غیر ملکیوں کو نوکری دینے کی سالانہ فیس؟ سعودی حکومت کا پریشان کن اعلان

غیر ملکیوں کو نوکری دینے کی سالانہ فیس؟ سعودی حکومت کا پریشان کن اعلان
غیر ملکیوں کو نوکری دینے کی سالانہ فیس؟ سعودی حکومت کا پریشان کن اعلان

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ روز سے سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے لیبر قوانین کے حوالے سے یہ افواہ پھیل رہی تھی کہ سعودی حکومت نے پرائیویٹ فرمز کو اپنے غیرملکی ورکرز کی مد میں ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے لیکن سعودی وزارت محنت کی طرف سے ان افواہوں کی تردید کر دی گئی ہے۔وزارت محنت کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ فرمز کو بھی اپنے ہر غیرملکی ورکرز پر عائد 2400ریال (تقریباً67ہزار روپے)ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اگر آپ آن لائن سستی ٹکٹیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بک کرتے وقت یہ ایک کام ضرور کرلیں

21نومبر 2011ءمیں وزراءکونسل کے ایک اجلاس میں اس ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ اس قانون پر عملدرآمد 15نومبر 2012ءسے شروع ہوا تھا جس کے غیر ملکی ورکرز کی اکثریت رکھنے والی کمپنیوں کو ہر غیرملکی ورکر کے عوض 2400ریال ٹیکس ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔گزشتہ سال کابینہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو ، جن کے پاس 9یا اس سے کم غیرملکی ورکرز ہیں، اس ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا تھا۔سعودی وزارت لیبرکی طرف سے جاری بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جن کمپنیوں کے پا س9سے زیادہ غیرملکی ورکرز ہیں انہیں اب بھی اس ٹیکس سے استثنیٰ حاصل نہیں۔

خطرہ ہو تو مسلمان خواتین حجاب اتارسکتی ہیں :سعودی عالم دین

مزید : بین الاقوامی


loading...