زرعی پیداوار بڑھا کرغربت کے خاتمہ میں آسٹریلیا کا کردار قابل قدر ہے،سکندربوسن

زرعی پیداوار بڑھا کرغربت کے خاتمہ میں آسٹریلیا کا کردار قابل قدر ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی و ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ زرعی پیداوار بڑھا کر لائیو سٹاک کی ترقی اور آبی وسائل کی مینجمنٹ بہتر بنا کر دیہی غربت کے خاتمہ میں آسٹریلوی حکومت کا کردار قابل قدر ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو یہاں آسٹریلیا پاکستان زرعی روابط کے پروگرام (اے ایس ایل پی ) کے دوسرے مرحلہ کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیر نے کہا کہ فعال اور بہاؤ والے آبپاش، نظام بیماریوں سے پاک نرسریوں ، باغات کی جامع مینجمنٹ کے معاہدہ آم کی مختلف قسموں کی درآمد نئی مارکیٹوں کی نشاندہی سے آم اور ترشادہ پھلوں کی پیداوار بڑھانے میں بڑی مدد ملی ہے۔ وزیر سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ آم کی سالانہ پیداوار تقریباً ایک ملین ٹن ہے اور سالانہ برآمد ی مالیت تقریباً 2کروڑ ڈالرز ہے۔ وزیر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ باغات اور نرسریوں میں ناقص آم، آبپاشی کے نظام، بیماری اور جڑی بوٹیوں پر قابو پانے کی ناکافی حکمت عملیاں اور باغات سے پھل اتارنے کے بعد کے نقصانات بھی باغبانوں کی آمدن بڑھانے میں بڑی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نے ڈیری شعبہ کو بڑے اہم شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ قرار دیا ہے اور دودھ کی پیداوار بڑھانے، پر اسیس شدہ دودھ کی حوصلہ افزائی کرنے اور مارکیٹنگ اور دودھ کی پیداوار اور معیار میں بہتری لاکر چھوٹے کسانوں کے منافع میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔آسٹریلیا پاکستان ایگریکلچر سیکٹرروابط پروگرام 66لاکھ ڈالرز کے بجٹ سے 2006ء میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد کسانوں کو علم اور مہارت کی منتقلی ،غربت میں کمی ،تحقیق اور زرعی توسیعی شعبہ کو ترقی دینا تھا۔ اس کے پہلے مرحلہ کی کامیابی کے بعد اس پروگرام کو مزید توسیع دی گئی ہے۔ دوسرے مرحلہ میں زیادہ تر آم، ڈیری اور ترشادہ پھلوں پر توجہ دی گئی ہے۔ اس پروگرام کے27سرگرم شراکت کارہیں جن میں سرکاری شعبہ کے ادارے، یونیورسٹیزاور نجی تجارتی آپریشنز شامل ہیں۔ براہ راست شرکاء میں تقریباً 1500ڈیری کسان اور 350کاشتکار شامل ہیں۔آسٹریلین ہائی کمشز مارگریٹ ایڈم سن نے آسٹریلوی حکومت کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن ،گورننس اور مارکیٹ کے نظام کی ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ غربت میں کمی ،آبی وسائل کی مینجمنٹ اورماہی گیری میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں۔آخر میں وزیر نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اے ایس ایل پی کے شروع کردہ اس اچھے کام کو اے وی سی سی آر جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ویلیو چین کو لابور یٹوریسرچ پروگرام(اے وی سی سی آر) تجویز کیا گیا ہے جس کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کے بجٹ کا عندیہ ملا ہے ۔ اور اس کی ابھی حتمی منظوری ہونا باقی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...