حامد موسوی نے محرم الحرام کیلئے14نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کردیا

حامد موسوی نے محرم الحرام کیلئے14نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کردیا

راولپنڈی (جنرل رپورٹر) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول ؐ امام حسین ؑ کا غم تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے محرم الحرام کے دوران تمام مکاتب اتحاد و یکجہتی کیساتھ غم حسین ؑ منائیں گے عزاداری امام حسین ؑ ہماری شہ رگ اورزندگی ہے جس میں کسی قسم کی رخنہ اندازی برداشت نہیں کی جائیگی ، دہشتگرد کالعدم تنظیمیں کھلے عام نئے ناموں سے کام کررہی ہیں محرم الحرام کے دوران امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ،امن قائم کرنا صرف فوج کی ذمہ داری نہیں وفاقی و صوبائی حکومتیں فوج کاساتھ دیں،محرم و صفر کے ایام عزا و چہلم امام حسین کے موقع پر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول تبدیل کیا جائے ،مسئلہ کشمیر میں بھارت کی ہٹ دھرمی کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کی اپنی کوتاہیاں بھی شامل ہیں جس کی مثال اوفا اعلامیہ ہے خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کیا جائے ،اگر سیاستدانوں حفا ظ نعت خوانوں پر پابندی نہیں تو ذاکرین کے دوسرے شہروں پر جانے پر پابندی کیوں ؟کسی غیر آئینی پابندی کو تسلیم نہیں کریں گے صرف منفی سرگرمیوں کو روکا جائے ،بیرونی فنڈنگ فسا دکی جڑ ہے دینی سیاسی جماعتوں کی بیرونی امداد بند، اثاثوں کی پڑتال کی جائے سب سے پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ احتساب کیلئے حاضر ہے ،بعض مسلم ممالک بھی پاکستان سے بیر رکھتے ہیں ایسی روش شیوہ ایمانی نہیں،عزاداروں کے مسائل کیلئے مرکز و صوبوں میں کنٹرول روم قائم کرکے ٹی این ایف جے محرم کمیٹی عزاداری سیل سے مربوط کیا جائے ،۔ان خیالات کا اظہا انہوں نے ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع علی مسجد سٹلائیٹ ٹاؤن میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران محرم الحرام کیلئے ضابطہ عزاداری کا اعلان کرتے ہوئے کیا ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ہم نے بڑے بڑے آمروں اور ظالموں کا سامنا کیا ہے ،ہمیں قید میں ڈالا گیا ،مارا گیا ،زندہ دیواروں میں چنا گیا ،ہمارے خون کے گارے بنائے گئے ،ہمارے لاشے پاما ل کیے گئے مگر ہمارے خون کے ہر قطرے اور خاک کے ہر ذرے سے یا ثاراۃ الحسین ؑ لبیک یا حسین ؑ کی صدا بلند ہوتی ر ہی ہے ہم راہ حسینیت میں کوئی سودا بازی قبول نہیں کرسکتے ۔14نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ 1۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت صرف کراچی ،بلوچستان ،خیبر پختونخوا،گلگت ،بلتستان اور آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ اسلام آباد وپنجاب میں بھی فوری سرچ آپریشن شروع کیا جائے۔2۔مسلمہ مکاتب سنی شیعہ میں سے کسی کو بھی غیر مسلم کہنا قابل تعزیز جرم قراردیاجائے،مجالس و جلوسہائے عزا میں عام گاڑیوں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائے،شرکائے جلوس کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔خواتین کی تلاشی بذریعہ لیڈیز پولیس لی جائے،مجالس و جلوس کے داخلی و خارجی راستوں پر کلوز سرکٹ کیمروں اور واک تھرو گیٹ کا انتظام کیا جائے،انکے تحفظ کیلئے فاصلہ رکھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں،قرب و جوار کی عمارتوں ،خالی جگہوں کی خا ص دیکھ بھال کی جائے،عزاداری کے پروگراموں کی ویڈیو فلم بنائی جائے۔3۔مجالس اور ماتمی جلوسوں کی حفاظت کیلئے پولیس موبائل اسکواڈ کے گشت کو یقینی بنایا جائے،سیکیورٹی امور میں پولیس وانتظامیہ کے ساتھ ساتھ ابراہیم اسکاؤٹس اور مختارفورس کے رضاکاروں کا تعاون لیا جائے۔ 4۔بارگاہوں کے متولیان ،بانیانِ جلوس اور منتظمین خود بھی حفاظتی انتظامات کریں،عزادارانِ امام ؑ عالی مقام پر لازم ہے کہ وہ عزاداری کو ہر شے پر فوقیت دیں۔5۔وفا ق اور صوبے کوئی ایسا حکم صادر نہ کریں جس سے عزاداروں کی حق تلفی ہو،ملک بھر میں ماتمی جلوس21مئی85ء کے معاہدے کے تحت برآمد ہونگے جن میں کسی قسم کی رخنہ اندازی ہر قسم برداشت نہیں کی جائیگی۔6۔اربابِ حل و عقد ملک بھر کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کریں کہ وہ بانیانِ مجالس میں خو ف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں تاکہ احسن طریقے سے عزاداری کے پروگرام منعقد ہوسکیں۔7۔کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے، ہر صورت میں پر امن رہیں،مسئلے کی صورت میں مر کزی کنٹرول روم کی طرف رجوع کیا جائے۔8۔رواداری کو ترجیح اور ہر قسم کی عصبیتوں کو کنڈم کیا جائے،عوام خود بھی چوکنا رہیں اور ارد گرد کے ماحول اور افراد پر کڑی نظر رکھیں ،کسی مشکوک شے اور شخص کی فوری اطلاع انتظامیہ اور پولیس کو دیں تاکہ تخریب کاری سے بچا جاسکے۔