کوھاٹ ریڈیو سٹیشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا 

کوھاٹ ریڈیو سٹیشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا 

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ ریڈیو سٹیشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا سٹیشن ڈائریکٹر 3 سال سے خود ساختہ ضلع بدر ہے ایک پروڈیوسر 14 سال سے سیاہ و سفید کا مالک ہے ایک عشرے سے کوئی تخلیقی پروگرام شروع نہ ہو سکا نیوز سیکشن کا پروڈیوسر 9 سال سے نہیں ہے سالانہ 23 لاکھ پروگ اور بجٹ آتا ہے مگر صدا کار مہینوں اعزازیئے سے محروم ہیں تفصیلات کے مطابق کوھاٹ ریڈیو FM101.4 بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے سالانہ تقریباً ڈھائی ملین روپے گرانٹ پروگراموں کے لیے آتا ہے مگر سٹیشن ڈائریکٹر روز اول سے قابض پروڈیوسر اور اکاؤنٹنٹ کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر خرد برد ہو رہی ہے اور صدا کاروں کو مہینوں تک اپنا اعزازیہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے تمام سینئر صدا کار ریڈیو ڈیوٹی چھوڑ کر مایوس ہو چکے ہیں صرف گنتی کے چند صدا کار ہی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ سٹیشن ڈائریکٹر گزشتہ تین سال سے کوھاٹ میں تعینات ہے مگر وہ صرف ہر یکم تاریخ کو آ کر تنخواہ وصول کرتا ہے باقی پورا مہینہ پشاور میں اپنے گھر میں چارپائیاں توڑتا ہے ان کی ساری ذمہ داریاں ایک ایسے پروڈیوسر نے سنبھالی ہے جو گزشتہ 14 سال سے یہاں براجمان ہیں اور تمام سیادہ اور سفید کا مالک ہے نیوز سیکشن جو کہ سب سے اہم شعبہ ہے اس کا کوئی پروڈیوسر موجود ہی نہیں ہے سارے نیوز سیکشن کا انچارج افتخار نامی صدا کار ہے جو کہ SD کا چہیتا ہے اور موصوف کا صحافت یا نیوز سے سو کلومیٹر تک بھی کوئی واسطہ غرض نہیں ہے انجینئرنگ کے شعبے میں بظاہر تو چھ افراد موجود ہیں مگر کام صرف صبح کے شفٹ میں دو سب انجینئرز ہی کرتے ہیں باقی انجینئرز کو اپنے چوکیدار بھی نہیں پہچانتے ان میں دو افراد دل کے مریض جبکہ دو دماغی مریض ہیں 14 گھنٹے مسلسل نشریات چلانے کے لیے کم از کم چھ صحت مند اور فرض شناس انجینئرز کی ضرورت ہے کوھاٹ ریڈیو سٹیشن میں پانچ AMA مالی‘ نائب قاصد سمیت ایک سویپر ہے مگر ان تمام کو اپنے کام سے غرض نہیں ہے اور نہ ہی ان کی سٹیشن میں کوئی ضرورت ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سینئر براڈ کاسٹر جہانزیب گزشتہ 3 سال سے یہاں تعینات ہے مگر وہ کبھی بھی ڈیوٹی پر نہیں آیا ہے سٹیشن ڈائریکٹر نے ان سے کبھی پوچھا تک نہیں کہ موصوف کے تین سال سے غیر حاضری کی وجہ کیا ہے باخبر ذرائع کے مطابق موصوف کی تنخواہ 1 لاکھ 30 ہزار روپے سے زائد ہے اندرونی ذرائع کے مطابق چونکہ یہ سٹیشن کمیونٹی بیس ہے اس لیے اس کو چلانے کے لیے ایک ایسی مشاورتی کمیٹی ہونی چاہیے جس میں ایک صحافی اور دو افسران سمیت دانشور ہوں تاکہ پروگراموں میں بہتری لائی جا سکے یہ کمیٹی صرف کاغذات تک محدود ہے اور گزشتہ 10 سال سے اس کا اجلاس نہیں بلایا گیا ہے ضلع کوھاٹ کے سماجی تنظیموں‘ صدا کاروں‘ فنکاروں‘ ہنر مندوں اور گلوکاروں نے وفاقی وزیر سیفران شہریار آفریدی اور سینٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز سے مطالبہ کیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کوھاٹ کی حالت بہتر بنانے کے لیے محکمہ ریلویز کے پاس موجود خالی بلڈنگ میں اس سٹیشن کو شفٹ کیا جائے فوری طور پر سٹیشن ڈائریکٹر مجید بلوچ‘ پروڈیوسر جاوید آفریدی اور SB جہانزیب کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے تبدیل کیا جائے اور یہاں پر ایماندار‘ فرض شناس اور خدا ترس سٹاف کو تعینات کیا جائے واضح رہے کہ سٹیشن کے قیام کے ساتھ ہی سال 2005 میں جب معروف براڈ کاسٹر لائق زادہ لائق سٹیشن ڈائریکٹر بن کر کوھاٹ آئے تھے تو بہت سارے تخلیقی پروگرامز شروع کیے گئے تھے مگر ان کے بعد اکثر لوکل پروگرام بند ہیں اور گزشتہ دس سالوں سے نئے صدا کاروں کے لیے کوئی آڈیشن تک نہیں ہوا ہے۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر