اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر:کیا کھویا کیا پایا؟

اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر:کیا کھویا کیا پایا؟

  



وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27ستمبر کو شاندار، زوردار اور جاندار خطاب کیا۔انہوں نے اقوامِ عالم کے سامنے مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی حکومت اور نو لاکھ مسلح افواج کے ظلم وستم پر روشنی ڈالی اور مظلوم کشمیریوں اور پاکستانی عوام کو یقین دلایا کہ اقوام عالم،مہذب قوموں و ممالک کے رہنما اور منصف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈال کر اسے سمجھائیں گے،اور مظلوم کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق ِ خودارادیت دِلانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کو دو ہفتے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہوئے ڈھائی ماہ ہونے کو ہیں، لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، مقبوضہ کشمیر میں احتجاج، بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف مظاہرے اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ بھارتی افواج کی جھڑپیں، پکڑ دھکڑ اور نوجوانوں کو زخمی و ہلاک کیا جا رہا ہے۔

ان حالات میں مقبوضہ کشمیر میں محصور بہن بھائیوں، بچوں، نوجوانوں اور عمر رسیدہ بزرگوں سے اظہارِ یکجہتی کی خاطر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے حامیوں کا کنٹرول لائن کی جانب مارچ کرنا جذباتی اعتبار سے درست عمل ہے، مگر زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھارت اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول ایک ”سرخ لائن“ ہے،دشمن تو پہلے ہی تاک میں ہے کہ ہم مقبوضہ وادی کے مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس ”سرخ لائن“ کے قریب جائیں یا اسے کراس کرنے کی کوشش کریں، یہ تو کوئی دانش مندانہ فیصلہ ہر گز نہیں ہو گا،اس کے برعکس ہم نے ایسی حکمت ِ عملی اختیار کرنی ہے کہ بھارت کے خلاف احتجاج ریلیاں، جلسے، جلوس جاری رکھنا ہے، مارچ کو کنٹرول لائن سے بہت زیادہ پیچھے، آزاد کشمیر کی حدود میں جاری و ساری رکھنا ہے۔ یہی بین الاقوامی دُنیا کو متوجہ کرنے کا مہذب راستہ ہے، جنگ تو آخری حربہ ہے اس حربے کو بچا کر رکھنا ہے،پہلے ابتدائی حربوں سے کام لینا ہے۔

پاکستان کی حکومت،عوام اور فوج سفارتی اور اخلاقی طور پر مقبوضہ وادی اور آزاد کشمیر کے ساتھ ہیں اور اس مسئلے کے پُرامن حل کے لئے ہر فورم پر آواز اُٹھا رہی ہیں اور اس سے اگلا فیصلہ بھی حکومت،عوام اور پاکستانی فوج نے کشمیریوں کو اعتماد میں لے کرکرنا ہے۔آزاد کشمیر کے بھائیوں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے،ہم نے بھارت کو کوئی ایسا موقع فراہم نہیں کرنا کہ وہ مقبوضہ وادی کشمیر کو اپنے دفاع میں استعمال کرے اور بھارت کے حامیوں کو بھارت کی وکالت کا جواز مل جائے، حکومت ِ پاکستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اجازت دیئے بغیر اور بغیر جنگ کئے، سفارت کاری کے بل بوتے پر مسئلہ کشمیرکو عالمی سطح پر ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارت،مظلوم کشمیریوں پر مظالم سمیت بے نقاب ہو چکا ہے، اس نازک صورتِ حال میں ہم سب نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے اور کسی صورت میں بھی آزاد کشمیر کے عوام کو جذبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

ہمارے ایسا کرنے سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم نہتے کشمیریوں کے کاز کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، فہم و فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان جنگی حالات سے گزر رہا ہے، ہم سب کے لئے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بڑے مقاصد جذبات کی رو میں بہنے سے حاصل نہیں ہوتے، جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے ایسے نازک موقعوں پر دانش مندی اور حکمت ِ عملی سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، دشمن تو اس انتظار میں ہے،وہ تو آپ کو اشتعال دِلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ آپ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے عبور کریں اور اسے کارروائی کا جواز اور بہانہ مل جائے اور وہ دُنیا کے سامنے سچا ہو جائے۔ ہم نے اسے سچا بننے کا موقع نہیں دینا، اِن شاء اللہ وہ وقت بہت قریب ہے جب بھارت بین الاقوامی اقوام کے دباؤ کے نتیجے میں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان قائم لائن آف کنٹرول خود ختم کرے گا۔ مقبوضہ وادیئ کشمیر سے اپنی 9لاکھ مسلح افواج نکالنے پر مجبور ہو جائے گا اور مقبوضہ کشمیر پر بھی آزادی کا پرچم لہرا رہا ہو گا، ہم نے اس صبح کا انتظار کرنا ہے۔

15دسمبر کو وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل میں جذباتی انداز میں ”ہم ہزار سال تک جنگ لڑنے“ کا اعلان کرتے ہیں،پولینڈ کی قرارداد کے ایجنڈے کی کاپی کے کاغذات پھاڑ کر سلامتی کونسل کے ہال میں اُچھال دیئے اور سلامتی کونسل کی نشست چھوڑ کر فلور سے باہر چلے گئے،اُن کی تقریر پرپاکستانی قوم خصوصاً پیپلزپارٹی نے ”جئے بھٹو ہزاروں سال“ کے نعرے لگا کر آسمان سر پر اُٹھا لیا، اگلے دن 16دسمبر 1971ء تھا اور قوم نے وہ خبر سنی،جسے سننے کے لئے قوم تیار نہیں تھی، ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں مشرقی پاکستان کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل عبداللہ خان نیازی ہتھیار ڈال رہے تھے، پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔مَیں نے جنرل نیازی کا پسٹل 1988ء کو دہلی کے لال قلعہ میں اسی پلیٹ میں رکھا، شیشے کی الماری میں پڑا دیکھا اور جی بھر کر رویا، آج بھی ملک میں سیاسی بحران ہے،اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی صف ِ اول کی قیادت منی لانڈرنگ کے مقدمات میں جیلوں میں بند پڑی ہے، حکومت کے بڑے ذمہ دار وزیر شبر رضا زیدی کہہ رہے ہیں، منی لانڈرنگ ملکی بینکوں کے ذریعے قانون کے مطابق کی گئی ہے۔یہ روپیہ پیسہ واپس لانا مشکل ہو گا۔ وزیراعظم پاکستان نے27 ستمبر 2019ء کو سابق وزیراعظم بھٹو کی طرح خطاب کیا اور عمران خان نے نیو یارک میں لگا سالانہ میلہ لوٹ لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو سوچنا یہ ہے کہ اس تقریر میں کیا بیان کرنا تھا، کیا بیان نہیں کرنا تھا؟اب اسی کا ردعمل سامنے آنا ہے، اس کے لئے حکومت،فوج اور عدلیہ ایک پیچ پر ہیں تو عوام اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لے لیں،مل کر مقابلہ کریں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...