محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان کی وضاحت

محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان کی وضاحت

پشاور( پاکستان نیوز)محکمہ جیل خانہ جات کے ایک ترجمان نے کم عمر اسیران کو جیل میں جنسی طور پر حراساں کرنے سے متعلق بعض اخبارات میں شائع شدہ خبر کو من گھڑت،بے بنیاد اور حقائق کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔ترجمان نے کہاکہ جیل کے اندر18سال سے کم عمر اسیران کے لئے علیحدہ احاطہ ہے جس میں کسی بالغ اسیر کو نہیں جانے دیا جاتا نہ ہی کم عمر اسیران کو بالغان کے احاطہ یا بارک میں بند کیا جاتا ہے۔18 سے 21 سال کی عمر کے اسیران کے لئے بھی علیحدہ بارک ہے اور انہیں بھی کم عمر اسیران یا بالغ اسیران کے ساتھ نہیں رکھا جاتا۔ چند اسیران جنکی عمر جیل کے ڈاکٹر نے 21سال سے زیادہ قرار دی تھی کو اس بارک سے دوسری بارکوں کو تبدیل کر دیا گیاکیونکہ انکا اپنے سے کم عمر اسیران کے ساتھ رکھنا خلاف ضابطہ تھا۔ان میں کچھ نے اسی بارک میں واپس جانے کا مطالبہ شروع کیاجس کے منظور نہ ہونے پر انہوں نے جیل اہلکاران کے خلاف من گھڑت الزامات پر مبنی شکایات مختلف ادارو ں کو ارسال کرنی شروع کر دیں۔انہی میں ایک اسیر نے ایک دوسرے اسیر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزا م بھی لگایا جس میں بظاہر کوئی سچائی نہیں اور اس کا مقصد جیل ا نتظامیہ پر بے بنیاد الزامات لگا کر بلیک میل کرناتھا۔اس سلسلے میں قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ اسیر کم عمر نہیں بلکہ بالغ ہے اور چوری کے دو مقدمات میں ملوث عادی چور ہے جس کے الزامات پر یقین نہیں کیاجاسکتا۔ لہذا یہ درست نہیں کہ کم عمر اسیران کو جیل میں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں باقی اسیران سے بالکل علیحدہ اپنی عمر کے اسیران کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...