ٹریفک حادثات سے جنم لینے والی سوچ

ٹریفک حادثات سے جنم لینے والی سوچ
ٹریفک حادثات سے جنم لینے والی سوچ

  



سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گز شتہ سال پاکستان میں 3600 سے زائد افسوسناک ٹریفک حادثات رونما ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں ہرسال تقریباً 13 لاکھ سے زیادہ افراد ٹریفک حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک انتہائی مشہور قول ہے کہ ڈاکٹرز اور ڈرائیور ز دونوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ماہرین نے برائے اعظم ایشیا میں پاکستان کو ٹریفک کے حادثات کے حوالے سے پہلا نمبر دیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی سطح پر ٹریفک حادثات وواقعات کی روک تھام کے لئے کوئی کاوشش نہیں کی جارہی ہیں۔

ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ اوور سپیڈنگ اورتیز رفتاری ہے۔ صبح و شام ، آفس کے اوقات میں ٹریفک کی روانی کا رش بڑھ جاتا ہے۔ ہر شعبے زندگی کے افراد اپنی اپنی منزل کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔تمام بڑے شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز حضرات ہمیشہ جلدی میں رہتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیاد ہ افراد کو اپنی گاڑی میں بیٹھیں اوراگلے سے اگلے سٹاپ کی جانب بڑھ جائیں۔ اس بھا گم بھاگ میں اوور سپیڈ ، تیزی رفتاری اور اور ٹیک کا خیال نہ کرتے ہوئے دوسری گاڑیوں سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ بعض اوقات سیٹ نہ ہونے پر بھی مسافروں کو زبردستی گاڑی میں ٹھونس لینے کے مناظر بھی دیکھنے میں ملتے ہیں۔ چند روپوں کی خاطر ڈرائیورز حضرات کو گاڑی کے مسافر اور روڈ پر چلے والوں کاکوئی احساس نہیں رہتا۔ ان کی کوشش صرف زیادہ سے زیادہ روٹ پر چکر لگا کر پیسہ کمانا ہوتی ہے۔ تمام ڈرائیور حضرات کی ذمہ داری ہے سفر کا آغاز شروع کرنے سے پہلے مسنون دعا پڑھیں ، سلو موونگ ڈرائیونگ کی عادات ڈالیں، محتاط انداز میں اپنی لین میں رہ کر ڈرائیونگ کریں تاکہ ٹریفک حادثات کے باعث قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ ڈرائیورحضرات کا ٹریفک اصولوں کا نالج نہ ہونا، اپنی لائن سے مخالف لائن میں گاڑی چلانا، اورٹیک کرتے ہوئے مخالف سمت میں آنے والی گاڑی کا راستہ روک لینا، کم عمری اورغیر تربیت یافتہ ڈرائیوئنگ، گاڑی چلاتے ہوتے موبائل فون کا استعمال کرنا جیسی حرکات ٹریفک حادثات کا موجب بنتی ہیں ۔ ہمارے ملک کے تمام بڑے شہروں میں بڑی تعداد میں ڈرائیور حضرات کے پاس سرے سے ہی ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں اس کے باوجود عرصہ دراز سے پبلک ٹرانسپورٹ کو ہینڈل کر رہے ہیں۔ لائسنس ایشوز اتھارٹی کے احکام کی ذمہ داری ہے کہ تمام مطلوبہ ٹیسٹ کو پاس کرنے کے بعد ہی ڈرائیونگ لائسنس کو ایشوز کرے۔ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھنے سے پہلے ڈرائیور سیٹریفک لائسنس کے بارے میں دریافت کرے۔ ڈرائیونگ لائسنس آگاہی مہم کے آغاز بہت ضروری ہے تاکہ ڈرائیوز حضرات کو احساس دلایا جائے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری سب کے لئے بہت حد ضروری ہے جس پر عمل کرکے ہی حادثات سے بچا ؤ ممکن ہے۔

ٹریفک واقعات میں اضافہ کا ایک سبب ناکارہ ، خراب اور ناقص گاڑیوں کا سڑکوں پر روا ں دوا ں ہونا ہے۔ گاڑی کی بریک کا فیل ہو جانا ، ٹائی راڑ کا کھل جانا یا ٹوٹنا ، ٹائیر کا بلاسٹ یا پھٹ جانا۔ یہ وہ حادثاتی نقائص ہیں جو اکثر اخبارات میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ تمام شہریوں ، پبلک ٹرانسپورٹز اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ گاڑیوں کی مینٹنس کا مکمل خیال رکھیں۔

شہری ہر روزبڑی تعداد میں ٹیکسی ، رکشہ اور چگ چی پر سفر کرتے ہیں۔ ہمیں اکثر ایسی گاڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جن انجن و میکنک فالٹ ہوتے ہیں ، دھوایں کے بادل اور شوروغل سے ماحول وفضا میں آلودگی اور ماحول کو خراب کرتے ہوئے سڑکوں پربھاگتی ہیں۔ گاڑیوں کی فٹنس کے متعلقہ ادارے کی خاص طور پر ذمہ داری ہے کہ مکمل جان پڑتال اور تحقیق کے بعد گاڑیوں کی پاسنگ کویقینی بنائیں تاکہ حادثات کی روک تھام ممکن بنایا جا سکے۔

