جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی میں صلح اور جنوبی پنجاب

جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی میں صلح اور جنوبی پنجاب
جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی میں صلح اور جنوبی پنجاب

  



پہلے شاہ محمود قریشی نے صلح کا اعلان کیا اور اب جہانگیر ترین نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ شاہ محمود قریشی سے ان کے اختلافات ختم ہو گئے ہیں اور ہم دونوں وزیراعظم عمران خان کی رہنمائی میں عوام کی خدمت کریں گے۔ چلو جی اس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“…… ان دونوں کی طرف سے اعلان کے بعد کم از کم اس بات کی تو تصدیق ہو گئی کہ یہ دونوں بڑی سیاسی شخصیات پچھلے دو تین برسوں سے تحریک انصاف کے اندر اور اب حکومت میں رہ کر بچوں کی طرح لڑ رہی تھیں،ایسے ایسے محیر العقول واقعات میں ایک دوسرے کے مقابل رہیں کہ حیرانی ہوتی تھی ان کے سیاسی قد کاٹھ پر۔جب اس قسم کی مضحکہ خیز لڑائی ہوتی ہے، تو فائدہ اٹھانے والوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں سو جی بھر کے فائدہ اٹھایا گیا۔ حقیقی کارکن منہ دیکھتے رہ گئے اور کاریگروں نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ عوامی اہمیت کے منصوبے بھی رکے رہے اور دونوں میں کریڈٹ لینے کی جنگ نے پارٹی کو جنوبی پنجاب میں زمین سے لگا دیا۔تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا سیٹ بیک یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کے باوجود جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریٹ قائم نہیں ہو سکا تھا۔ پچھلے دنوں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بالواسطہ طور پر سارا ملبہ ان دونوں شخصیات پر ڈال دیا تھا۔ان کا کہنا تھا سیکرٹریٹ کے لئے انتظامات مکمل کئے جا چکے ہیں،فنڈز مختص کر دیئے گئے ہیں،اب صرف سیاسی فیصلے کا انتظار ہے۔

یہ سیاسی فیصلہ اس لئے نہیں ہو پا رہا تھا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین اس سیکرٹریٹ کے مقام کے تعین پر متفق نہیں ہو پا رہے تھے۔ دونوں میں ان بن اتنی تھی کہ اس موضوع پر بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے،سو یہ معاملہ لٹکا رہا۔اس سے تحریک انصاف کی اس علاقے میں کتنی سبکی ہوئی اس کا شاید ان دونوں شخصیات کو اندازہ نہیں،اب جبکہ ان دونوں میں صلح ہو گئی ہے، لوگوں کی زبان پر پہلا سوال یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کا معاملہ بھی اب حل ہو جائے گا یا اس پر اختلافات برقرار رہیں گے، کیا الگ سیکرٹریٹ ملتان میں قائم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی یا جہانگیر ترین اب بھی اسے ملتان اور لودھراں کے درمیان میں کہیں بنانا چاہیں گے؟ملتان جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا اور تہذیبی و تاریخی شہر ہے،اسے چھوڑ کر جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کا کسی اور شہر میں بنانا ایک احمقانہ بات ہو گی۔ اس پر تو اتنی بحث ہونی ہی نہیں چاہئے تھی اور جہانگیر ترین کو اس پر سیاست کرنے کی بجائے اختلاف کے کوئی اور پہلو ڈھونڈنے چاہئیں تھے۔ یہ اس لئے بھی احمقانہ بات تھی کہ جہانگیر ترین کی اصل شناخت ملتان ہی ہے، جہاں سے انہوں نے عروج حاصل کیا۔

تحریک انصاف کے ان دونوں بڑوں میں اختلافات کے اثرات نچلی سطح تک محسوس کئے جاتے رہے۔ حالت یہ رہی کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایک عرصے تک ملتان کا دورہ نہ کیا، کیونکہ انہیں جہانگیر ترین کی طرف سے مبینہ طور پر این او سی نہیں مل رہا تھا۔ جو نہیں چاہتے تھے کہ عثمان بزدار شاہ محمود قریشی گروپ کے ارکان اسمبلی سے وہاں جا کے ملیں ا ور ان کے منصوبوں کی منظوری دیں۔ اس حوالے سے عثمان بزدار نے سخت تنقید بھی برداشت کی، مگر ملتان نہ آئے۔ انہوں نے جہانگیر ترین کے کہنے پر صوبائی نشست جیتنے والے شیخ سلیمان نعیم کو اپنا معاون خصوصی بھی مقرر کیا، حالانکہ شاہ محمود قریشی اسے نا اہل کرانے کے درپے تھے۔ یہ سب باتیں جگ ہنسائی کا باعث بنی ہوئی تھیں پھر پارٹی عہدیداروں کے انتخاب میں بھی یہ دونوں شخصیات اپنے لوگ آگے لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہیں، نامی گرامی کرپٹ افراد بھی اس ”جنگ“ میں نوازے گئے۔ دھڑوں میں بٹے ہوئے ارکان اسمبلی انتظامی افسروں کے آگے بے بسی کی تصویر بنے رہے، کیونکہ ”اوپر“ سے ان کے کام نہ کرنے کی ہدایات ملتی رہیں۔ شاہ اور خان گروپ پورے جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کو اندر سے کمزور کرتے رہے۔

