لانگ مارچ اور حکومتی ہتھکنڈے

لانگ مارچ اور حکومتی ہتھکنڈے
لانگ مارچ اور حکومتی ہتھکنڈے

  



میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت 1992ء میں اس وقت کی اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ ان دنوں پنجاب پولیس کے سربراہ سردار محمد چودھری تھے۔ ان کا شمار ہماری پولیس کے بہترین سربراہوں میں ہوتا ہے،جو اپنے ویژن، لیڈر شپ اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی وجہ سے آج بھی شدت سے یاد کئے جاتے ہیں۔ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری نے اپنے نائب رانا مقبول احمد (جو بعد میں آئی جی سندھ رہے) کو ہدایات جاری کیں کہ لانگ مارچ کے شرکاء کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کی جائے،بلکہ انہیں آزادی سے آگے جانے دیا جائے اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی عمدہ سیاسی اور پولیس سربراہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ ہینڈلنگ کی وجہ سے لانگ مارچ جیسے سنجیدہ مسئلے کو خوش اسلوبی سے نمٹا دیا گیا۔ اس لانگ مارچ کے علاوہ بھی ہماری تاریخ میں کئی اور مارچ یا اس جیسے واقعات ہوتے رہے اور حکومتیں ان سے سیاسی طریقوں سے نمٹتی رہیں۔

موجودہ حکومت کو بھی مولانا فضل الرحمان کی طرف سے کئے جانے والے لانگ مارچ کا سامنا ہے، جس میں اپوزیشن پارٹیاں بھی مکمل طور پر مولانا صاحب کے ساتھ کھڑی ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی ٹمپریچر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کو حکومت کرتے ہوئے تقریباً سوا سال ہو چکا ہے، جس میں اس کی نا تجربہ کاری اور نا اہلی کی وجہ سے بیڈ گورننس بہت نمایاں طریقے سے سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل طور پر ناکام اور نا اہل نظر آتی ہیں،جس کی وجہ سے لوگوں کی پریشانیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اکثر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور پورا سسٹم ہی شتر بے مہار ہو چکا ہے۔

وزیراعظم عمران خان ملکی مسائل سے زیادہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں،اسی طرح جس وقت مشرقی پاکستان آگ میں جل رہا تھا اور ملک کے دو ٹکڑے ہونے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی،جنرل یحییٰ خان امریکہ اور چین کی دوستی کرا رہے تھے۔ جنرل یحییٰ خان کی طرح عمران خان کو بھی اپنے لئے عالمی کردار زیادہ نظر آتا ہے۔ اس دوران ملک میں کیا ہو رہا ہے، کہاں کہاں چنگاریاں سلگ رہی ہیں، عوام کس عذاب سے گذر رہے ہیں اور ملک آگے کی بجائے پیچھے جا رہا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان ملکی مسائل اور بائیس کروڑ عوام کے لئے فکر مند نہیں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے کچھ قریبی حلقوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے سال امن کا نوبل انعام عمران خان کو مل سکتا ہے۔ فی الحال عمران خان تو عالمی ثالثیاں کرا رہے ہیں،اس دوران کشمیر پر بھارتی قبضہ مضبوط ہوجاتا ہے،اسی نوے لاکھ کشمیری بھارتی مظالم جھیلتے رہتے ہیں، بھارت کی پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں اور ممکنہ طور پر جارحیت کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں، ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے،ملک کی معیشت مزید بیٹھتی جا رہی ہے اور بے روزگاری کی وبا طاعون کی طرح لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان تمام باتوں سے لاتعلق اپنی عالمی ثالثی میں ہی زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ 31اکتوبر کو بھارتی حکومت کا 5اگست کو جاری کردہ آرڈیننس نافذ العمل ہو جائے گا، جس کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ باضابطہ طور پر بھارت کا حصہ بن جائیں گے۔ وادی کشمیر تو خیر واضح طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے، لیکن بہت سے لوگ غالباً یہ بات نہیں جانتے کہ لداخ میں بھی سب زیادہ اکثریت مسلم آبادی کی ہے۔ لداخ کی 46 فیصد آبادی مسلم، 40 فیصد بدھ مذہب اور 12 فیصد ہندو ہے، جبکہ 2 فیصد سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ کشمیر کا علاقہ جس وقت بھارت کے باضابطہ قبضے میں جا رہا ہے، ہم تیسرے، چوتھے اور پانچویں ملک کی ثالثی میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے“؟

