قومی نصابِ تعلیم……تاثرات و تجاویز

قومی نصابِ تعلیم……تاثرات و تجاویز

  



ایک قومی روزنامے کی6اکتوبر2019ء کی اشاعت میں وفاق المدارس پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری کا مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ مضمون شائع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا پہلا مضمون بھی اخبار میں شائع ہوا تھا، جس پر ہم نے اپنے تحفظات / تجاویز کا اظہار کیا تھا اور جو ملک کے موقر اخبارات نے شائع بھی کیا تھا۔ موجودہ مضمون میں 23 ستمبر 2019ء کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب کی صدارت میں قومی نصاب کونسل کے اجلاس کی کارروائی کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے وفاق المدارس العربیہ پاکستان جس کے صاحب ِ مضمون ناظم ِ اعلیٰ ہیں کا قیام خطیب ِ پاکستان مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے عمل میں لایاتھا اور ابتدائی صدور اور سرپرستوں میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ ئ اجل مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور مولانا شمس الحق افغانی ؒ اس کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ تنظیماتِ مدارسِ اسلامیہ کے نمائندے عموماً اور مولانا محمد حنیف جالندھری اور مفتی منیب الرحمن جیسے لائق اور فائق علماء بھی اس کے ممبر ہیں اس لئے توقع کی جاتی ہے کہ قومی نصابِ تعلیم کی تشکیل کے وقت اسلامیانِ پاکستان کی عمومی ضرورتوں کو پیش ِ نظر رکھا جائے گا۔

میری مراد یہ ہے کہ اصولی طور پر جیسا کہ دینی مدارس میں عصری مضامین، یعنی میٹرک میں انگلش، ریاضی، اردو اور مطالعہ پاکستان، جبکہ انٹرمیڈیٹ میں انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے مضامین شامل کئے جائیں گے اور ان کا امتحان فیڈرل بورڈ لے گا اور ان مضامین کے نمبروں کو شامل کر کے نتیجہ اور ڈگری جاری کی جائے گی اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بات کا طے کیا جانا ضروری ہے کہ جتنے پیریڈ دینی مدارس میں عصری علوم کی تعلیم کے لئے رکھے جائیں گے، ملک کے سکولوں اور انٹرمیڈیٹ کالج میں اتنے ہی پیریڈ قرآنِ پاک، حدیث نبویؐ، فقہ اسلامی اور اسلامی تاریخ کے لئے بھی رکھے جائیں گے۔ دوسری اصولی بات یہ طے کی جانی چاہئے کہ جس طرح ملک کے عمومی نصابِ تعلیم میں آرٹس، کامرس، سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن، انجینئرنگ، میڈیسن وغیرہ کے گروپ منظور شدہ ہیں اسی طرح انٹرمیڈیٹ کے بعد درسِ نظامی گروپ کی بھی حکومت منظوری دے تاکہ دینی مدارس کے طلباء یکسوئی کے ساتھ قرآن، حدیث اور فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کر کے ملک کی دینی ضرورتیں پوری کر سکیں۔ اِس وقت دُنیا میں عمومی طور پر پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں دینی مدارس کا جال بچھا ہوا ہے اور دنیا کے باقی ممالک میں جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں عموماً ان ہی ممالک کے حفاظ اور علماء دینی خدمات دیتے نظر آتے ہیں۔ حکومت کے زعماء کو اور تنظیماتِ مدارسِ اسلامیہ کے ذمہ داروں کو اِس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام میں تبدیلی لا کر آنے والے وقت میں سندھ کے بڑے شہر کی بڑی جامع مسجد میں امام و خطیب قائم علی شاہ کے دورِ حکومت میں کئی برس تک 2500 روپے تنخواہ لے کر کام کرنے والا کیسے ملے گا اور سندھ کے ایک بڑے شہر میں حدیث کا استاد، یعنی صحیح مسلم پڑھانے والا 7000 روپے میں کیسے ملے گا۔

آج بھی دینی مدارس میں تنخواہوں کا جو معیار ہے وہ عام معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن پھر بھی لوگ دینی اور نبویؐ علوم کی ترویج و اشاعت کے لئے کم تنخواہ لے کر بھی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں تاکہ آنے والی نسل تک رسولؐ اللہ کا آخری حج کے موقع پر دیئے گئے پیغام کے مطابق پہنچا کر اس پر عمل کریں الاھل یبلغ الشاہد الغائب (حاضر لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بعد میں آنے والے لوگوں تک میرے پیغام کو پہنچا دیں)۔ بعض مفکرین بالخصوص علامہ اقبالؒ سے منسوب یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ سپین میں مسلمانوں نے 800 برس حکومت کی، لیکن اب وہاں مسلمانوں کا نام و نشان تک نہیں ہے، کیونکہ وہاں دینی مدارس موجود نہیں تھے۔ انگریز نے برصغیر ہندوپاکستان پر قبضہ کرنے کے بعد جہاں ہماری زبان، ہمارا قانون، ہمارا کلچر، رہن سہن وغیرہ سب بدلا وہیں ہمارا دین بدلنے کی بھی کوشش کی، لیکن ام المدارس دارالعلوم دیوبند، مراد آباد، دہلی اور ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے دینی مدارس کی وجہ سے وہ اپنی چال میں کامیاب نہ ہو سکا۔ مذکورہ بالا مضمون میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کلاس ون سے انٹرمیڈیٹ تک پورے ملک کے لئے یکساں نصابِ تعلیم تیار کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں انگلش اور اردو میڈیم کی تفریق ختم ہو جائے گی۔ کیمبرج اور آکسفورڈ کا نصاب باقی نہیں رہے گا۔ مدارس اور عصری اداروں کی اس نصاب کی حد تک تفریق ختم ہو جائے گی۔

