دنیا کے وہ آثار قدیمہ جہاں سے سیاح چیزیں چرائیں تو کچھ عرصے میں خود ہی واپس کر جاتے ہیں، رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان

دنیا کے وہ آثار قدیمہ جہاں سے سیاح چیزیں چرائیں تو کچھ عرصے میں خود ہی واپس کر ...
دنیا کے وہ آثار قدیمہ جہاں سے سیاح چیزیں چرائیں تو کچھ عرصے میں خود ہی واپس کر جاتے ہیں، رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان

  


روم (نیوز ڈیسک) چور چوری کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جائے واردات سے ایسے غائب ہو کہ کبھی لوٹ کر ادھر کا رخ نہ کرے لیکن اطالوی شہر پومپے کے آثار قدیمہ اور عجائب گھر ایک ایسی جگہ ہیں کہ جہاں سے چوری کرنے والے چور غیر مرئی طاقتوں سے اس قدر خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اکثر چوری شدہ نوادرات لوٹانے کے لئے خود ہی واپس چلے آتے ہیں یا یہ چیزیں ڈاک کے زریعے عجائب گھر کو واپس بھیج دیتے ہیں۔

پومپے اطالوی شہر نیپلز کے قریب ایک علاقہ تھا، یہ جگہ اتنی منحوس کیوں تصور کی جاتی ہے? اس کا پس منظر جانئے

یہاں کے تاریخی آثار قدیمہ کی سپرنٹنڈنٹ ماسیمو اوسانا کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران انہیں سینکڑوں پیکٹ موصول ہوئے ہیں جن کے اندر وہ نوادرات تھے جو لوگوں نے یہاں سے چرائے لیکن پھر خود ہی انہیں واپس بھیج دیا اور بعض اوقات تو یہاں سے نوادرات چوری کرنے والے انہیں لے کر خود ہی یہاں چلے آئے۔ اس تاریخی مقام سے چوری کرنے والے بعض چوروں نے عجائب گھر کو لکھے گئے خطوط کو بتایا یہاں سے چرائے گئے نوادرات پر کچھ ایسا آسیب طاری تھا کہ ان کی زندگی جہنم بن گئی اور انہیں اس جرم سے سوائے پریشانی اور تکلیفوں کے کچھ حاصل نہیں ہوا، لہٰذا انہوں نے اپنے ذہنی سکون اور مصیبتوں سے نجات کے لئے چوری شدہ نوادرات خود ہی واپس کردئیے۔

خطرہ ہو تو مسلمان خواتین حجاب اتارسکتی ہیں :سعودی عالم دین

ماسیمو کا کہنا ہے کہ ابھی چند ہی دن پہلے انہیں ایک برطانوی خاتون کی طرف سے ایک قدیم پینٹنگ موصول ہوئی جو کہ اس کے والدین نے یہاں سے چوری کی تھی۔ خاتون نے ایک قدیم ٹائل پر بنی اس پینٹنگ کے ساتھ ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا کہ یہ قدیم ٹائل اس کے والدین نے یہاں سیاحت کے دوران چوری کی تھی لیکن اس کے بعد ان کے خاندان پر اتنی مصیبتیں نازل ہوئیں کہ اب وہ اسے واپس بھیج رہی ہیں کہ شاید اس طرح ان کی جان خلاصی ہو جائے۔

ماسیمو اوسانا کہتی ہیں کہ وہ چوری کرنے والے سیاحوں کی طرف سے بھیجے گئے خطوط میں بیان کی گئی خوفناک کہانیوں سے بہت متاثر ہوئی ہیں اور سوچ رہی ہیں کہ اب لوٹائے گئے نوادرات اور ان خطوط کی ایک نمائش منعقد کریں تاکہ دنیا اس معاملے کے متعلق مزید جان سکے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...