ظاہر ہے یہ باتیں وزیراعظم عمران خان تک بھی پہنچتی ہوں گی، مگر وہ کیا کرتے، کوئی عام رہنما ہوتے تو شاید وہ شٹ اپ کال بھی دے دیتے یہاں تو دونوں پارٹی کے سینئر ترین رہنما تھے، سو وہ خاموش رہے اور ان دونوں کو ایک ساتھ بٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ عمران خان کی اس معاملے میں لا تعلقی کہیں یا بے بسی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ایک دن پریس کانفرنس میں یہ غبار نکالا تھا کہ جہانگیر ترین کو کابینہ کے اجلاسوں میں نہیں بیٹھنا چاہئے، اس سے اپوزیشن کو اعتراض کا موقع ملتا ہے، حالانکہ اپوزیشن سے زیادہ انہیں اعتراض تھا کہ نا اہل ہونے کے باوجود جہانگیر ترین کو ان سے زیادہ اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔ ویسے تو کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کے دل مشکل ہی سے صاف ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں تو بال رہ ہی جاتا ہے، تاہم جس طرح دونوں شخصیات نے میڈیا کے سامنے اپنے اختلافات ختم ہونے کا اعلان و اقرار کیا ہے اس سے امید کی جانی چاہئے کہ دونوں واقعی باہم شیر و شکر ہو چکے ہیں،کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ سیاسی حالات نے تحریک انصاف کے اندر موجود دھڑے بازی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جب سے اپوزیشن نے تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنے کی مہم جوئی شروع کی ہے، جس کی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی تائید کر رہی ہیں، اس وقت سے تحریک انصاف کے اندر بقاء کی جنگ شروع ہو چکی ہے اور ذاتی مفادات پر مبنی اختلافات کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔

بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی تنہائی کا شکار ہونے جا رہی ہے، اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی ابھی تک اس کے ساتھ ہیں، تاہم اصل سیاسی قوتیں اس کے متحارب کھڑی ہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف اگر ایک متحد جماعت کے طور پر اپوزیشن کا مقابلہ نہیں کرتی تو پھر شاخ نازک پر بنے ہوئے آشیانے کی طرح جلد بکھر سکتی ہے۔ ویسے بھی ایک عام تاثر یہ ہے کہ حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں،وزراء میرٹ پر نہیں لئے گئے،بلکہ گروپ بندی کی بنیاد پر چنے گئے ہیں …… اب انہیں کابینہ سے نکالنا بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ اس صورت حال میں سارا بوجھ عمران خان پر ہے کہ وہ اپنی شخصیت اور بیانیہ کی وجہ سے عوام کی امید برقرار رکھیں، مگر یہ سلسلہ کب تک چل سکتا ہے؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندر گروپ بندی کا خاتمہ ہو اور نااہل وزراء کی طرف اپنے گروپ میں ہونے کی وجہ سے سپورٹ کرنے کی بجائے ان کی جگہ میرٹ پر نئے وزراء لائے جائیں تاکہ اپوزیشن کی مہم جوئی کا جواب کارکردگی سے دیا جا سکے۔

چونکہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی دونوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، اس لئے ان پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ جنوبی پنجاب نے عام انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹا کر تحریک انصاف کو تاریخی کامیابی دلوائی تھی۔ اس میں ان بلند بانگ دعوؤں کا بھی بہت کردار تھا؟ جو تحریک صوبہ محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کرتے ہوئے کئے گئے،مگر اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اس علاقے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے آ گیا ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی اس خطے سے لاتعلقی ہے۔ان دونوں بڑی سیاسی شخصیات کی صلح کا فائدہ تب ہوگا، جب یہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے جنوبی پنجاب کو اس کے حقوق دلوائیں، الگ سیکرٹریٹ کے قیام کو اسی سال یقینی بنائیں اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مجبور کریں کہ وہ صرف ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر توجہ دینے کی بجائے پورے جنوبی پنجاب پر توجہ دیں تاکہ ترقی کے ثمرات واقعتا جنوبی پنجاب کے عوام تک پہنچ سکیں۔

مزید : رائے /کالم