افغان مہاجرین کی باعزت واپسی

افغان مہاجرین کی باعزت واپسی

  



جنیوا میں کیو فور ممالک کے اجلاس میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے مسائل پر غور ہوا، ایران، افغانستان اور پاکستان کے علاوہ اقوام متحدہ کے نمائندے نے شرکت کی، پاکستان کی طرف سے وفاقی وزیر سیفران شہریار آفریدی نے بتایا کہ پاکستان افغان مہاجرین کے لئے ہر ممکن سہولت مہیا کر رہا ہے،ان کو رہائش، خوراک،صحت اور تعلیم کی سہولتیں دی جاتی ہیں،وہ اپنے لئے بینک اکاؤنٹ بھی کھولنے کے مجاز ہیں،انہوں نے بتایا کہ پاکستان ان لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی کے باعث اخراجات کے بوجھ تلے بھی دبا ہوا،نہ صرف ان حضرات کی باعزت واپسی ہونا چاہئے،بلکہ ان کی امداد کے لئے گرانٹ میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے ساتھ شروع ہوئی اور لاکھوں مہاجر یہاں آئے۔ان میں سے رجسٹرڈ مہاجرین16لاکھ تھے، جبکہ غیر رجسٹرڈ بھی ہیں جو زبان و معاشرت کا فائدہ اٹھا کر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض شہروں میں جا کر بس گئے، جب ان کی رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ کم تعداد میں تھی اور اقوام متحدہ کی طرف سے الاؤنس بھی دیا جاتا تاہم یہ جا کر پھر سے واپس آ جاتے اور بہت کم لوگ اپنے اپنے علاقوں میں بستے تھے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں اب ان مہاجرین کی تیسری نسل بھی جوانی میں قدم رکھ چکی اور یہ حضرات واپس نہیں جانا چاہئے اور کیمپوں میں سہولتیں اٹھاتے اور شہر جا کر مزدوری بھی کرتے ہیں،جو افغان تھوڑے بہت تعلیم یافتہ تھے وہ خاموشی کے ساتھ کیمپوں سے نکل کر اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں جا بسے اور کاروبار کیا،اب وہ جائیدادوں کے مالک ہیں اور ان لوگوں نے پاکستان کے پاسپورٹ بھی حاصل کر رکھے ہیں کہ شہری کی حیثیت سے نادرا نے ان کو شناختی کارڈ بھی جاری کئے، نادرا کے قومی شناختی کارڈ ہی کی بناء پر ان لوگوں نے پاسپورٹ حاصل کر کے غیر ممالک میں جا کر قیام بھی کر لیا ہے۔گزشتہ دِنوں یہ خبر بھی ملی کہ متعدد پشتو بولنے والے پاکستانیوں نے دوسرا کام کیا اور افغانستان کی قومیت والے کارڈوں اور دستاویزات کی بدولت غیر ممالک چلے گئے اور افغان ریفیوجی کی حیثیت سے سیاسی پناہ حاصل کر لی۔ ایسے اجلاس ہر سال ہوتے اور نظرثانی ہوتی ہے،یہاں مہاجرین کی واپسی کی تاریخ آ جاتی ہے اور توسیع ختم ہو جاتی ہے، تو پھر سے بوجوہ ان کو توسیع دے دی جاتی ہے،اب تو یہ باقاعدہ شہریت کے حامل ہو چکے،ان کے لئے مستقل حل سوچنا حکومت کا کام ہے کہ کیمپوں اور مہاجرین کے پھیلاؤ کی وجہ سے سماجی اور معاشرتی مسائل بھی پیدا ہو چکے ہیں،حکومت ِ پاکستان کو ان پہلوؤں پر غور کر کے ان کی باعزت واپسی کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔

مزید : رائے /اداریہ