جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں پیدا ہونے والے بچے تندرست رہتے ہیں،تحقیق

جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں پیدا ہونے والے بچے تندرست رہتے ہیں،تحقیق
جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں پیدا ہونے والے بچے تندرست رہتے ہیں،تحقیق

  


لندن (نیوز ڈیسک) آپ کس ماہ میں یا کس موسم میں پیدا ہوئے، اس کا اثر آپ کے ستاروں یا قسمت پرنجانے ہوتا ہے یا نہیں، لیکن ماہرین نے تحقیق سے یہ معلوم کرلیا ہے کہ اس کا آپ کی آنے والی زندگی کے دوران صحت اور تندرستی پر ضرور گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ برطانیہ میں تقریباً 5لاکھ افراد پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسم گرما اور خصوصاً جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں پیدا ہونے والے بچے سال کے دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت زیادہ تندرست زندگی گزارتے ہیں۔ ان بچوں کا پیدائش کے وقت وزن نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور قد بھی دوسرے بچوں کی نسبت دراز ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موسم گرما میں پیدا ہونے والی بچیوں میں بلوغت کا آغاز نسبتاً تاخیر سے ہوتا ہے جو کہ ان کی آنے والی زندگی میں تندرستی اور اچھی صحت کی علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق جن بچیوں میں بلوغت کا آغاز جلد ہوجاتا ہے ان میں ذیا بیطس، بریسٹ کینسر اور دل کی بیماری کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے تحقیق کار ڈاکٹر جان کیری نے بتایا کہ تحقیق سے یہ واضح ہوا ہے کہ پیدائش کا مہینہ آنے والی زندگی میں نشوونما اور صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم خزاں میں پیدا ہونے والے بچوں میں خوراک سے الرجی اور سانس کی بیماریوں کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موسم گرما میں پیدا ہونے والے بچوں کی بہتر صحت کی وجہ ان کی ماؤں کو حمل کے دوران سورج کی روشنی کا زیادہ دستیاب ہونا اور اس کے نتیجے میں وٹامن ڈی کا بہتر طور پر پیدا ہونا ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے پہلے کی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ حمل کے دران بچوں کو وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار ملنے سے ان کی آنے والی زندگی میں ان کی صحت اور نشوونما میں بہتری آتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...