راولپنڈی، حیدر آباد میں ڈینگی بے قابو، مزید بیسوں افراد بخار میں مبتلا

راولپنڈی، حیدر آباد میں ڈینگی بے قابو، مزید بیسوں افراد بخار میں مبتلا

  



راولپنڈی،فیصل آباد،حیدرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) راولپنڈی میں ڈینگی کی وبا پر قابو نہیں پایا جا سکا، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 150 شہری ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے۔پنجاب میں راولپنڈی ڈینگی مچھر سے سب سے زیادہ متاثر ہ ضلع بن چکا ہے، ڈینگی کے حملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 150 افراد ڈینگی بخار میں مبتلا ہوچکے ہیں جس سے ڈینگی سے متاثر مریضوں کی تعداد 7 ہزار آٹھ سو 86 ہوچکی ہے۔ڈینگی مچھر کو شکست دینے کے لیے پنجاب حکومت نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی تبدیل کیا تھا اور لاہور سے ڈینگی ایکسپرٹس کی ٹیمیں اور موبائیل ہیلتھ یونٹس بھی راولپنڈی منتقل کردئیے گے تھے لیکن ڈینگی مچھر قابو میں نہیں آرہا، دوسری جانب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پمز میں ایک سے 5اسکیل تک 286خالی پوسٹوں پر بھرتی کا فیصلہ کیا ہے، پمز میں 6 سے 16 گریڈ کی 138 پوسٹوں پربھی بھرتیاں کی جائیں گی۔معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ پمز اسپتال کی 42 پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، پمز اسپتال میں خالی پوسٹوں پرتعیناتی تعطل کا شکار تھی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ افرادی قوت بڑھانے سے پمز اسپتال کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے وعدے کے مطابق شعبہ صحت میں تبدیلیاں لا رہے ہیں، شعبہ صحت میں اصلاحات وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے۔فیصل آبادمیں بھی ڈینگی کے مرض میں مبتلا مزید 3 مریض الائیڈ ہسپتال پہنچ گئے، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی رہائشی انیلہ راولپنڈی میں اپنے عزیزوں کے پاس گئی ہوئی تھی جہاں پر ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے پر اسے الائیڈ ہسپتال داخل کرایا گیا جسے آئیسولیشن وارڈ میں طبی امداد کی فراہمی جاری ہے جبکہ دیگر دو مریضوں میں 35 سالہ امین ساکن شیخوپورہ اور 27 سالہ کاشف شامل ہیں۔ حیدرآبادمیں ڈینگی بخار تیزی سے پھیل رہا ہے، سول ہسپتال دیگر سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بیسیوں مریض زیرعلاج ہیں جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ، بلدیہ اعلیٰ، کنٹونمنٹ بورڈ اور محکمہ صحت سندھ نے ڈینگی کے سدباب کے لئے بروقت مناسب اقدامات نہیں اٹھائے اور اب علاج کے لئے بھی انتظامات ناکافی ہیں۔حیدرآباد میں کچرے کے ڈھیروں اور گٹر اور نالیاں ابلنے سے جگہ جگہ گندہ پانی جمع رہنے کی وجہ سے مچھروں کی بھرمار ہے،بلدیہ اعلیٰ اور ضلعی انتظامیہ نے مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لئے بر وقت اسپرے کا انتظام نہیں کیا، کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر قبضہ وسیع گراؤنڈ عید کے ایام سے بارش کے پانی سے بھرے ہوئے ہیں، ملیریا عام ہو رہا ہے۔ سول ہسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کے لئے شعبے میں صرف  8 بستروں کی گنجائش ہے جبکہ ڈیڑ ھ درجن کے قریب مریض داخل ہیں جن کے لئے عارضی اضافی انتظام کیا گیا ہے،بھٹائی ہسپتال پریٹ آباد اور قاسم آباد گورنمنٹ ہسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لئے کوئی خصوصی انتظام نہیں،خصوصاًبخار ملیریا ہے،ٹائیفائڈ یا ڈینگی ہے اس کی تشخیص کے مناسب انتظامات نہیں جبکہ علاج اور ادویہ کی سہولتوں کی دستیابی تو بعد کی بات ہے،اس لئے سینکڑوں مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈینگی

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...