والد ایڈز کا شکار، ماں چھوڑ کر چلی گئی،کمسن بچہ قبرستان میں سونے پر مجبور

والد ایڈز کا شکار، ماں چھوڑ کر چلی گئی،کمسن بچہ قبرستان میں سونے پر مجبور
والد ایڈز کا شکار، ماں چھوڑ کر چلی گئی،کمسن بچہ قبرستان میں سونے پر مجبور

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) جہالت کے شکنجے میں جکڑے پسماندہ معاشروں میں اولاد پیدا کرنے والوں کو اکثر اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کے پیدا کردہ بچوں کو تعلیم و تربیت اور صحت جیسی بنیادی انسانی سہولتیں ملیں گی یا نہیں، اور بدقسمتی سے ان معاشروں کا مجموعی رویہ بھی بچوں کے ساتھ انتہائی بھیانک ہوتا ہے۔ ایسی ہی معاشرتی بے حسی اور ظلم کا شکار ایک چھ سالہ بھارتی بچہ اپنے ہی گاؤں والوں کی طرف سے اس قدر شدید نفرت اور حقارت کا سامنا کررہا ہے کہ اسے دیگر بچوں کی طرح اپنے گھر میں رہنے کی بھی اجازت نہیں، بلکہ وہ اپنے شب و روز ایک قبرستان میں گزارتا ہے۔اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے مطابق روہت (نام تبدیل کیا گیا ہے) نامی بچے کے والد رام شنگر داس کو ایڈز کا مرض لاحق ہے۔ رام شنکر کی اس بیماری کا علم اس وقت ہوا جب وہ ٹی بی کے مرض کے لئے ٹیسٹ کروانے گیا۔ جیسے ہی اس کی بیماری کے متعلق پتہ چلا تو اس کی بیوی نے اس کے ساتھ رہنے سے انکار کردیا، مگر ظلم یہ ہوا کہ وہ اپنے ایڈز زدہ خاوند کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے ننھے بیٹے کو بھی چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ننھا روہت دن بھر گلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے اور رات کو سونے کے لئے اسے جو واحد جگہ دستیاب ہے وہ گاؤں کا قبرستان ہے۔ گاؤں کے بچے اس کے ساتھ نہیں کھیلتے اور گاؤں والے اسے اپنے قریب نہیں آنے دیتے۔ اس کی ضعیف العمر دادی چاہنے کے باوجود اس کی مدد نہیں کرپاتیں، اور حد تو یہ ہے کہ مقامی میڈیا میں اس واقعے کی خبریں عام ہونے کے باوجود یہ بچہ اپنے دن رات گاؤں سے باہر بھٹکتے ہوئے اور قبرستان میں سو کر گزاررہا ہے ،اور تا حال کوئی بھی اس بات پر غور کرنے کوتیار نظر نہیں آتا کہ اس معصوم کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...