صوبوں کے حالات مرکز سے بھی کئی گنا خراب ہیں۔اقتصادی طور پر دیکھا جائے تو ایسا ملک جس کا شمار صرف تین سال پہلے دُنیا کی چار اُبھرتی ہوئی معیشتوں (emerging economies) میں ہو رہا تھا، اب مکمل طور پر اقتصادی بدحالی کا آئیکون بن چکا ہے۔ ملک کی معیشت، اقتصادی ترقی کی شرح،سٹاک مارکیٹ، روپے کی قدر، ترقیاتی منصوبوں کے رُک جانے کے بعد ہر قسم کے چھوٹے بڑے کا روبارتیزی سے بند ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ جس حکومت نے ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا، ایسا لگتا ہے کہ اس سے دوگنا لوگوں کو بے روزگار کرے گی، جس ملک میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہوں،وہاں امن و امان کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور جرائم کی روک تھام نا ممکن ہو جاتی ہے۔ آگے چل کر یہی بد حالی، انارکی اور خانہ جنگی کو جنم دیتی ہے۔ سیاسی طور پر ملکی حالات اور بھی زیادہ برے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات کی ہینڈلنگ غیر سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو انصاف کی بجائے انتقامی کارروائیوں پر یقین رکھتے ہیں۔اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے،اس پر مستزاد یہ کہ سخت ترین سنسر شپ کی وجہ سے میڈیا پر اپوزیشن کی کوریج کرنا ممکن نہیں ہے۔ لگتا ہے موجودہ حکومت میں غیر سیاسی سوچ رکھنے والے غیر جمہوری لوگوں کا پلڑا اتنا بھاری ہے کہ وہ معمول کے سیاسی تقاضوں کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔

مریم نواز شریف کی میڈیا کوریج پر پابندی لگائی گئی تو عوام ان کی بات سننے کے لئے جوق درجوق ان کے جلسوں اور ریلیوں میں جانا شروع ہوگئے،کیونکہ میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے ان کی بات ان کے جلسوں میں جا کر ہی سنی جا سکتی تھی۔ اس کی وجہ سے مریم نواز شریف کے جلسے اور ریلیاں بہت عظیم الشان ہونا شروع ہو گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مریم نواز شریف کو گرفتار کرکے جیل میں بند کرنا پڑا۔ اب یہی طریقہ مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے لئے بھی اپنایا جا رہا ہے،چونکہ مولانا کے جلسوں، جلوسوں، پریس کانفرنسوں اور تمام مصروفیات کی میڈیا کوریج پر غیر اعلانیہ پابندی ہے، اِس لئے عوام کے پاس صرف یہی آپشن باقی بچے گا کہ وہ خود ہی اس میں شریک ہو جائیں۔ اپوزیشن پارٹیاں مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ میں ان کے ساتھ ہم قدم ہیں۔ اگر اس وقت ملک میں سیاسی سوچ رکھنے والی حکومت ہوتی تو مولانا صاحب کے لانگ مارچ کا مقابلہ سیاسی طریقوں سے کرتی، لیکن جب فیصلے غیر سیاسی لوگوں نے کرنے ہوں تو وہ ایسے مسئلوں سے غیر سیاسی طریقوں سے ہی نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور حالات کو پہلے سے بھی زیادہ خراب کر دیتے ہیں۔

لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے زیادہ تر سوشل میڈیا پر جھوٹے پراپیگنڈے اور میڈیا میں جعلی خبروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر حکومتی حلقوں کی طرف سے جعلی پوسٹیں اور خطوط پھیلائے گئے جن کا تعلق غیر اخلاقی حرکات سے ہے۔ اسی طرح مولانا سے منسوب جعلی بیانات کو بہت منظم طریقے سے وائرل کیا گیا۔ مولانا صاحب پر براہ راست جھوٹے حملوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے حوالے سے بھی فیک نیوز کی بھرمار کر دی گئی اور ایسا تاثر دیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں اختلافات کی وجہ سے تقسیم ہو گئی ہے۔ ایسی خبریں بھی پھیلائی گئیں کہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں میں کچھ لوگ خفیہ اداروں کے لئے جاسوسی کرکے ایک ایک بات براہِ راست آگے پہنچاتے ہیں۔ اتنے جھوٹے پراپیگنڈے کے باوجود میاں نواز شریف کے صرف ایک خط نے تمام پراپیگنڈے سے ہوا نکال دی اور اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ اپنے قائد میاں نواز شریف کی قیادت میں نہ صرف متحد اور یکسو ہے، بلکہ مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ میں اپنی پوری سیاسی اور عددی طاقت کے ساتھ شریک ہے۔

اسی طرح بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے خلاف کیا جانے والا پراپیگنڈا بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ میں نہ صرف سیاسی پارٹیاں پوری یکسوئی کے ساتھ شامل ہوں گی،بلکہ معاشرے کے دوسرے اہم طبقات جیسے تاجر،ڈاکٹر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بھی پوری شدت سے ساتھ موجود ہوں گے، کیونکہ ان سب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ پراپیگنڈے کے علاوہ حکومت روایتی ہتھکنڈوں، جیسے پکڑ دھکڑ اور مقدمات کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ ماضی میں ان ہتھکنڈوں کا کبھی اچھا نتیجہ نہیں نکلا،بلکہ ایسا کرنے والی حکومتوں نے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا مارا۔ کیا پی ٹی آئی حکومت کے پاس کوئی سردار محمد چودھری جیسا ویژنری اور قابل پولیس سربراہ ہے؟ اگر نہیں ہے تو صورت حال حکومت کے قابو سے باہر ہو جانا یقینی ہے۔ ویسے بھی اس کے ذمہ دار وہ غیر جمہوری لوگ ہوں گے،جو حکومت کو چلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...