میرا سوہنا شہر قصورنی!

میرا سوہنا شہر قصورنی!
میرا سوہنا شہر قصورنی!

  



قصور برصغیر کا ایک قدیم اور مشہورشہر ہے۔ کہتے ہیں رامائن اور مہا بھارت کی داستانوں میں درج ہے کہ اس دور سے بھی پہلے قُصّو اور لاہُو دو بھائی تھے اور دونوں صاحبانِ شمشیر و قلم تھے۔ بڑے بھائی نے دریائے راوی کے کنارے ایک گاؤں آباد کیا اور دوسرے نے اپنے بڑے بھائی سے زیادہ دور نہ رہنے کی خاطر ایک اور گاؤں بسایا اور دونوں کو اپنے اجداد آریاؤں کی روایات کے مطابق اپنے ناموں سے موسوم کر دیا۔ یہی نام بعد میں کثرتِ استعمال سے قُصّو سے قصور اور لاہو سے لاہور ہو گئے۔

قدیم لاہور کی تاریخ اور اس کی ثقافت پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور اگر دریائے راوی کی طرح کا کوئی اور دریا قصور کے نواح میں بھی بہتا تو قصور کی شہرت بھی لاہور سے کم نہ ہوتی۔ تاہم اس کے باوجود قصور نے برصغیر کی تاریخ و ثقافت میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ یہاں ایسی ہستیوں نے جنم لیا یا اس کو اپنا ٹھکانا بنایاجو مذہب، ادب و فن، روایات و ثقافت اور تاریخ و تہذیب و تمدن کے تناظر میں یکتائے روزگار تھیں۔

تواریخ میں مذکور ہے کہ مغل دور میں حضرت پیر عنائت شاہ کے دو ایسے شاگرد اور مرید بھی تھے جنہوں نے عالمگیر شہرت پائی۔ پیر عنایت شاہ کا مسکن قصور تھا اور وہ آخری عظیم مغل تاجدار اورنگ زیب کی وفات (1707ء) کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ ان مریدوں کا نام سید بلھے شاہ اور سید وارث شاہ تھا۔ کافی برسوں کی ریاضت کے بعد دونوں قصور میں اپنے پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے سید بلھے شاہ نے اپنا کلام سنایا جس میں یہ مصرع آج تک مشہور ہے: ”بلھے شاہ اسیں مرنا نائیں گور پیا کوئی ہور“……یہ کلام سن کر پیر صاحب بڑے محظوظ ہوئے اور دعائیں دیں۔ اور جب سید وارث شاہ کی باری آئی تو انہوں نے ہیر کے چند بند سنائے جنہیں سن کر پیر صاحب نے فرمایا: ”وارث! تم نے بان کی رسی میں ہیرے پرو دیئے ہیں“۔ ان دونوں مریدوں نے پنجابی زبان کے ”بان“ میں واقعی ہیرے جواہر پرو دیئے تھے۔ وارث شاہ جنڈیالہ شیر خان میں مدفون ہیں اور بلھے شاہ کا مزار قصور میں ہے۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے ”شرحِ احوالِ سید وارث شاہ“ نامی ایک مختصر مضمون میں لکھا ہے: ”عہد حاضرہ کے موڑ سے صرف 200سال کے راستے پر اگر واپس پلٹ جائیں تو 1766ء کے دھندلکوں میں اس رہ نورد کا چہرہ تمتماتا نظر آئے گاجسے ہم وارث شاہ کے نام سے یاد کرتے ہیں“…… (ڈاکٹر فقیر کی یہ تحریر چونکہ 50برس پہلے کی ہے اس لئے ہم 200سال کی جگہ 250سال پہلے کا دور یاد کر لیتے ہیں۔)

سید بلھے شاہ سے بھی کئی برس پہلے بابا کمال چشتی، سیالکوٹ سے قصور تشریف لائے۔ اس ضلع کی تحصیل پسرور کا ایک بڑا قصبہ کمال پور چشتیاں انہی کے نام سے موسوم ہے جہاں بابا صاحب نے عمرِ عزیز کا ایک بڑا حصہ تبلیغِ دین میں صرف کیا اور پھر اپنے مرشد کے حکم پر قصور کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کا مزار آج بھی قصورمیں مرجعِ خاص و عام ہے اور اتنی بلندی پر تعمیر ہے کہ پاکستان میں کوئی دوسرا مزار اتنی بلندی پر واقع نہیں۔ان کی ارضی بلندی ان کی روحانی بلندی کے ہم پایہ ہے…… ان کے علاوہ مولانا احمد علی قصوری (خدام دین والے) کو کون نہیں جانتا۔ اور جہاں تک فنونِ لطیفہ کا تعلق ہے تو سرزمینِ قصور اس باب میں بھی مالا مال ہے۔ ملکہ ء ترنم نور جہاں کی ولادت اسی شہر کے ایک محلے (کوٹ مراد خان) میں ہوئی۔ ان کے خاندان کے چند لوگ آج بھی وہاں آباد ہیں۔ ملکہء ترنم نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں مشرقی موسیقی اور گائیکی کی ایک سروقد شخصیت کے طور پر بے مثال ناموری حاصل کی۔

