کوہستان با با مزار فائرنگ واقعہ پر سجاد نشینوں کا دھرنا دینے کا اعلان 

کوہستان با با مزار فائرنگ واقعہ پر سجاد نشینوں کا دھرنا دینے کا اعلان 

  



چارسدہ (بیورو رپورٹ)کوہستان بابا کے مزار پر فائرنگ میں ملوث دہشت گردوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سجادہ نشینوں نے اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ 15دن گزرنے کے باوجود ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری ریاستی اداروں کی ناکامی ہے۔ مزاروں اور خانقاہوں پر دہشت گردوں کے دن دہاڑے حملے مذہبی حلقوں کے جذبات سے کھلواڑ ہے۔ اس حوالے سے کوہستان بابا جی کے مزار کے احاطے میں سجادہ نشین سید غلام جیلا نی بر خودار سید نور علی شاہ نے چارسدہ کے دیگر اولیائے کرام اور مزارات کے سجادہ نشینوں،سجادہ نشین الحاج فضل رحیم باچا، سجادہ نشین،شاہ باچا، مسجد قاسم شاہ خلیفہ الحاج محمد آمین چارسدہ بازار،سجادہ نشین رحم داد خان خافظ گل بابا، سجادہ نشین محمد گل انبار مادوند باجوڑ، سجادہ نشین لعل باچا ڈھکی،خلیفہ محفوظ اللہ اور مولانا طیب اللہ اور دیگر عقید تمند وں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ وہ اور انکے والد محترم پشت درپشت سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہے اور آل رسول اللہﷺ ہے۔ وہ پیر بابا بونیر کے نواسے اور سلسلہ چشتیہ صابری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ حضرات خواجہ گان معین الدین چشتی اجمیر شریف و بابا فرید الدین گنج شکر پارک تونسہ شریف حلقہ سے وابستہ ہیں۔ معروف بزرگ اولیاء کرام حضرت دیشانو با باجیؒ اور حضرت پیر با باؒ کے مرید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ میں گزشتہ 60 سال سے دین اسلام کا فیض پھیلا رہے ہیں اور عام مسلمانوں کی روخانی و باطنی اصلاح کرنے، ذکر وسماع کے محافل سجانے، اللہ اور اسکے رسول ؐ سے قلبی تعلق قائم کرنے اور رشدو ہدایت کا عظیم فریضہ سر انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔ ہمارا کسی کیساتھ کوئی دشمنی،عداوت نہیں ہے اور نہ ہی کسی سے دشمنی کا تصور بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 ستمبر 2019 کو صبح ساڑھے تین بجے نامعلوم دہشت گرد، سماج دشمن اور پاکستان میں امن کی فضاء تباہ کرنے والے عناصر نے معروف بزرگ اور میرے والد محترم مرحوم حضرت نور علی شاہؒ المعروف کو ہستان بابا جی رجڑ چارسدہ کے مزار شریف پر اندھا دھند اور بے تخاشہ فائرنگ کرکے دربار کے مرکزی دروازے اور گنبد شریف کو شہید کیا جبکہ فائرنگ سے وہ دونوں بال بال بچ گئے۔ انہو ں نے کہا کہ اس حوالے سے تھانہ سٹی چارسدہ  میں رپورٹ در ج کیا گیا جس پر پولیس نے آکر مزار شریف کا معائنہ کیا اور تفتیش شرو ع کردی ہے۔ حضرت کوہستان باباجیؒ کے مزر پر جن دہشت گرد عناصر نے فائرنگ کی ہے و ہ اصل میں اللہ اور رسول ؐکے دشمن ہیں اور چارسدہ میں امن کی فضاء خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزار مبارک پر حملے کے حوالے سے وہ چارسدہ پولیس کی کار کر دگی سے مطمئن ہے اور اس حوالے سے ڈی پی او عرفان اللہ خان، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن سعید خان، ایس ایچ او تھانہ سٹی جوہر شید کی کوششیں لائق تحسین ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، آرمی چیف جنرل باجوہ، چیف جسٹس، وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ سے پروزور مطالبہ کیا کہ امن وآشتی کا سرچشمہ کوہستان بابا جی کے مزار شریف پر فائرنگ واقعہ کی مکمل انکوائری اور تفتیش کرکے ملوث مجرمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور انکو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزادی جائے بصورت دیگر صوبہ بھر اور پاکستان کے تمام خانقاہوں،اولیاء کرام کے سجادہ نشین اور خلفاء،نقشبندی اور سروردی خاندانوں سے باہمی مشاورت کے بعد وہ ہزاروں عقیدت مندوں کیساتھ وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...