بھارتی خوشنودی کےلئے خورشید قصوری دو قومی نظریہ بھول گئے،گاندھی کے مانی بھون پر قائد اعظم کے خلاف ہرزہ سرائی

بھارتی خوشنودی کےلئے خورشید قصوری دو قومی نظریہ بھول گئے،گاندھی کے مانی ...
بھارتی خوشنودی کےلئے خورشید قصوری دو قومی نظریہ بھول گئے،گاندھی کے مانی بھون پر قائد اعظم کے خلاف ہرزہ سرائی

  


ممبئی ( اے این این )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بھارتی خوشنودی کے لئے دو قومی نظریہ بھلا دیا،بھارت میں بیٹھ کر قائد اعظم کے خلاف ہرزہ سرائی کر دی۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمودقصوری نے دوقومی نظریہ مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ گاندھی اور قائد اعظم کی کوششیں بارآور ثابت ہوتیں تو تقسیم برصغیر کی نوبت کبھی نہ آتی اور متحدہ ہندوستان ہی ہوتا ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز ممبئی میں مہاتما گاندھی کے مانی بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ برصغیر کی تاریخ یکسر مختلف ہوتی اگر مہاتما گاندھی اور قائد اعظم کی ہندو ستان کو متحد رکھنے کی کوششیں بارآور ثابت ہوتیں ۔انہوں نے کہاکہ گاندھی اور جناح دو عظیم رہنما تھے جنہوں نے ہندو ستان کو متحد رکھنے اور تقسیم سے بچانے کی خاطر اجتماعی طورپر جدوجہد کی ۔انہوں نے کہاکہ دونوں رہنماﺅں نے 18دنوں تک مسلمانوں اور ہندوﺅں کو متحد کرنے اور دوستانہ تصفیہ کیلئے کوششیں کیں ۔وہ اپنی کوششوں میں ضرور کامیاب ہوجاتے لیکن قائد اعظم نے مصلحت کی خاطر کابینہ مشن پلان (1946)کو قبول کرلیا ۔دونوں ممالک کے موجودہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کے بانیوں کا مذاہب کے حوالے سے موجودہ دور سے طرز عمل اور نظریہ یکسر مختلف تھا۔

انہوں نے کہاکہ بطور وزیر خارجہ میری ایک نقطے پر مرتکز ہونے کی ہمیشہ کوشش رہی جہاں دونوں ممالک متفق ہوکر آگے بڑھ سکیں ۔مانی بھون کے 55منٹ کے دورے کے دوران انہوں نے سیاحوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے ۔تاثرات میں انہوں نے لکھا کہ میرے لیے یہ باعث مسرت ہے کہ میں آج یہاں ہوں ۔گاندھی جی نے ہندو اور مسلمانوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔انہوں نے تحریک خلافت کے دوران دونوں قوموں کو اکٹھا کرنے کیلئے بہت بڑی جدوجہد کی ۔

مزید : قومی


loading...