گندم کی فراوانی اور نکاسی

گندم کی فراوانی اور نکاسی
 گندم کی فراوانی اور نکاسی

  



گندم ہو تب مشکل اور اگر نہ ہوتب مشکل، کیونکہ پاکستان کے 21کروڑ عوام کی یہ بنیادی غذا ہے اور اس کے بغیر کسی پاکستانی کا گزارہ مشکل ہے۔ گندم کی کمی ایک حساس مسئلہ ہے اس کی حساسیت کی وجہ سے حکومتیں ہر سال فصل کا کچھ حصہ خرید کر ایک طرف کسانوں کا فائدہ کرتی ہیں اور دوسری طرف شہری آبادی کو سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔ خریداری گندم کے لئے ہر سال گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ مختلف طبقے یا سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کے مطابق گندم کا نرخ بڑھانے کا کہتے ہیں جبکہ دوسرے طبقے کمی کا بھی کہتے ہیں۔ حکومت پاکستان اگر اس میدان کے گزشتہ تین سالہ حساب کو دیکھے تو معلوم پڑے گا کہ مفاد پرستوں اور پالیسی میکرز نے اس کی وجہ سے ملک و قوم کا کتنا نقصان کیا ہے ایک زمانہ تھا کسان اور ہم دونوں مل کر مطالبہ کرتے تھے کہ گندم خریداری کا نرخ، عالمی نرخوں کے مطابق بڑھائے جائیں اور نرخ مقرر کرتے وقت عالمی مارکیٹ میں گندم کے نرخوں کا خیال رکھا جاتا تھا۔ آج کل گزشتہ 4سالوں سے عالمی مارکیٹ میں گندم کے نرخ 110 ڈالر فی ٹن سے 180ڈالر تک چل رہے ہیں، جبکہ ہم گزشتہ تین چار سالوں سے ہی اپنی گندم کا نرخ 320 ڈالر رکھے ہوئے ہیں، اتنے بڑے فرق نے پاکستان پر گندم ایکسپورٹ کے دروازے بند کردیئے۔

افغانستان کی زمینی ایکسپورٹ اور مارکیٹ ہم سے چھن گئی۔ کراچی سے سمندر کے راستے کے لئے بھی نرخ اور بعض دوسری وجوہات کی وجہ سے ایکسپورٹ کا نام و نشان نہیں۔ ہم آلو، پیاز اور مٹر تو باہر سے منگوالیتے ہیں، جبکہ گندم کے اضافی سٹاکس ہونے کے باوجود ایکسپورٹ کا نہیں سوچتے اور مفاد پرست لوگوں یا اداروں اور تنظیموں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ ایسی تجاویز دیں جو کسی طرح بھی ایکسپورٹ فرینڈلی ہوں۔ اس مقصد کے لئے چمک کا بھی استعمال کرنا پڑے تو گریز نہیں کیا جاتا۔ اس طرح غلط پالیسی کی وجہ سے کاغذوں میں تو ایکسپورٹ ہوجاتی ہے، مگر محکمہ خوراک کا سٹاک پہلے سے بڑھ کے ہی سامنے آتا ہے، پنجاب میں خاصی بری صورت حال ہے اور غالباً وزیر اعلیٰ جو پہلے ان امور پر گہری نظر رکھتے تھے، انہوں نے سٹاک کی نکاسی کسی اور کے حوالے کررکھی ہے۔ اس طرح پنجاب میں چار سالہ اور تین سالہ سٹاکس جمع ہو چکے، جس میں کیٹرا لگنے اور دوسری خرابیوں کی اطلاع ہے کیا وجہ ہے کہ گورنمنٹ گندم پہلے جون جولائی میں ایشو کردی جاتی تھی اور اب کسی کا اس طرف خیال ہی نہیں جارہا کہ نومبر/دسمبر میں ایشو ہوتی ہے اس کا نقصان صرف سود کی مد میں ہمیں کروڑوں نہیں اربوں میں ہوتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی نعمت بھی خراب ہو جاتی اور بعض صورتوں میں انسانوں کو کھلانے کے قابل نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں کرنا کیا چاہئے کہ مفاد پرستوں کی پالیسیاں جو ان کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتی ہیں وہ ختم کی جائیں۔

محکمہ خوراک کی پالیسی بھی واضح نہیں اور ہمارے لوگ فیصلہ تب کرتے ہیں، جب قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس میں ان کا کم اور ان کو غلط مشورے دینے والوں کا قصور زیادہ تھا۔ جیسا کہ فلور ملز کے ایک گروپ نے گندم کے نرخ کو 1330روپے فی من دے دیا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کردیا ہے کہ میاں شہباز شریف کے چار سالہ دور میں جو نہیں ہوسکا، وہ اب ہو جائے یعنی آٹے کی مہنگائی۔ ایک غریب سبزی فروش رات کو اونے پونے داموں پر سبزی فروخت کردیتا ہے کہ سبزی خراب نہ ہو جائے، کاش کوئی سبزی والے سے ہی کچھ سیکھ لے۔ تین سال سے گندم کی نکاسی مطلوبہ مقدار میں نہیں ہورہی۔ اربوں کی گندم ضائع ہورہی ہے۔ بے دریغ طریقہ سے سود ادا کیا جارہا ہے اور گندم کی نکاسی بنیادی مسئلہ ہے، جسے اُلٹی سیدھی ایکسپورٹ کے ذریعہ حل کیا جارہا ہے، جس کا بنیادی نکتہ ریبیٹ ہے جو بڑا ہی دل کش نظر آرہا ہے اور اِس قسم کی ایکسپورٹ سے عجیب بات ہے کہ گندم کے سٹاکس میں اضافہ ہورہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اتنی بے بس کیوں ہے کہ وہ ریبیٹ لٹانے کی بجائے خود ایکسپورٹ کرے اور آٹے کی زمینی اور سمندری راستہ سے سستی گندم دے کر اس کے منزل تک پہنچنے کو یقینی بنائے۔ آخر میں میاں شہباز شریف صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس مسئلہ کا فوری حل نکالیں آپ نے غریبوں کے لئے میٹرو اور اور نج لائن پر بہت اچھا کام کیا ہے، غیر ملکیوں کے لئے سبسڈی دینے کی بجائے اپنے شہریوں کے لئے فوری طور پر سستی گندم فراہم کی جائے تاکہ عوام بھی مستفید ہوں اور پنجاب حکومت اضافی سٹاکس کی پریشانی سے محفوظ ہو۔ پہلے ہی اکتوبر نومیر آچکا ہے، اگر اب بھی سستی گندم دے دی جائے تو مسئلہ کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ میاں صاحب ذاتی دلچسپی لے کر یرغمال پالیسیوں سے نجات پائیں اور فلور ملنگ انڈسٹری کو چلنے کا موقع بھی دیں۔

مزید : کالم