مقبوضہ کشمیر صورتحال پر امریکی مداخلت ناگزیر، عالمی نوٹس لیں، صدر، وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر 

مقبوضہ کشمیر صورتحال پر امریکی مداخلت ناگزیر، عالمی نوٹس لیں، صدر، وزیر ...

  



مظفرآباد (این این آئی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے نارروا پابندیاں اُس مرحلہ میں داخل ہو گئی ہیں جہاں عالمی برادری خصوصاً امریکہ کی(بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

 مداخلت نا گزیر ہو گئی ہے۔ ایک مغربی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکہ میں ہمیں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ پانچ اگست سے پہلے امریکہ میں بھارت کے لیے حمایت بہت زیادہ تھی کیونکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان گہرے اقتصادی اور اسٹرٹیجک تعلقات ہیں لیکن اب یہ سب کچھ بدل رہا ہے۔ جس کا ثبوت حالیہ دنوں میں امریکی قانون سازوں کی طرف سے ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر کے حوالے سے پالیسیوں پر کھل کر تنقید ہے۔ دو ہفتے پہلے پریمیلا جیا پال کی قیادت میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے چودہ قانون سازوں نے بھارتی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ناکہ بندی ختم کر کے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بحال کر ے اور وہاں کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرنے کی سہولت فی الفور بحال کریں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر ہوسٹن میں بھارتی امریکیوں کی ایک ریلی میں شرکت کر کے بھارت سے اپنی قربت کا اظہار ضرور کیا لیکن دوسری جانب اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر کے امریکی حکومت کی پالیسی واضح کر دی۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا سمیت عالمی ذرائع ابلاغ کئی عشروں کے بعد پہلی بار بھارتی اسٹبلشمنٹ کے بیانیہ کے بجائے کشمیریوں کی حقوق کی بات کر رہا ہے اور کشمیر میں ہونے والے واقعات کو سچائی کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارت کے اس موقف کو مستر د کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 370 اور 35-A اس لیے ختم کی گئی کہ بھارتی حکومت کشمیر کو بہتر انداز میں بھارت کے ساتھ ضم کرنے اور ریاست میں لوگوں کو خوشحالی اور علاقے کی تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنا چاہتی ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ دہلی کی حکومتوں نے ستر سال کشمیر کو اپنے ساتھ ضم کرنے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ اس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت اسرائیل کی طرز پر بھارت کے ہندو خاندانوں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر آباد کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تاکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔  انہوں نے کشمیریوں کے حقوق پر عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے کھل کر حمایت پر چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی حالت زار پر پاکستانی حکام کو خاموشی اور کشمیری مسلمانوں کے حقوق پر بڑھ چڑھ کر وکالت کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دونوں خطوں کی صورتحال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اوروہاں بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ نسل کشی ہے جبکہ چین کے صوبہ سنکیانگ کی قانونی اور آئینی صورتحال بالکل مختلف ہے۔

سردار مسعود

مظفرآباد (این این آئی)وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کا شیخ خلیفہ بن زید النہیان ہسپتال کا دورہ۔ وزیر اعظم نے لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے زخمی افراد کی عیادت کی اور امدادی رقوم کے(بقیہ نمبر46صفحہ7پر)

 چیک بھی تقسیم کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے غیور عوام کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں جو تحریک آزادی میں خون دے کر حصہ ڈال رہے ہیں۔ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلاخلاف ورزیاں کر رہی ہے اور سویلین آبادی پر سنائپر گن اور کلسٹر ایمونیشن استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی آئے روز لائن آ ف کنٹرول پر حرکات بڑھ رہی ہیں جو پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ بھارتی فوج نے اپنی تمام گنیں ہمارے شہروں کی طرف لگائی ہوئے ہیں جن سے وہ سویلین کو نشانہ بنا رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستانی فوج انسانیت سوز مظالم کی تمام حدیں پار کر چکی ہے اقوام عالم اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر لائن آف کنٹرول پربھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کے لیے ایک مد مقرر کرے گی تاکہ متاثرین کے علاج معالجہ میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ میں سی ایم ایچ کے کمانڈنگ آفیسران، ڈاکٹرز اور عملہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ جس محنت ، تندہی اور شفقت کے ساتھ ان کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔ 

راجہ فاروق حیدر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...