سر شیخ عبدالقادر بیرسٹرایٹ لاء کا تعلق بھی قصور ہی سے تھا۔ جب اقبال 1905ء میں لندن میں بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے گئے تو شیخ عبدالقادر پہلے سے وہیں تھے اور ازراہ اتفاق دونوں ایک ہی مکان میں رہنے لگے۔ وہ بانگ درا کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ”ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا ادارہ مصمم ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے اور جو وقت شاعری میں صرف ہوتا ہے اسے کسی اور مفید کام میں صرف کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں ہے جسے ترک کرنا چاہیے بلکہ ان کے کلام میں وہ تاثیر ہے جس سے ممکن ہے کہ ہماری درماندہ قوم اور ہمارے کم نصیب ملک کے امراض کا علاج ہو سکے۔ اس لئے ایسی مفید خداداد طاقت کو بے کار کرنا درست نہ ہوگا۔شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے، کچھ نہ ہوئے اور یہ قرار پایا کہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر آخری فیصلہ چھوڑا جائے۔ اگر وہ مجھ سے اتفاق کریں تو شیخ صاحب اپنے ارادۂ ترکِ شعر کو بدل دیں اور اگر وہ شیخ صاحب سے اتفاق کریں تو ترکِ شعر اختیار کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علمی دنیا کی خوش قسمتی تھی کہ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاقِ رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لئے شاعری کو چھوڑنا جائز نہیں اور جو وقت وہ اس شغل کی نذر کرتے ہیں وہ ان کے لئے بھی مفید ہے اور ان کے ملک و قوم کے لئے بھی مفید ہے“۔

بانگِ درا 1924ء میں شائع ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ سر شیخ عبدالقادر کا یہ دیباچہ قیامِ پاکستان سے ربع صدی پہلے لکھا گیا تھا۔ سرعبدالقادر قصوری کا یہ احسان کیا کم ہے کہ انہوں نے مفکرِ پاکستان حضرتِ اقبال کو اس راہ پر ڈالا جس سے تخلیقِ پاکستان میں ایک نمایاں مدد ملی۔ یہی وجہ تھی کہ اقبال نے انہی ایام (1908ء) میں لندن سے ”عبدالقدر کے نام“ جو نظم لکھی اس میں کہا:

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افقِ خاور پر

دہر میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں

اس چمن کو سبق آئینِ نمو کا دے کر

قطرۂ شبنمِ بے مایہ کو دریا کر دیں

گرم رکھتا تھا ہمیں سردی ء مغرب میں جو داغ

چیر کر سینہ اسے وقفِ تماشا کر دیں

اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ خاکِ قصور کا احسان پاکستان کی گزشتہ و آئندہ نسلوں کے بچے بچے پر تھا، ہے اور رہے گا کہ اس کے ایک فرزند نے تخلیقِ پاکستان کی تگ و دو میں ایک براہِ راست کردار ادا کیا۔

مواصلاتی اعتبار سے قصور ایک ریلوے جنکشن بھی ہے۔ آج یہاں سے لاہور اور پاک پتن کے لئے الگ الگ ٹریکوں پر ٹرینیں چلتی ہیں لیکن قیام پاکستان سے پہلے اسی جنکشن سے امرتسر اور فیروز پور کے لئے بھی دو الگ الگ ٹریکوں پر دو گاڑیاں چلا کرتی تھیں۔ میرا ننھالی گھر جو کوٹ مراد خان میں تھا وہ قصور ریلوے اسٹیشن سے صرف دو فرلانگ دور تھا اور ہم بچپن میں جب موسم گرما کی تعطیلات گزارنے قصور جاتے تھے تو امرتسر اور فیروزپور جانے والی گاڑیوں کے لئے اس راستے کا پھاٹک اکثر بند رہا کرتا تھا……1965ء کی جنگ میں بھی قصور نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ 6ستمبر کو جب انڈیا نے واہگہ کے راستے لاہور پر حملہ کیا تو میں ان ایام میں قصور میں ہی تھا۔ پاک آرمی میں نے تین سال بعد ستمبر 1968ء میں جوائن کی اور تب مجھے معلوم ہوا کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ، جی او سی انچیف ویسٹرن کمانڈ (انڈین آرمی) اپنے آرمی چیف (جنرل جے این چوہدری) کا حکم مان لیتا اور دریائے بیاس تک پیچھے ہٹ جاتا تو پاکستان کی جوابی یلغار (کاؤنٹرافینسو) جو قصور کھیم کرن محور پر لانچ کی گئی تھی وہ کامیاب ہو جاتی۔ اور کون جانے دلّی پاکستانی فورسز سے کتنی دور رہ جاتی!…… ہربخش سنگھ نے اپنی جو کتاب اس جنگ پر لکھی ہے اس کا نام (War Despatches) ہے اس کو پڑھیئے اور ان تاریخی واقعات کا مطالعہ کیجئے جن میں ایک سکھ جنرل نے اپنے چیف کا حکم نہ مان کر تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا۔