اس سلسلے میں یہ کہا جا سکتا ہے There is many a slip between the cup & the lip. آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا انگریزی اردو ذریعہ تعلیم کا فرق ختم کیا جا سکے گا اور کیا آکسفورڈ اور کیمبرج کا نصاب ختم ہو سکے گا؟ نصاب کی تیاری کے مراحل میں صاحب ِ مضمون کے مطابق سرکاری ملازمین انگریزی کے دو بڑے سکولوں اور دیگر سکولوں کے نمائندے بھی موجود تھے نصاب کی تیاری میں دینی مدارس کے جید علماء کی بھی ایک قابل ِ ذکر تعداد موجود ہونی چاہئے تاکہ وہ ملک کے عام نظامِ تعلیم (سکولوں اور کالجوں) کے لئے ناظرہ و حفظ قرآن پاک، احادیث نبویؐ، فقہ اسلامی اور اسلامی تاریخ کا نصاب بھی مرتب کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں قابل ِ غور (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جس پر صاحب ِ مضمون نے بھی زور دیا ہے کہ ماضی میں مدرسہ ریفارمز کے نام پر عرصے سے مغربی ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جس میں کوئی حکومت کامیاب نہیں ہو سکی، کیونکہ دینی مدارس اسلامیانِ پاکستان کے چندے سے چلتے ہیں۔ چندہ دینے والے لوگ اور تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والدین، ان کے اہل ِ خاندان اور شہر کے متدین لوگ اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ (2) اس بات کی صحیح نشاندہی کی گئی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور نصاب کا معاملہ صوبائی معاملہ بن کر رہ گیا ہے میری تجویز ہے کہ یکساں قومی نصابِ تعلیم کی تیاری میں تمام صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندوں / تعلیم کے ذمے داروں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کے دستخط اور منظوری کے بعد اس نصاب کو منظور کیا جائے۔ (3) ہمارے ملک کی 72 سالہ تاریخ ہے کہ قومی پالیسیوں میں تسلسل باقی نہیں رہتا، بلکہ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو پس ِ پشت ڈال دیتی ہے یا یکسر تبدیل کر دیتی ہے اس بات کا اہتمام یقینا بہت ضروری ہے کہ حکومتوں اور حالات کے تبدیل ہونے سے اس مجوزہ پالیسی پر کوئی اثر نہ پڑے۔ (4) نئے نصابِ تعلیم میں پہلی سے بارہویں جماعت تک اردو زبان کو ذریعہ تعلیم رکھا جائے انگریزی کو ایک مضمون کے طور پر صرف پڑھایا جائے اسی طرح جیسے انجینئرنگ اور سائنس کے کالجوں میں انگریزی ذریعہ تعلیم ہے اسی طرح درسِ نظامی گروپ میں عربی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔

(5) نئے نصابِ تعلیم میں عربی زبان کو بھی نصاب کا مستقل حصہ بنایا جائے، کیونکہ قرآنِ پاک اور احادیث ِ نبویہؐ کی زبان عربی ہونے کے علاوہ عرب دُنیا کے ساتھ رابطہ کرنے اور وہاں کام کرنے والوں کے لئے بھی عربی کا جاننا بہت ضروری ہے اس سے ہم اپنے ملک کے Level of employment میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ (6) صاحبِ مضمون نے اس بات کی طرف بھی خاصی توجہ دلائی ہے کہ ناظرہ قرآنِ پاک اور ترجمے کے حوالے سے سابق حکومت نے جو تیاری کی ہے اس کو بھی نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ (7) صاحب ِ مضمون کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا جانا چاہئے کہ اسلام کی پانچ بنیادی چیزیں عقائد، عبادات، معاشرت، معاملات اور اخلاق سب کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اگر اس میں اسلام کے معاشی، عدالتی، سیاسی اور حکومتی نظام کا بھی کچھ تعارف کرا دیا جائے تو اچھا ہو گا۔ (8) پورے ملک کے لئے یکساں نصاب سازی کی تیاری کے دوران دیگر اسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب، مصر وغیرہ کے نصابِ تعلیم سے اور ماہرین ِ تعلیم سے بھی مدد لی جائے تاکہ قومی ضروریات کے ساتھ ساتھ ہم اپنی مذہبی ضروریات کے لئے بھی بہتر طور پر استفادہ کر سکیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...