے مختص کیا ہے،ماضی میں تعلیم کے نام پر قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق کیا، دو کمروں کے سکول میں 5کلاسز پڑھائی جاتی تھیں اورصرف دو اساتذہ ڈیوٹی پر مامور تھے اور وہ بھی غیر حاضر رہتے تھے لیکن موجودہ حکومت نے اب پرائمری سطح پر کمروں کی تعداد کم سے کم 6 کر دی ہے اور ہر کلاس کیلئے ایک استاد تعینات کیا گیا ہے۔صوبے میں یکساں نظام تعلیم رائج کر کے سرکاری سکولوں میں انگلش میڈیم کلاسز کا اجراء کیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ایک شفاف اور خودمختار ادارے این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔ مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ ماضی میں اشخاص کو نوازنے اور وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات کرنے کے لئے یونیورسٹیاں بنائی گئی ہیں، اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا اعلیٰ تعلیمی ادارے کا وجود صرف کسی کو وائس چانسلر کا عہدہ نوازنے کے لئے قائم کیا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اب ایک سرچ کمیٹی قائم کی ہے جس میں ایک اچھی شہرت کے حامل لوگ ممبر ہیں اور یہی کمیٹی قابلیت کی بنیاد پر وائس چانسلر کا انتخاب کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں یونیورسٹیوں کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے داخلوں سے لیکر بھرتیوں تک یونیورسٹیوں میں ہر قسم کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ کر دیا ہے، موجودہ حکومت نے یونیورسٹیوں کوان کے بنیادی کام ریسرچ پر لگا دیا ہے ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم وہ واحد محکمہ ہے جو اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا ہدف 100فیصد حاصل کرتا ہے۔ مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سٹریٹ چلڈرن پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اورایسے بچوں کی رہائش و تعلیم کے اخراجات صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی اور اس مقصد کیلئے پشاور کے علاقہ خزانہ میں سٹریٹ چائلڈ کی رہائش کا بندوبست کر لیا گیا ہے، موجودہ حکومت تعلیم کو عوام کیلئے مشکل نہیں بلکہ آسان بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی اور ہائر ایجوکیشن ٹیسٹینگ اٹھارٹی کے زریعئے کالجز میں لیکچررز کی تعیناتی سے لیکر لیکچر کی ڈیلیوری تک باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جا تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کالجز سمیت مختلف سرکاری اداروں کو خود مختاری دینے کا سوچ رہی ہے جس کے مستقبل میں بہترین نتائج سامنے آسکتے ہیں لیکن حکومت ایسا کوئی کام نہیں کرے گی کہ جس سے عوام کو تکلیف یا پریشانی سے دوچار ہونا پڑے کیوں کہ موجودہ حکومت حقیقی معنوں میں ایک عوامی حکومت ہے جس میں اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہیں، موجودہ حکومت نے معلومات تک رسائی کا قانون منظور کرا کے خود کو عوام کے سامنے کھلی کتاب کی طرح رکھ دیا ہے، اب شہری حکومتی معاملات سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات آر ٹی آئی کے زریعئے حاصل کر سکتے ہیں،اس کے علاوہ خدمات تک رسائی کے قانون کے تحت سروس ڈیلیوری کے لئے باقاعدہ وقت مقرر کر دیا گیا ہے، اگر کوئی بھی ادارہ مقررہ وقت میں شہریوں کو اپنی خدمات نہیں پہنچاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کے ساتھ جرمانہ و سزا بھی دی جاتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان خیبر پختونخوا کو ایک ترقیافتہ اور خوشحال صوبہ دیکھنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ خود صوبے کی ترقی میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔صوبے میں میرٹ کی بالادستی قائم ہے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا گیا ہے اور سرکاری محکموں کا قبلہ درست کیا گیا ہے ۔تمام بھرتیاں میرٹ پر ہورہی ہیں صوبے میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ کی خالص میرٹ پر بھرتی کی گئی ہے جبکہ امسال مزید 14 ہزار اساتذہ کی بھرتی ہوگی ۔ ساڑھے سات ارب روپے کی لاگت سے تمام سکولوں کو فرنیچر فراہم کیا جارہا ہے ۔لوکل گورنمنٹ سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق احمد غنی نے کہا کہ تحریک انصاف نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا کر دیا ہے اور صوبے میں مقامی حکومتوں نے باقاعدہ طور پر کام شروع کردیا ہے جس سے اختیارات حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندوں کو منتقل ہو گئے ہیں ۔ بعد ازاں لاہور کے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں وزیر اطلاعات وتعلقات عامہ مشتاق احمد غنی، ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات محمد شعیب الدین اور مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...