جمشید دستی کی بسیں تحویل میں لینے کا فیصلہ‘ دھرنے سے پہلے گرفتاریوں کا امکان

  جمشید دستی کی بسیں تحویل میں لینے کا فیصلہ‘ دھرنے سے پہلے گرفتاریوں کا ...

  



مظفر گڑھ‘ خان گڑھ‘ جتوئی‘ ماہڑہ شہر (نامہ نگار‘ نمائند ہ پاکستان)مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے خوف اور ان کی حمایت پر مظفرگڑھ پولیس نے جمشید دستی کی فری چلنے والی بسوں کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے دھرنے سے پہلے بڑی گرفتاریوں کا بھی امکان رات گئے شاہ جمال پولیس فری (بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

چلنے والی بس کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے گدپور پہنچ گئی جمشید دستی تفصیلات کے مطابق سربراہ عوامی راج پارٹی جمشید دستی کی مولانا فضل الرحمن کے جلسے کی حمایت کرنے پر گذشتہ روز مظفرگڑھ پولیس حرکت میں آگ ضلع بھر میں جمشید دستی کی چلنے والی فری بسوں کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گدپور سے مظفرگڑھ فری چلنے والی بس سروس کو تحویل میں لینے کے لیے ایس ایچ او شاہ جمال نواز خان لنڈ بھاری نفری کے ہمراہ گدپور پہنچ گئے اور بس کو اپنی تحویل میں لے تھانہ میں بند کردیا سربراہ پاکستان عوامی راج پارٹی جمشید دستی نے کہا کہ حکومت ائی جی پنجاب اور مظفرگڑھ پولیس بوکھلاہٹ کا شکار ھو گء ھے احتجاج سب کا حق ھے اگر مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ نے ایسی کوئی بزدلانہ حرکت کی تو سخت ردعمل آے گا ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مولانہ فضل الرحمن کے دھرنے کو ناکام بنانے کے لیے بڑی شخصیات کی گرفتاریاں بھی ھوسکتی ہیں جمشید دستی نے کہ حکومتی پالیسیوں اور ناکامیوں کے خلاف احتجاج کرنا اور سڑکوں پہ نکلنا ہر سیاسی جماعت کا قانونی اخلاقی اور آئینی حق ہے انہوں نے کہا کہ اگر میری فری بسیں بند کیگئیں تو سخت ردعمل آے گا ڈی پی او مظفر گڑھ کے ترجمان وسیم خان گوپانگ کے مطابق بس کا نمبر پلیٹ جعلی تھا جس کی پولیس کی مدعیت میں جمشید احمد خان دستی پر ایف آئی آر تھانہ شاہ جمال درج کر لی گئی ہے جبکہ شاہ جمال پولیس نے بس کو زیر دفعہ 550 ضابطہ کے تحت قبضے میں لے لیا. پولیس ترجمان کے مطابق سابق ایم این اے جمشید احمد دستی کی بس نمبری NA-178 کا ریکارڈ چیک کیا گیا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس بس پر لگایا گیا نمبر جعلی ہے نمبر NA-178 کسی گاڑی کا ہے ہی نہیں، جبکہ اس بس کی رجسٹریش بھی نہیں کرائی گئی.جسکی بابت محکمہ ایکسائز کو بھی اطلاع دی جا رہی ہے، قانون سب کیلئے برابر ہے.کسی کو اس سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا، اور جمشید دستی کی طرف سے موجودہ حکومت پر لگائے گئے تمام الزامات حقائق کے بر عکس ہیں۔

امکان

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...