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں موٹر ائیز وہیکل کے لئے اصول و قانون نا فضل عمل ہیں لیکن ایسی گاڑیاں جن میں موٹر اور انجن کی جگہ جانوروں اور مویشوں کو استعمال کیا جاتا ہے ،ان کے لئے قانون موجود نہیں ہے۔تانگہ، گدھا گاڑی، بیل گاڑی آج بھی کئی بڑے شہروں کے ساتھ دیہی ومضافتی علاقوں میں آمدو رفت کے وسائل میں استعمال ہو رہے ہیں۔ آمد روفت کے ان ذریعے کو ٹریفک قوانین میں لانے کی ضرورت ہے ۔ان کے لئے ٹریفک کی اسپیشل کلاسز کا اجراء کی اشد ضرورت ہے جس میں ان کو ٹریفک اصولوں اور روڑ پر چلنے کی آگاہی مل سکیں تاکہ حادثات سے بچنے اور ٹریفک کی روانی کو قائم رکھنے کے لئے مثبت طو ر پر اپنا کردار ادا کر سکیں۔

جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور سرچ نے ذہینی دباؤ و پریشر، جسمانی و گھریلو پریشانیوں کو بھی ٹریفک حادثات کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ ملک کے اندر بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہے جس سے متوسط طبقے کی زندگیوں پر بہت گہرا اثر مرتب ہورہاہے۔ روزگار کے مواقع کم ہونے سے پڑھے لکھے نوجوانوں میں امید کی کرنیں ختم ہو تیں جا رہی ہیں۔ یہی ایک وجہ ہے کہ زیادہ تر نوجوان جن کو نوکری ، کام نہیں ملتا وہ گاڑیوں کرائے پر لے کر چلا رہے ہیں۔ آج کل ٹیکسی کرائے پر صبح سے شام 400 سور رپے میں جب کہ رکشہ 200 سے 250 میں مل رہا ہے۔ گاڑی میں فیول ڈلوانے کی ذمہ داری ڈرائیور کی ہے اب یہ ڈرائیور کی قسمت و نصیب ہیں کہ وہ فیول اور کرائے کے علاوہ کتنے پیسے بچا لیتا ہے۔ڈرائیو ر حضرات کو روز انہ اپنی ضروریات زندگی کی گاڑی چلنے کے لئے خرچے کی پریشانی لاحق رہتی ہے، اکثر حادثات ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

والدین ، سرپرست اور خاندان کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کم عمری میں گاڑی ، موٹر سائیکل ہر گزنہ چلانے دیں۔ نوجوان اور نو عمرپر جوش و جنونی عادات کے مالک ہونے کی وجہ ٹریفک قوانین کو فالو نہیں کرتے۔ ٹریفک کے اشارے ، بورڈز اور علامات اور ضوابط کو کئی مرتبہ نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ہم رو ز مرہ سڑکوں بڑی شاہراوں پر رکشہ ،موٹر سائیکل کے نابالغ اور نوآموز ڈرائیور نظر آتے ہیں جو اکثر حادثات ہونے کی صورت میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔حکومت کو چاہئے ٹریفک قوانین میں ترمیم کر کے کم عمر ی پر نوجوانوں کے ساتھ والدین کو بھی سزاکا مرتکب ٹھہرا جائے۔

ٹریفک حادثات بڑھنے کی ایک وجہ سڑکوں اور روڈ کی ٹوٹ پھوٹ ، اشاروں اور سنگنلز کا نارہ ہونا،اسپیڈ بریک نہ ہونا، چوک اور چوراہوں پر سائن بورڈز کا نہ لگانا ، ٹریفک واڈرن کا ڈیوٹی پر موجود نہ ہونا، سڑک کے دوران مین ہول کے ڈھکن نہ ہونے جیسے نقائص شامل ہے۔ نیشنل ہائی ویز ے، روڈ سیفی اور موٹر وے ٹریفک پولیس اور سول اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اقدامات کی طرف فوراًتوجہ دیں تاکہ ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ حادثات سے بچاؤ کو ممکن بنایا جا سکے۔

عوام الناس کی اولین ذمہ داری ہے کہ روڈ سیفی کے اوپر مکمل طور عمل پہرہ ہوں ۔ بازاروں، سٹرکوں اور پبلک مقامات پر گاڑیاں کھڑی کرنے کی بجائے پارکنگ ایریا کا انتخاب کریں۔ سڑک کنارے پیدل چلتے ہوئے فٹ پاتھ کا استعمال کرے، سڑک اور روڈ پر بنائے گئے نشان زیبراکراس سے سڑک عبور کریں۔ جن سڑکوں پراوور ہیڈ پل بنائے گئے ان کا استعمال عمل میں لایا جائے۔ جن جگہوں پر فٹ پاتھ میسر نہ ہوں وہاں ٹریفک کے مخالف سمت چلیں۔

ٹریفک حادثات میں کمی اور بہتری کے لئے تمام سرکاری و سولین ادارے سب مل کر اپنی ڈیوٹیاں ایمانداری و فرض شناسی سے سر انجام دیں۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کو روکنے کے لئے طاقت وار اور کمزورکی تمیز کئے بغیرقوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ ہر محب وطن شہری کی ذمہ داری ہے کہ ملکی کی ترقی و خوشحالی کے لئے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سڑکوں کو حادثات سے محفوظ بنانے میں بھرپور رول ادا کریں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