سرگودھا،وزیر اعظم کے حلقہ میں زیر تعمیر پل کی مد میں کروڑوں کے گھپلے کا انکشاف

سرگودھا،وزیر اعظم کے حلقہ میں زیر تعمیر پل کی مد میں کروڑوں کے گھپلے کا ...

 سرگودھا(بیورو رپورٹ) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 جہاں سے میاں نواز شریف انتخاب لڑ کے وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے تھے میں لنگر والا کے مقام پر تین اضلاع سرگودھا، بھکر، میانوالی کو ملانے کے لئے ایک ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت کے زیر تعمیر منصوبے میاں نواز شریف پل کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال کے علاوہ سنگین نوعیت کی بد عنوانیاں سامنے آئی ہیں، وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران اس میگا پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا، جس کی تعمیر کی ابتداء میں ہی متعلقہ محکموں نے لنگر والا پل کی تعمیر کیلئے 191 ایکڑ رقبہ جس کی مارکیٹ ویلیو 50 ہزار سے 3 لاکھ تک تھی 5 لاکھ سے 56 لاکھ روپے فی ایکڑ تک خرید کیا، حالانکہ قانون کے مطابق متعلقہ محکمے کو سرکاری مقررہ ریٹ پر رقبہ خرید کرنا تھا، جسے پس پشت ڈال کر کئی گنا زیادہ پیسے خرچ کر کے رقبہ خرید کیا گیا ، جبکہ لنگر والا پل کے بیم ایک بار نہیں تین بار گر چکے ہیں، دو بار بیم گرنے بابت پراونشیل ہائی وے کے افسران نے اعلیٰ حکام کو آگاہ نہیں کیا، پہلی بار پل کا رکھا جانے والا دوسرا بیم ہی ٹوٹ کر گر گیا جسکاپراونشیل ہائی وے کے ایکسین اعجاز چیمہ و افسران کو علم ہوا تو ٹھیکیدار نے وہ بیم توڑ کر اس کی جگہ نیا بیم بنا کر رکھا، تین ماہ قبل ایک اور بیم ٹوٹ کر گر گیا جس بابت بھی ایکسین نے حکام بالا کو آگاہ کرنے کی بجائے ٹھیکیدار سے ملی بھگت کر کے اس بیم کو دریا میں ہی دبوا دیا، جو اب بھی اپنی جگہ دفن پڑا ہے، اس کے باوجود محکمہ ہائی وے کے افسران نے ٹھیکیدار کو نہ تو میٹریل کی کوالٹی بہتر بنانے کا کہا، اور نہ ہی وضاحت طلب کرنے کیلئے نوٹس دیا، جس کی وجہ سے ٹھیکیدار نے اپنی منشاء کے مطابق پل کی تعمیر جاری رکھی، ذرائع کے مطابق اب تک لنگر والا پل پر 24 کروڑ کے قریب مالیت کا کام ہو چکا ہے، مگر پراونشیل ہائی وے حکام نے ٹھیکیدار کو 40 کروڑ روپے کی ادئیگی کر دی ہے اس طرح لگ بھگ16 کروڑ روپے ٹھیکیدار کو ایڈوانس مد میں ادا ہو چکے ہیں، تیسری بار ناقص میٹریل سے تیار شدہ لنگر والا پل کے تین بیم گرنے کے واقعہ پر بھی 5 روز تک محکمہ ہائی وے کے افسران نے خاموشی اختیار کیے رکھی، ٹی وی چینل پر خبر نشر ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم نواز شریف نے نوٹس لیا اور تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ایک ہفتہ میں رپورٹ طلب کی جو کہ تیسرے ہفتہ میں بھی زیر التواء ہے، تا ہم وزیرا علیٰ کو بھجوائی گئی عبوری رپورٹ میں تین بیم گرنے بارے محکمہ ہائی وے کے افسران کا یہ مؤقف رد کر دیا گیا ہے کہ یہ بیم اندھیری اور طوفان کے باعث گرے ہیں، رپورٹ میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ علاقہ بھر میں اس بابت پوچھ گچھ کی گئی مگر کسی بھی علاقہ مکین نے بیم گرنے کے ان ایام میں اندھیری یا طوفان آنے کی تصدیق نہیں کی، بادی النظر میں پل کی تعمیر میں میٹریل بھی مناسب استعمال نہیں ہو رہا، یہی وجہ بیم ٹوٹنے کا باعث بنی، کئی پلربھی معیار کے مطابق نہیں ہیں، اس طرح حکومت کے کروڑوں روپے ضائع ہوئے ہیں، جس کی ٹیکنیکل بنیادوں پر پروب انکوائری کرایا جانا ضروری ہے، دریں اثناء ایک حساس ادارہ نے بھی حکام بالا کو بھجوائی گئی رپورٹ میں پل کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث کروڑوں روپے کے ضیاع کے اس معاملے میں محکمہ پراونشنل ہائی وے کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) سے اس معاملے کی تحقیقات کرا کر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے، جبکہ حساس ادارہ نے محکمہ ہائی وے سے دیگر کئی منصوبوں میں وسیع پیمانے پر خورد برد کا بھی انکشاف کیا ہے، جن کی بابت بھی چھان بین کا کہا گیا ہے۔

پل تعمیر

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...