مذہب، تصوف، ثقافت، فنونِ لطیفہ، جنگ و جدال اور مواصلات جیسے اہم موضوعات پر سرزمینِ قصور کا جو احسان ہم پاکستانیوں پر ہے وہ ناقابلِ فراموش ہے۔آج بھی دنیائے سیاسیات کے کئی سربرآوردہ نام اس سرزمین پر موجود ہیں (سردار آصف، احمد رضا اور چودھری منظور کی سیاسی وابستگی سے قطع نظران کے ماضی و حال کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ قصور کی مٹی سے کئی تناور درخت آج بھی پھوٹ پھوٹ کر ملکی سیاسی پیش منظر کی دھوپ چھاؤں کو متاثر کر رہے ہیں!

لیکن آج اسی سرسبز و شاداب ماضی کے حامل شہر قصور کو بعض قصوریوں نے ایک ایسا داغ لگا دیا ہے جو اس کے حال پر ایک سیاہ ترین دھبہ ہے اور جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ بلھے شاہ، بابا کمال چشتی، سر شیخ عبدالقادر، حضرت مولانا احمد علی، ملکہء ترنم اور ان کے علاوہ ماضی و حال کی درجنوں مشہور و معروف شخصیات کو پالنے پوسنے اور اپنی آغوش میں مدفون کرنے والے شہر میں ایسے بدکردار لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں جن کا ذکر کرنا بھی نوکِ قلم کو گوارا نہیں:

حسن زبصرہ، بلال از حبش، صہیب ازروم

زخاکِ مکہ ابو جہل ایں چہ بوالعجبی ست

2015ء میں اسی قصور شہر سے یہ رپورٹ ملی کہ قصور کے ایک گاؤں میں سینکڑوں نابالغ بچوں کی برہنہ تصاویر بنا کر ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ تقریباً 300 وڈیو کلپ اس سلسلے میں جاری کی گئیں۔ کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کی رپورٹ کے مطابق دو درجن سے زیادہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا…… گزشتہ برس ایک چھ سالہ بچی زینب کا کیس تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے میڈیا میں رپورٹ ہوا۔ اس کو ریپ کرکے قتل کیا گیا اور لاش کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی گئی۔ زینب کا معصوم چہرہ آج بھی ساری پاکستانی قوم کے لئے باعثِ ندامت ہے۔ قاتل کو اگرچہ پھانسی دے دی گئی لیکن کوئی بھی صاحبِ دل جب اس دلسوز واقعے کو یاد کرتا ہے تو لرز اٹھتا ہے ……اور چونیاں (ضلع قصور) کا اس سے بھی زیادہ اند و ہناک حادثہ تو کل کی بات ہے۔ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور یہ کیس ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ اس کی تفصیلات میڈیا کی توسط سے پاکستان کے بچے بچے کے علم میں آچکی ہیں اور لوگ انگشت بدنداں ہیں کہ اپنے بیٹوں بیٹیوں کو باہر بازار میں یا سکول بھیجیں یا نہ بھیجیں!

اس سانحے پر پرنٹ میڈیا میں کالم لکھے جا رہے ہیں۔ لیکن آج کے ”نیویارک ٹائمز“ کے صفحہ 8پر ایک پاکستانی کالم نگار(محمد حنیف) کا کالم پڑھ کر دل کی جو کیفیت ہوئی اس کو سنبھالنا تادیر میرے لئے مشکل بنا رہا…… یہ کالم اسی کیفیت کے زیر اثر لکھا گیا ہے۔ سوچتا ہوں کیا میرا شہر قصور آج بھی ”سوہنا“ ہے یا……؟

مزید : رائے /کالم


loading...