افسروں اور نجی کمپنی کا گٹھ جوڑ، وزارت آبی وسائل میں 136ارب کی کرپشن کا انکشاف، فیصل واوڈا نے چپ سادھ لی 

  افسروں اور نجی کمپنی کا گٹھ جوڑ، وزارت آبی وسائل میں 136ارب کی کرپشن کا ...

  



اسلام آباد(آن لائن) وزارت آبی وسائل میں گزشتہ سال136ارب روپے کی کرپشن اور مالی بدعنوانی کے واقعات رونما ہوئے ہیں تاہم اربوں روپے لوٹنے والے کسی نوسرباز افسر کو نہ کوئی گرفتار کر رکھا ہے اور نہ کوئی پوچھ گچھ ہو رہی ہے، گزشتہ مالی سال میں ہونے والی مبینہ کرپشن اور قومی فنڈز کی لوٹ مار بارے تجزیاتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کئی گئی ہے تاکہ پارلیمنٹرین اس مبینہ کرپشن کا نوٹس لے سکیں۔ رپورٹ کے اقتباسات کے مطابق وزارت آبی وسائل کے کرپٹ افسران نے50منصوبوں میں من پسند ٹھیکہ داروں اور کمپنیوں کو34ارب 70کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کر رکھی ہے، جن کو اب غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے، افسران نے من پسند کمپنیوں کو اربوں روپے کی ادائیگی کرتے وقت مجوزہ قواعد وضوابطہ کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ افسران نے ذاتی مفادات کیلئے منصوبوں میں مبینہ13کروڑ روپے کے فنڈز لوٹ رکھے ہیں جبکہ وزارت کے اندر مالی نظم وضبط کی کمزوری کے باعث متعلقہ اعلیٰ افسران 22ارب45کروڑ روپے کی لوٹ مار کر رکھی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسران نے15منصوبوں میں من پسند کمپنیوں کو مجموعی طور پر 7ارب 67کروڑ روپے کی زائد ادائیگی کی تھیں، جو کہ کمپنیوں سے تحقیقاتی اداروں کے حکم پر ریکوری کر لی گئی ہے لیکن ذمہ دار افسران کو کوئی سزا نہیں دی گئی ہے، عمران خان کے دور حکومت میں جنوری2018ء سے دسمبر2018تک کرپٹ افسران اور کمپنیوں سے1ارب 24کروڑ روپے کی ریکوری کئی گئی ہے جبکہ مکمل ریکوریاں 6ارب37کروڑ تھیں جو ہونا باقی ہے، رپورٹ کے مطابق کچھی کنال منصوبہ میں 1ارب 63کروڑ روپے کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی ہے، دادوڈیم کے نام سے43کروڑ کی کرپشن کئی گئی ہے جبکہ واپڈا کے حکام منصوبہ کی گاڑیاں نیلام کرنے کی بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، اس حوالے سے وزارت آبی وسائل کے ترجمان مکمل خاموش ہیں جبکہ وفاقی وزیر فیصل واڈا نے بھی اپنی وزارت سے کرپشن ختم کرنے کی بجائے مکمل چپ سادھ لی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...