9۔واعظین و ذاکرین اپنے خطابات و تقریرات میں قومی و ملکی سلامتی کو ترجیح دیں اور اشتعال انگیز و منافرت آمیز تقاریر سے اجتناب کریں۔شہدائے کربلا کی قربانیوں کا مثبت ابلاغ کیا جائے ۔10۔الیکٹرانک میڈیا پردورانِ عشرہ محرم موسیقی،ڈراموں اور طربیہ پروگراموں کوبند رکھا جائے ،متنازعہ شخصیات اور کالعدم گروپوں کو میڈیا فورموں پر ہر گز نہ بلایا جائے۔11۔معروفات کا ابلاغ ،منکرات سے اجتناب اور ذرائع ابلاغ میں ممنوعہ گروپوں کو کوریج نہ دی جائے،شہدائے کربلا کی قربانیوں کو اُجاگر کرنے کیلئے اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں تاکہ جذبہ ایثار و قربانی کو زندہ رکھا جاسکے۔12۔سیاسی جماعتیں عشرہ محرم میں سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں،خواتین مخدرات عصمت و طہارت ،بزرگ حضرات پاکیزہ صحابہ کبارؓ اور نوجوان شہزادہ قاسم ؑ و اکبر ؑ اور عون ؑ و محمد ؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہوں،مجالس عزا اور ماتمی جلوسوں کے انعقاد میں اوقات کی پابندی اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے۔13۔مجالس و جلوس عزا کے دوران بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،اور راستوں کو صاف رکھا جائے،بانیان مجالس خود بھی ضابطہ عزاداری پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اسکا پابند بنائیں۔14۔حکومت اپنے محرم کنٹرول رومز کو ہدایت کرے کہ وہ تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کے مرکزی کنٹرول روم سے مربوط رہیں تاکہ ہر قسم کی سازش و شرارت کو ناکام بنایا جاسکے۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ماہِ محرم نواسہ رسول ؐ الثقلین ،شہزادہ کونین حضرت امام حسین ؑ کی اپنے فرمانبردار ،اطاعت شعار اصحابؓ باوفا اور اولادِ اطہار ؑ کی لہو رنگ لازوال قربانی کی یاد دلاتا ہے جسے تاریخ انسانی میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے اور تاریخ بشری اس عظیم ترین قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر و عاجز ہے۔شریعتِ مصطفوی ؐ میں یہ قربانی قربِ الہی کا وسیلہ قرارپائی جو دربارِ الہی میں عجز و انکساری اور تسلیم ورضا کا سرچشمہ ہے جس سے دنیائے شریعت کی سربلندی ،عالم اسلام کی یگانگت ،قوم و ملت کی سلامتی اور اعلیٰ دینی اقدار کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام اور وطن عزیز پاکستان گونا گو ں مسائل و مصائب اور بحرانوں کا شکار ہے روس کی شکست وریخت کے بعد عالمی شیطانوں نے مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ،بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دیں او ر اپنے تخلیق کردہ دہشتگردوں کے ذریعے مسلم ممالک کو تہس نہس کیا جارہا ہے، نائن الیون کے بعد فرنٹ لائن اتحادی کا کردا ر ادا کرنیوالا پاکستان انکے نشانے پر ہے ،وطن عزیز کا انگ انگ زخمی ہے،70ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں سمیت جانو ں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں،90ارب سے زائد کے نقصانات اُٹھا چکے ہیں،ایکشن پلان ترتیب دیکر عساکر پاکستان نے ضربِ عضب آپریشن شروع کرکے دہشتگردوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے ،ایسے میں ہمارا ازلی دشمن مزید سرگرم ہوگیا ہے جو ورکنگ باؤنڈی اور کنٹرول لائن پر مسلسل اشتعال انگیزیاں کررہا ہے اور دھمکیوں پر دھمکیاں دیئے جارہا ہے ،پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدے نے اُسکی نیندیں حرام کردی ہیں ،ضربِ عضب آپریشن کو وہ اپنے لیے موت گردانتا ہے ،پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے ضائع نہیں جانے دیتا۔ایسے نازک صورتحال میں ہم محرم الحرام میں نواسہ رسول ؐ امام عالی مقام حسین ؑ ابن علی ؑ کی یاد منارہے ہیں لہذا ہم سب پر لازم ہے کہ پاکستان کے تحفظ کو ہر شے پر ترجیح دیں ،افواجِ پاکستان کی پشت پناہی کریں ،اسکی حمایت میں دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں تاکہ اندرونی و بیرونی سازشوں کو ناکام کیا جاسکے۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ اسلامی تعلیمات کے منبع و سرچشمہ قرآن و سنت فرموداتِ پاکیزہ صحابہ کبارؓ و آل اطہار ؑ اور امام عالی مقام ؑ کے پاکیزہ اقوال سے روشنی حاصل کرکے رواداری ،باہمی اتحاد و یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے کیلئے عملی جدوجہد کریں تاکہ ضربِ عضب آپریشن کامیاب و سرفراز ،بے چینی کا خاتمہ ہو ،عالمی استعمار و استکبار کے ہتھکنڈوں کو ناکام کیا جاسکے۔پرچم حسینی کے سائے میں ہم غم امام حسین ؑ کے ایام عز ت و حرمت اور وقار کیساتھ منا کر دنیائے مظلومیت کو عالمی شیطانوں ،ظالموں اور جابروں کے پنجوں سے چھڑا سکیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...